Space souit

کیا آپ جانتے ہیں خلائی سوٹ کتنے پیسوں میں بنتا ہے؟

EjazNews

1981ءمیں ناسا نے خلاءبازوں کے لیے ایک مخصوص لباس تیار کیا۔ یہ ڈیزائن 15سال کی مدت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ 15سال کے بعد اس میں مزید تبدیلیاں تجویز کی گئیں تھیں۔ بعض ماہرین کے مطابق بجلیوں کی روشنی میں ڈیزائن کو بہتر بنایا جانا تھا۔ ہماری طرح اس لباس کی مرمت ممکن نہیں اور اب ان کی مدت ختم ہو چکی ہے ۔ 1981میں 15سال شامل کریں تو یہ 1996ءمیں ان کی معیاد ختم ہو چکی۔ 2013ءمیں ایک خلاباز کے سوٹ میں خرابی پیدا ہو گئی جس سے اس کے لیے بہت مشکلات پیدا ہو گئیں ۔پہلے اطالوی اسٹناناسٹ لوکا پرمی ٹانو کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب پانی سپلائی کرنے والے یونٹ میں سراخ ہو گیا اور پانی سانس کی نالی میں داخل ہو گیا جس سے اس کے ہیلمنٹ میں پانی بھر گیا۔ قریب تھا کہ گھٹن سے وہ مرجاتا لیکن اس نے ہیملنٹ اتار کر اپنی جان بچائی۔ بعدازاں لیو کا پرمی تانو کو زمین پر اتار لیا گیا۔ اور اسے فوری طور پر تمام کور خلائی لباس فوری طور پر اتار لیا گیا ۔
گزشتہ چند سالوں میں ناسا میں پانی لیک کرنے کے مزید دو واقعات ہوئے ہیں اب 18میں سے 11خلائی سوٹوں کو درست پایا گیا ہے۔ ناسا 2024ءتک درجنوں خلا بازوں کو خلا میں بھیجنا چاہتا ہے۔ خلائی میں جدید ترین تحقیق کے لیے یہ سپیس سٹیشن میں طویل ترین رہیں گے۔ اب ناسا کے پاس صرف 11خلائی سوٹ ہیں اور ان کی معیاد کے بار ے میں بھی ٹھیک طریقے سے نہیں کہا جاسکتا۔
خلائی سوٹ دو چار ہزار روپے کا تو بنتا نہیں پچھلے عشروں میں ناسا نے 20کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے ۔پاکستانی کرنسی میں یہ 22ارب سے زائد روپے بنتے ہیں یہ رقم ناقابل برداشت ہے۔ ناسا کے وسائل اتنی مہنگی تحقیق کی اور مہنگے سوٹوں کی تیاری کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر وہ سوٹوں پر تحقیق کرتا ہے تو خلائی مشن کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ ناسا نے اس سلسلے میں 3منصوبے ترتیب دئیے۔ ایک منصوبے کی لاگت 16کروڑ ڈالر ، دوسرے کی5کروڑ ڈالر اور تیسرے کی سوا کروڑ ڈالر تھی۔ لیکن ان میں سے ایک منصوبے کو بھی ضروری فنڈز نہیں دئیے گئے۔ ان تینوں پراجیکٹس کا مقصد خلا بازوں کی جان بچانا تھا۔ اسی مناسب سے اس پراجیکٹ کو orin crew survival systemکا نام دیا گیا۔ اب ناسا پر جدید ترین سوٹوں کی تیاری کا دباﺅ بڑھتا جارہا ہے۔ 2020ءقریب آرہا ہے جب وہ خلا میں انتہائی اہم مشن بھیجے گی۔ خلا بازوں کی جان بچانا اس کے مشن کا حصہ ہے دیکھتے ہیں کہ وہ اس مشن کو کیسے پورا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سائنسدانوں کو انڈونیشیا کی غار سے 44ہزار سال پرانی پینٹنگ دریافت