China-artificial-sun

چین نومبر میں مصنوعی سورج بنا لے گا

EjazNews

چین میں 2016ءمیں مصنوعی سورج کیلئے تجربات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔چین میں سائنسدانوں نے مصنوعی سورج کی تیاری میں کچھ حد تک اس وقت کامیابی بھی حاصل کر لی تھی۔ چین کی اکیڈیمی آف سائنس ہائفے انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل سائنس کے شعبے میں مصنوعی سوجین کے ذریعے تیزشعاعیں پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔پلس پلاسی کی مدد سے پچاس کروڑ ڈگری کا عمل حاصل کر لیا گیا ،لیکن یہ عمل 102سیکنڈ تک جاری رہا،قبل ازیں چند سیکنڈوں کے لیے پچاس کروڑ ڈگری کے لیے درجہ حرارت رہا۔ چین کے سائنسدان یو جی نان کے مطابق مصنوعی سورج کی روشنی اور حرارت ہائیڈروجن فیملی کے دورکن ٹریٹیم اور دوسری ڈیو ٹیریم سے حاصل ہوتی ہے۔ انہیں فیوجن پراسیس کے ذریعے ہیلیم کے ایٹم میں شامل کرنے سے توانائی کا اخراج جنم لیتا ہے۔ مصنوعی سورج کے اندر اس پراسیس کو مکمل کیا جاتاہے۔ چین کی اکیڈیمی برائے انجینئرنگ فزکس کے اندر ان تجربات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ چین نے ہی شنگھائی انسٹی ٹیوٹ آف آپٹ اینڈ فائن نے فیوژن میں مزید پیش رفت کی ہے۔ یہاں کے ایک محقق یو کے مطابق چین میں فیوژن کے ایک اور عمل سے ایک کروڑ ایم پیر میں بجلی کی پیداوار حاصل کی گئی۔ ایک سیکنڈ کے دس ملین وے حصے میں بجلی کی پیداوار بیس کھرب واٹ تک پہنچ گئی۔ بجلی کی اتنی مقدار دنیا بھر میں پیدا ہونے والی بجلی سے دگنی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تجربات کی کامیابی کے بعد سولرانرجی کے علاوہ بجلی کے جدید طریقوں سے تیاری میںکامیابی حاصل ہوگی جس سے دنیا بھر میں سستی ترین بجلی ممکن ہو گی۔چین کے سائنسدانوں کے اعلان کے مطابق نومبر 2019ءمیں یہ سورج ٹیکنیکل طور پر کام شروع کر دے گا۔ شاید پاکستان میں آنے والی نسلوں کی لوڈ شیڈنگ سے جان چھوٹ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  بال سفید کیوں ہوتے ہیں؟