ولادی میر پیوٹن

کیا روس کے مرد آہن کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ ہے؟

EjazNews

گزشتہ 21برس سے مسلسل برسر اقتدارولادی میر پیوٹن کے مدمقابل دور دور تک کوئی نہیں ہے اور ولادی میر پیوٹن کے بغیر روس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ سوچ روس میں ہونے والے مظاہروں سے پہلے کی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے بعد یہ سوچ بدلتا جارہی ہے۔ ماسکو میں اپوزیشن کی جانب سے ریلی بھی نکالی گی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ پلے کارڈ اٹھائے ، جن میں سے متعدد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔
اگر ہم ولادی میر پیوٹن کے 21سالہ اقتدار کا جائزہ لیں تو ولادی میر پیوٹن نے روس کو ایک عالمی طاقت کے طور پر منوا لیا ہے۔ پیوٹن کے دَور میں رُوس ایک مرتبہ پھر ایک بڑی طاقت کے رُوپ میں سامنے آیا، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماسکو آج اُن تمام خطوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جہاں وہ سوویت یونین کے انتشار کے بعد بے اثر ہو کر رہ گیا تھا۔ مثال کے طور پر رُوس نے یوکرین کے معاملے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے یورپ اور امریکہ کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ شام میں بشار الا سد کو فتح دلا کر مشرق وسطیٰ میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی۔اسی طرح ماسکو ٹیکنالوجی کے میدان میں اس حد تک پیش رفت کر چکا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں اس کی مداخلت کا ذکر عام تھا اور اپنے تیل و گیس کے لامحدود ذخائر کی وجہ سے اسے ایک بڑی اقتصادی طاقت بھی گردانا جاتا ہے۔ اگر فوجی طاقت کے لحاظ سے دیکھا جائے، تو امریکہ کے بعد سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار رُوس کے پاس ہیں اور رُوسی فوج کا شمار دُنیا کی بڑی افواج میں ہوتا ہے اور اگر ان سب کا سہرا رُوسی صدر، پیوٹن کے سَر باندھا جائے، تو یہ مبالغہ آرائی نہ ہو گی۔

Russa man Arrest
احتجاجی مظاہرین کو گرفتار کیا جارہا ہے

رُوس میں کثیر الجماعتی سیاسی نظام رائج ہے۔ رُوسی پارلیمنٹ کو ’’ڈوما‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے 450ارکان ہیں، الیکسی کونوانی ہی کو اپوزیشن کا مرکزی امیدوار سمجھا جاتا تھا، جن پر عائد متعدد مقدّمات کی وجہ سے رُوسی الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دئیے تھے ۔کونوانی، اینٹی کرپشن بلاگر کے طور پر شُہرت رکھتے ہیں اور پیوٹن کے زبردست ناقد ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے مُلک میں آمریت قائم کر رکھی ہے اور وہ اقتدار میں آ کر اسے جمہوریت میں بدل دیں گے۔ وہ پیوٹن کی اقتصادی حکمت عملی کو ملکی تباہی کا باعث بتاتے ہیں۔ کونوانی نے ایک اپوزیشن نیٹ ورک بھی قائم رکھا ہے جو مظاہروں کے علاوہ کوئی نتیجہ خیز کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ رُوس میں صدر کے عہدے کی مُدت 6سال ہے اور کوئی بھی فرد مسلسل دو مرتبہ سے زیادہ صدارت کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے 20سالہ دور اقتدار میں پیوٹن ایک مرتبہ وزیر اعظم بھی بنے۔
سوویت یونین کے انتشار کے باوجود بھی روس رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ ایک کروڑ 70لاکھ مربّع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں یورپ اور ایشیا کے14ممالک سے ملتی ہیں، جن میں ناروے، افغانستان، آذر بائیجان، چین اور شمالی کوریا جیسے ممالک شامل ہیں، جبکہ سمندر کے ذریعے یہ جاپان اور امریکہ سے بھی منسلک ہے۔ روس کے9ٹائم زونز ہیں اور آبادی کے اعتبار سے اس کا شمار دُنیا کے14بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 18ویں صدی میں رُوسی سلطنت کو ایک عظیم طاقت کا درجہ حاصل تھا اور 20ویں صدی کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد سوویت یونین سُپر پاور بن گیا۔ رُوس کی 80فیصد آبادی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور یہ ہمیشہ ہی سے ایک توسیع پسند مُلک رہاہے۔ اپنی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد سوویت یونین نے وسطی ایشیا کی تمام اسلامی ریاستوں پر بزورشمشیر قبضہ کر لیا اور مشرقی یورپ کی اکثر ریاستوں کو بھی فوجی طاقت کے بَل پر اپنی عمل داری میں شامل کر لیا۔ رُوس میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں، جن کی آبادی کا تناسب 6.5فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حافظ سعید کی گرفتاری میرے 2سالہ دباﺅ کا نتیجہ ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
روس کا خوبصورت منظر

روس کو آج بھی سب سے زیادہ خطرہ علیحدہ ہونے والے اسلامی ممالک کی اُن تنظیموں سے ہے کہ جو اس سے انتقام لینے پر تلی ہوئی ہیں اور ان کی اس جدوجہد کو ’’دہشت گردی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس وقت رُوس، تیل اور گیس کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ طرز حکومت کے اعتبار سے رُوس کے تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔1547ء سے 1917ء تک بادشاہت کا زمانہ، جسے ’’دور زار‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 1917ء سے 1991ء تک سوویت یونین کا دَور اور اس کے بعد تا حال رشین فیڈریشن۔ رُوسی افواج کی تعداد10لاکھ سے زائد ہے اور امریکہ کے بعد یہ واحد مُلک ہے کہ جس کے پاس اسٹرٹیجک بم بار فورس موجود ہے، جبکہ اس کی ٹینک فورس دُنیا میں سب سے بڑی ہے۔
2024ء پیوٹن رُوس کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ اپنے دور اقتدار میں پیوٹن نے مُلک کی کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کو اپنا نعم البدل نہیں بننے دیا۔ 66سالہ وِلادی میر پیوٹن مشرقی جرمنی میں پیدا ہوئے اور جرمن زبان بولتے ہیں۔ دور جوانی میں سوویت انٹیلی جینس ایجینسی، کے جی بی سے وابستہ رہے، جسے کمیونسٹ پارٹی کا سب سے طاقتور بازو سمجھا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق، سوویت یونین کے بکھرنے کی دو بنیادی وجوہ تھیں۔ اقتصادی بدحالی اور وہاں چلنے والی آزادی کی تحاریک، جنہیں افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد اس وقت کے رُوسی صدر، گوربا چوف نے ’’پرسٹرائیکا‘‘ یا معاشرے کو کُھلا بنانے کی تحریک کا نام دیا تھا اور نتیجتاً رُوس میں خفیہ اداروں کی گرفت کمزور پڑ گئی تھی۔ اس موقع پر پیوٹن نے، جو کمیونزم کے سرگرم اور پُرجوش حامی ہونے کے ساتھ ہی کے جی بی کے ایک اہم رُکن بھی تھے، سوویت یونین کے انتشار اور مُلک میں رُونما ہونے والی تبدیلیوں کو خفیہ اداروں کی کمزوری سمجھا اور موقع ملتے ہی سوویت یونین کی عظمت رفتہ بحال کرنے کا عزم کیا، جس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے مشرقی جرمنی کے شہر، ڈریسڈن میں واقع، کے جی بی کے دفتر کو گھیرے میں لے لیا۔ تب دفتر میں دیگر اہل کاروں کے ساتھ پیوٹن بھی موجود تھے اور ان کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ پیوٹن اور اُن کے ساتھیوں نے ٹینک آفیسر کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اُن پر گولہ باری کا حُکم دیا، لیکن اُس نے جواب دیا کہ ماسکو میں موجود ہیڈ کوارٹر کے حُکم کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ کچھ دیر بعد جوب آیا کہ ’’ماسکو خاموش ہے۔‘‘ یہ جملہ پیوٹن کے دِل میں کانٹے کی طرح پیوست ہو گیا اور انہوں نے اسے قومی کمزوری کی علامت جانا۔اس کے بعد انہوں نے ماسکو کی اس خاموشی کو طاقتور روس کے ذریعے توڑنے کا فیصلہ کیا، جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ پیوٹن نے اپنے دَور میں جارجیا میں فوج کَشی کی اور 2014ء میں یورپ کے ساتھ یوکرین کے تنازع پر کریمیا پر قبضہ کر کے اسے رُوس کا حصّہ بنایا، جو مغربی طاقتوں کی علامتی شکست اور رُوس کی طاقت کا برملا اظہار تھا۔ تاہم، امریکہ اور یورپ نے اس پر کھلے عام کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا، جس کے سبب پیوٹن ایک مردِ آہن کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے اور عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی انہیں ’’ماچو مین‘‘ کے طور پر پیش کیا اور شاید ٹرمپ کا امریکہ میں برسرِ اقتدار آنا بھی اسی کا ردِ عمل ہے۔ پھر رُوسی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں اپنی افواج اُتارنے کا فیصلہ کیا اور رُوسی فضائیہ نے جارحانہ بمباری کر کے شامی اپوزیشن کو کچل کر رکھ دیا، جسے دُنیا کے سامنے داعش کے خلاف فتح کے طور پیش کیا گیا۔ شام میں رُوسی مداخلت کے نتیجے میں بشار الاسد ہاری ہوئی بازی جیت گئے اور رُوس ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ میں متحرک ہو گیا، جس کا اندازہ اس اَمر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے خلاف بنائی گئی، نیٹو کے شمالی دروازے کا محافظ، تُرکی بھی اس سے پینگیں بڑھا رہا ہے اور تُرک صدر، طیّب اردوان، جو کچھ عرصہ قبل تک بشار الاسد کی برطرفی پر مصر تھے، آج شامی صدر کے اقتدار کو طول دینے سمیت مسئلہ شام کے کسی بھی پُر امن حل پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شام میں تُرک پیش قدمی کو رُوس کی حمایت نہیں تو کم از کم رضا مندی ضرور حاصل ہے۔ دوسری جانب پیوٹن کی زیرِ قیادت رُوس، افغانستان میں بھی سفارتی سطح پر فعال ہو رہا ہے۔ اس خطے میں پاکستان سے ماسکو کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں، جبکہ بھارت اس کا گہرا دوست اور تاریخی حلیف ہے۔ چین کے ساتھ بھی رُوس کے تعلقات دوستانہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالرز مالیت کی گیس پائپ لائنز بچھائی جارہی ہیں۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ سویت یونین کے انتشار کے بعد پیوٹن نے رُوس کا اعتماد بحال کر دیا ہے۔ ہر چند کہ ماسکو ایک سپرپاور نہیں، لیکن دُنیا کی ایک بڑی طاقت ضرور ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین اور شام میں رُوس کی فوجی مداخلت کو ناجائز تصوّر نہیں کیا گیا، جس میں امریکہ مخالف جذبات کا بھی بڑا کردار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ رُوس کو ایک بڑی طاقت بنانے میں اس کی فروغ پذیر معیشت نے بھی اہم کردار ادا کیا، جس کا منبع قدرتی وسائل کا غیر معمولی ذخیرہ ہے۔ پیوٹن نے قدرت کے اس عطیے کو اقوامِ عالم میں روس کا قد بلند کرنے کے لیے نہایت دانشمندی سے استعمال کیا۔ اسی طرح پیوٹن نے دیگر محاذوں پر بھی اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ مثال کے طور پر جب سابق امریکی صدر، جارج ڈبلیو بُش نے پولینڈ میں اینٹی میزائل سسٹم نصب کر نے کا منصوبہ بنایا، تو ماسکو نے فوراً لینن گراڈ میں اپنا میزائل سسٹم نصب کر دیا اور بش کے جانشین، باراک اوباما کو اپنے میزائل منصوبے پر پسپائی اختیار کر نا پڑی، جسے اُمورِ خارجہ و دِفاع میں پیوٹن کی ایک بڑی فتح قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ 2006ء میں رُوس نے یوکرین کے تنازع پر یورپ کو تیل و گیس کی رسد روکنے کی دھمکی دے کر خاصا پریشان کر دیا تھا اور یہ بھی معیشت کو سفارتی دبائو کے طور پر استعمال کرنے میں اُن کی بڑی کامیابی تھی، جس پر انہوں نے کریمیا پر فوجی قبضہ کر کے مُہر ثبت کر دی۔
ان سب کامیابیوں کے باوجود اپوزیشن نے پیوٹن کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں 3ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی ۔ احتجاج کے دوران متعدد مظاہرین نے وسطی ماسکو میں کئی سڑکوں کو بلاک کرن ے کی کوشش بھی کی لیکن پولیس نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ جن لوگوں نے مظاہرے کیے ان میں سے 1ہزار سے زائد افراد کو مختلف جرائم میں گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانس میں ییلوجیکٹ والوں کے مظاہر ے جاری