مقصود سعی

سعی و مقصود سعی

EjazNews

طواف قدوم سے فارغ ہو کرسعی کرنے کے لئے باب الصفا سے باہرآﺅ اور مسجدحرام سےنکلتے وقت وہی دعائیں پڑھو جو عام مسجدوں سے نکلتے وقت پڑھتے ہو اس کے لئے کوئی خاص دعا حدیث مرفوع میں میری نظر سے نہیں گزری ہے۔ سعی کے مسائل اور ترکیب بیان کرنے سے پہلے سعی کی جگہ صفا و مروہ اور سعی کی وجہ وفضیلت وغیرہ ذیل میں بیان کی جاتی ہے تاکہ اس کی حقیقت پوری طرح تمہارے سامنے آجائے۔ صفا، مروہ دو پہاڑیوں کے نام ہیں۔ صفا بیت اللہ سے جنوب کی طرف اور مروہ شمال کی طرف واقع ہے۔ اب ان پہاڑیوں پر چڑھنے کے لئے سیڑھیاں بنا دی گئی ہیں ۔ پہاڑیوں کا معمولی سا نشان باقی ہے۔ قرآن مجید میں ان دونوں پہاڑیوں کا اس طرح بیان آیا ہے:
ترجمہ: یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا تو اس پر صفا و مروہ کے درمیان طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور جس نے خوش سے کار خیر کیا تو اللہ اس کی قدر کرنے والا اور جاننے والا ہے۔
اسی صفا و مروہ کے درمیان سعی کی جاتی ہے جس کی ابتداءتاریخ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کے حکم کے بموجب حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضر ہاجرہ ؓ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ کر چلے گئے اور حضرت ہاجرہ ؓ کے مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا تو پیاس کی وجہ سے ان کے شیر خوار صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جان بلب ہوگئے۔ حضرت عاجرہ ؓ سے یہ حالت نہ دیکھی گئی وہ پانی کی تلاش میں کوہ صفا پر تشریف لے گئیں۔ اس خیال سے کہ شاید وہاں پانی مل جائے مگر پانی نہیں ملا تو وہاں سے اتر کر مروہ پہاڑی کی طرف چلیں اور بچے کو دیکھتی جاتی ۔ جب تک بچہ نظرآتا رہا تھا، تو آہستہ آہستہ چلیں نشیب میں پہنچنے کی وجہ سے جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو دوڑنا شروع کیا جب اونچی جگہ آئیں اور بچہ نظر آنے لگا تو پھر آہستہ آہستہ چلنے لگیں۔ یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پرپہنچ گئیں وہاں ادھر ادھر پانی تلاش کیا مگر کہیں پانی کا نام و نشان تک نہیں ملا۔ مجبوراً وہاں سے صفا پہاڑی کی طرف واپس آئیں۔ اسی طرح سات پھیرے کئے بچے کے پاس اس لئے نہیں جاتی تھیں کہ اس کی تکلیف نہ دیکھی جاتی تھی۔
اور پانی کی تلاش بھی ضروری تھی اور ان دونوں پہاڑیوں سے دور اس لئے نہیں جاتی تھیں کہ بچے سے زیادہ دوری مناسب نہیں ہے۔ بہر حال اس پانی کی تلاش میں برابر چکر لگاتی رہیں کہ شاید پانی مل جائے یا کوئی آدمی نظر آجائے جب پوری سات پھیرے ہوچکے تو ایک غیبی آواز سنائی دی غور سے دیکھا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے انہوں نے اپنا پاﺅں یا پر زمین پر مارا تو وہاں سے پانی کا چشمہ نمودار ہوگیا۔ حضرت ہاجرہ ؓ دوڑی ہوئی آئیں آکر خود پانی پیا بچے کو پلایا ۔ اور اس چشمہ کے ارد گرد منڈیر بنا دی تاکہ پانی بہہ نہ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر حضر ت ہاجرہ ؓ منڈیر نہ بناتیں تو یہ بہتا ہوا دریا ہو جاتا۔ (بخاری) اس پانی کا نام زمزم ہے، اس کی فضیلت آگے بیان ہوگی۔
مقصود سعی
اوپر کے بیان سے سعی کی وجہ سمجھ میں آگئی اس کو حضرت ہاجرہ ؓ نے پانی کی تلاش میں اتفاقیہ طور پر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ہاجرہ ؓ کی حرکت پسند آئی اوراس کو حج کے مناسک میں شامل فرما دیا تاکہ حضرت ہاجرہ ؓکی یہ سنت ہمیشہ رہے اوران کی اولاد یادگار بنا لے کہ ملت اسلامیہ اور دین حنیف کے علم برداروں نے کیا تکلیفیں برداشت کی تھیں اور اس زمانہ میں مرکز اسلام (مکہ) کی کیا حالت تھی۔ نیز جو بیتابی اور انا بت الی اللہ حضرت ہاجرہ ؓ کو اس وت تھی وہ تم بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو او ررحمت الٰہی کی جستجو میں اسی طرح بیتاب اور ساعی ہو جیسے وہ پانی کی تلاش میں تھیں۔ اسی لئے سعی کی غایت و غرض رسول اللہ ﷺ نے یہ بتائی ہے کہ سعی یاد الٰہی کے لئے مقرر کی گئی ہے۔
ترجمہ: طواف اور سعی اور رمی جمرہ ذکر الٰہی کے لئے مقرر کی گئی ہے۔(احمد، ابوداﺅد)
آپ نے خود اس یادگار ہاجرہ پر عمل کیا اور فرمایا:
ترجمہ: تمہارے اوپر سعی فرض کر دی گئی ہے سعی کیا کرو ، بغیر سعی کے نہ حج پورا ہوتا ہے اور نہ عمرہ (احمد)، آپ نے فرمایا:
ترجمہ: بغیر سعی کے اللہ تعالیٰ حج اور عمرہ کو پورا نہیں کرتا ۔(نیل الاوطار)
اس لئے جمہور آئمہ ؒ کے نزدیک سعی فرض ہے۔ (نیل الاوطار)
حضرت جیبہ بنت ابی تجراة ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی کرتے ہوئے دیکھا ۔ آپ فرماتے تھے:
ترجمہ: سعی کرو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر سعی کو فرض کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مکہ شریف میں ٹھہرنے والے حاجیوں کے کام