Mir abdulqados Bloch

سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا:میر عبدالقدوس بزنجو

EjazNews

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما،میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کےسابق وزیراعلیٰ ہیں۔ انہوں نے یکم جنوری 1974ء کوبلوچستان کی تحصیل، آواران میں واقع اپنے آبائی گائوں، شاندی جھائو کے ممتاز قبائلی و سیاسی رہنما، میر عبدالمجید بزنجو کے گھر آنکھ کھولی، جو اگرچہ پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں، لیکن انہوں نے صوبائی اور قومی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ متعدد مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور صوبائی وزیر بھی رہے۔ میر عبدالقدوس بزنجو نے ابتدائی تعلیم آواران میں حاصل کی اور جامعہ بلوچستان سے ماسڑز کیا۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں سیاست کا آغاز کر دیا تھا اور گزشتہ 17برس سے صوبے کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ 2002ء میں پہلی بار بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 41،آواران سے 9ہزار 492ووٹ لے کر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور 2002ء سے2007ء تک لائیو اسٹاک کے وزیر رہے۔ اسی عرصے میں مجلس قائمہ برائے صنعت، تعلیم، صحت ، بلدیات اور لیبر کے رُکن بھی رہے۔2013ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ جون 2013ء میں ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے اور دسمبر 2015ء میں اس عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ میر عبدالقدوس بزنجو تب ملکی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے کہ جب 2جنوری 2018ء کو انہوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اُس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان، نواب ثناء اللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی، جس کے نتیجے میں انہوں نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا ۔ نواب ثناء اللہ خان زہری کے مستعفی ہونے کے بعد متحدہ اپوزیشن، مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو قائد ایوان نامزد کیا اور وہ 65رُکنی اسمبلی میں 41ووٹ لے کر16ویں قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔ وزارت اعلیٰ کے ساتھ ساتھ وہ ایسے خاموش کھلاڑی تھے جنہوں نے بلوچستان سے چیئرمین سینٹ بنوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اپنی حمایت ان کے حوالے کی تھی جس کے بعد اس اتحاد نے مل کر چیئرمین سینٹ کے انتخابات میں ن لیگ کو ہراکر اپنا متفقہ امیدوار چیئرمین بنوایا تھا۔

میر عبدالقدوس بزنجو

اب اسی متفقہ امیدوار کیخلاف پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتیں مل کر تحریک عدم اعتماد لا کر اپنا متفقہ امیدوار لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سیاست میں حالا ت کب اور کیسے بدلتے ہیں اس کا اندازہ آپ کو میر عبدالقدوس بزنجو کے اس انٹرویو سے ہوگا جو انہوں نے روزنامہ جنگ کو دیا تھا ۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے یہ انٹرویو ہم نے حاصل کیا ہے۔
س:رواں برس کے آغاز میں آپ بلوچستان کے16ویں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ وزارتِ اعلیٰ کا تجربہ کیسا رہا؟
ج :الحمد للہ، بہت اچّھا تجربہ رہا۔ اس وقت صوبائی حکومت، عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے شب و روز کام کر رہی ہے۔ ہمیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور بیوروکریسی بھی ہمارے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ البتہ بلوچستان کے انتظامی سربراہ کے طور پر مَیں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور صوبے اور صوبے کے عوام کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ دراصل، بلوچستان کی صورتِ حال مُلک کے دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔ یہاں قبائلی نظام ہے اور لوگوں سے بہت زیادہ میل جول رکھنا پڑتا ہے۔ پھر ہماری حکومت سے عوام کی توقّعات بھی بہت زیادہ ہیں، جب کہ ہمیں نہایت کم وقت میں صوبے کے مسائل حل کرنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں اور میری ٹیم پوری تَن دہی سے دن رات ایک کر کے کام کر رہے ہیں۔
س:کیا دیگر وزرائے اعلیٰ کی نسبت بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ج :جی بالکل۔ ان دِنوں وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ہر وقت عوام کی آمدورفت رہتی ہے اور مُجھے سرکاری اُمور کی انجام دہی کے علاوہ ہر فرد سے ملنا بھی پڑتا ہے، جب کہ دوسرے صوبوں میں تو پیشگی اطلاع کے بغیر عوام تو کُجا، ارکانِ اسمبلی اور وزرا بھی وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات نہیں کر سکتے۔ پنجاب حکومت کے ایک وزیر نے مُجھے بتایا تھا کہ انہوں نے 6ماہ قبل وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میاں شہباز شریف سے ملاقات کے لیے وقت مانگا تھا، مگر اب تک اُن کی ملاقات نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے وزرائے اعلیٰ کو سرکاری معاملات دیکھنے کے لیے خاصا وقت مل جاتا ہے۔ پھر ہمارا صوبہ دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ پس ماندگی اور مسائل کا بھی شکار ہے اور مَیں نے عوام، قبائلی عمائدین، ارکانِ اسمبلی اور وزرا سے ملاقاتوں سمیت صوبے کی بہتری پر توجّہ مرکوز کر رکھی ہے۔
س:آپ کے ذہن میں عوام تک براہِ راست رسائی کا خیال کیسے آیا؟
ج:میرے وزیر اعلیٰ بننے سے قبل سی ایم سیکریٹریٹ تک عوام کی رسائی تقریباً نا ممکن تھی۔ تب اسے ’’ریڈ زون‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور اکثر صحافیوں کو بھی یہاں آنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن مَیں نے وزیرِ اعلیٰ بنتے ہی اپنی ٹیم اور وزیرِ اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اسٹاف پر یہ بات واضح کر دی کہ اگر ایک عام آدمی کی مجھ تک رسائی ممکن نہیں اور نہ مَیں خود عوام میں جاتا ہوں، تو پھر مُجھے عوامی نمایندہ کہلانے کا کوئی حق نہیں۔ وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے سے قبل مَیں اکثر اسی سوال پر غور کرتا تھا کہ آخر عوام اور عوامی نمایندوں کے درمیان دُوریاں کیوں بڑھ رہی ہیں اور اس خلیج کو ختم کرنے کے لیے ہی مَیں نے سی ایم سیکریٹریٹ تک عام آدمی کی رسائی یقینی بنائی۔
س:جب عوام کی آپ تک رسائی ممکن ہو گئی، تو آپ کو کُھلی کچہریاں لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ج:کُھلی کچہریاں لگانے کا مقصد یہ ہے کہ مجھ سمیت تمام وزرا براہِ راست عوامی مسائل کے بارے میں جان سکیں اور اُن کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ابتدا میں کُھلی کچہریوں میں آنے والے افراد کی تعداد سیکڑوں ہوتی تھی، جواب ہزاروں میں پہنچ چُکی ہے اور اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کی شنوائی ہو رہی ہے اور اُن کے چھوٹے موٹے مسائل بھی بروقت حل ہو رہے ہیں۔ اب صوبے کے عوام اور حکومت کے درمیان اپنائیت کا رشتہ پیدا ہو گیا ہے۔ گرچہ روزانہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں سے ملنا، اُن کے مسائل سُننا اور اُن کی مشکلات حل کرنے کے لیے احکامات جاری کرنا، نہایت مشکل کام ہے، لیکن اس کے باوجود مَیں ہر ایک سے فرداً فرداً ملاقات کرتا ہوں، کیوں کہ بیش تر افراد ہمارے پاس دُور دراز علاقوں سے بڑی امیدیں لے کر آتے ہیں اور مَیں اُنہیں کسی صورت مایوس نہیں کرنا چاہتا۔ ہر چند کہ کچہریوں کی وجہ سے بلوچستان انتظامیہ پر کام کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے، مگر ہم عوام کے مسائل بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ خود پر کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے مُجھے یہ تجویز بھی دی گئی تھی کہ عوام کی درخواستیں وزرا یا میرا اسٹاف وصول کرے اور پھر اُن پر کارروائی ہو، مگر مَیں نے اسے رَد کر دیا کہ چند کچہریوں کے انعقاد کے بعد ہی مُجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ مجھ سے براہِ راست ملاقات کرنے والے افراد مطمئن ہو کر واپس جاتے ہیں اور پھر بلاواسطہ عوام کے مسائل جان کر مُجھے بھی دِلی طمانیت ملتی ہے۔ دراصل، ہمیں عوام کی خدمت کے لیے چند ماہ ملے ہیں اور اگر اس مختصر وقت میں ہم 5سے10فی صد مسائل حل کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں، تو یہ ہماری بہت بڑی کام یابی ہو گی۔ مَیں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ اگر کسی با اثر فرد کے ایک سو میں سے99کام ہو جائیں اور ایک کام نہ ہو، تو وہ ناراض ہو جاتا ہے، جب کہ غریب عوام اپنا ایک مسئلہ ہی حل ہونے پرخوش ہو جاتے ہیں اور ڈھیروں دُعائیں دے کررُخصت ہوتے ہیں۔ جب مَیں کُھلی کچہری میں مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کرتا ہوں، تو عوام کے چہرے پر دوڑنے والی مسکراہٹ دیکھ کر ہی میری ساری تھکاوٹ رفو چکر ہو جاتی ہے۔ مُجھے اس بات کا بھی شدّت سے احساس ہے کہ سی ایم سیکریٹریٹ کو عام افراد کے لیے کھولنے اور کُھلی کچہریوں کے انعقاد کے سبب سیکوریٹی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کئی گُنا زیادہ محنت کرنی پڑ رہی ہے، مگر اس کے بغیر کوئی چارہ بھی تو نہیںہے۔ میری حفاظت پر مامور افسران و اہل کار اکثر مُجھے سیکوریٹی اور پروٹوکول کے بغیر باہر نکلنے سے منع کرتے ہیں، مگر رُوٹ لگنے سے ٹریفک کی روانی بُری طرح متاثر ہوتی ہے اور عوام کو اذیّت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مُجھے عوام کے اس درد کا احساس ہے۔ گرچہ ابھی تک بلوچستان سے دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور میری جان کو بھی خطرات لاحق ہیں، لیکن مَیں یہ ہرگز گوارا نہیں کر سکتا کہ میری وجہ سے سڑکیں بند کر دی جائیں اور عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ مَیں عوامی نمایندے کی حیثیت سے آزادانہ نقل و حرکت کا حامی ہوں اور اگر اپنی جان کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر سخت سیکوریٹی اور پروٹوکول میں گھومتا ہوں، تو پھر مُجھے عوامی نمایندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ مُجھے اس بات کا بہ خوبی ادراک ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان سمیت مُلک بَھر میں اَن گنت اہم شخصیات دہشت گردی کی نذر ہوئیں اور ہماری سیکوریٹی فورسز کے جوانوں سے لے کر عام شہریوں تک نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور ان قربانیوں کی بہ دولت ہی صوبے اور مُلک میں امن قائم ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نفرتوں کے دور میں پنپنے والی محبت

میں کام یاب ہو جاتے ہیں، تو یہ ہماری بہت بڑی کام یابی ہو گی۔ مَیں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ اگر کسی با اثر فرد کے ایک سو میں سے99کام ہو جائیں اور ایک کام نہ ہو، تو وہ ناراض ہو جاتا ہے

س:سی پیک جیسا اہم منصوبہ بھی ہمارے دشمنوں کی نظر میں کھٹک رہا ہے اور وہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے اسے ناکام بنانا چاہتے ہیں، تو کیا اس کے باوجود بھی آپ آزادانہ نقل و حرکت جاری رکھیں گے؟
ج:جی ہاں۔ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ہے۔ اس پر بہت سی عالمی طاقتوں کی نظر ہے ۔ ہمارے بعض ہم سایہ ممالک بھی اسے ناکام بنانے کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں اور یہی ممالک ہمارے صوبے میں دہشت گردی بھی کروا رہے ہیں، لیکن پاک، چین اقتصادی راہ داری نہ صرف پایۂ تکمیل کو پہنچے گی، بلکہ یہ بلوچستان اور پاکستان سمیت پورے خطّے کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی۔ اپنی جان کو درپیش خطرات کے باوجود مَیں اپنے صوبے کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑوں گا اور انہیں وسائل کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔ عوام کے مسائل حل کرنے سے ہی صوبے میں ترقّی و خوش حالی آئے گی اور یہ میری جان پر مقدم ہے۔ وزیرِ اعلی کی کُرسی تو بڑی بے وفا ہے۔ اس نے آج تک کسی سے وفا نہیں کی اور نہ ہی مُجھے اس سے وفا کی توقّع ہے۔ میری خواہش اور دُعا ہے کہ مَیں عزّت و وقار کے ساتھ اس منصب سے رُخصت ہوں۔ مَیں اس اعتبار سے خود کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے والدین حیات ہیں اور اُن کی دُعائیں ہمہ وقت میرے ساتھ رہتی ہیں۔
س:آج بلوچستان کو بغاوت، دہشت گردی، پس ماندگی اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے اور پھر نہایت اہمیت کی حامل پاک، چین اقتصادی راہ داری بھی یہیں سے گزر رہی ہے۔ یہ تمام مسائل کوئی وزیرِ اعلیٰ5سال کی مدّت میں بھی ختم نہیں کر سکتا۔ کیا وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے سے قبل آپ کو ان تمام پیچیدگیوں کا اندازہ تھا؟
ج :ہر قوم کو بُحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے والی اقوام ہی دُنیا کی کام یاب اقوام کہلاتی ہیں۔ بِلا شُبہ مسائل کے مقابلے میں ہمارے وسائل کم ہیں، مگر یہ اتنے بھی کم نہیں کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم دست یاب وسائل کا دُرست استعمال یقینی بنائیں اور عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل کریں۔ مَیں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ وزیرِ اعلی صوبے کا با اثر ترین فرد ہوتا ہے اور اگر وہ چاہے، تو اپنے صوبے کی خوش حالی کے لیے بہت کچھ کرسکتا ہے۔ اب تک میری راہ میں کسی نے کوئی رُکاوٹ کھڑی نہیں کی، بلکہ ہر ادارہ مجھ سے تعاون کر رہا ہے۔ البتہ کام کا بوجھ بڑھنے کی وجہ سے بعض اُمور کی انجام دہی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ہم عوام کے منتخب نمایندے ہیں اور اگر اُن کے مسائل حل نہیں ہوتے، تو یہ ہماری کم زوری ہے۔ مَیں دعوئوں اور اعلانات کی بہ جائے عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہوں۔ لہٰذا، میری پوری کوشش ہے کہ صرف انہی منصوبوں کا اعلان کروں، جنہیں مقرّرہ مدّت میں پایۂ تکمیل تک پہنچا سکوں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہم نے عوام اور عوامی نمایندوں کے درمیان پائی جانے والی دُوریاں کم کرنے کی کوشش کی اور میری خواہش ہے کہ صوبے کے عوام کے مسائل ضرور حل ہو جائیں۔ عوام کی اپنے نمایندوں تک رسائی کے نتیجے میں اُن میں خوش گوار تاثر اُبھرا ہے اور ہم سے اُن کی توقّعات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مَیں نے اس تاثر کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقتدار صرف مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عوام میں یہ احساس بھی پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت اُن کے مسائل حل کرنے کے لیے وجود میں آتی ہے، جو میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔ مَیں نے اپنے اسٹاف کو ہدایت دے رکھی ہے کہ تاخیر کے شکار منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور مَیں خود بھی روزانہ سیکڑوں فائلز کا مطالعہ کرتا ہوں۔ اگرچہ میری وجہ سے میری ٹیم اور اسٹاف کو کئی گُنا زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے، مگر ہمیں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ڈیلیور کرکے دِکھانا ہے اور اس کے لیے دن رات ایک کرنا پڑے گا۔ مَیں تین سے چار ماہ کے دوران صوبے کے عوام کو کوئی ’’میگا پراجیکٹ‘‘ تو نہیں دے سکتا، لیکن کم از کم اُن کے دیرینہ مسائل تو ضرور حل کر سکتا ہوں۔
س:’’کوئٹہ سیف سٹی منصوبہ‘‘ طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کی خاطر اس اہم منصوبے کے لیے مختلف ادوار میں بھاری فنڈز جاری اور اس کی جلد از جلد تکمیل کے دعوے کیے جاتے رہے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ اب اس منصوبے میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے؟
ج:صوبے میں قیامِ امن کے لیے اس منصوبے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مگر بد قسمتی سے یہ اہم پراجیکٹ ایک طویل عرصے سے التوا کا شکار رہا۔ اس منصوبے کے لیے سابقہ حکومت نے فنڈز جاری کیے تھے۔ تاہم، مُجھے ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ ماضی میں ایک وزیرِ اعلیٰ نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک فرم کو ٹھیکا دیا تھا، جب کہ دوسرے وزیرِ اعلیٰ نے ایک ایسی کمپنی کو ٹھیکا دے دیا کہ جس نے 2ارب 90کروڑ روپے کی بولی لگائی تھی اور سب سے کم بولی لگانے والی کمپنی کو ٹھیکا نہ دینے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ اس کام کا تجربہ نہیں رکھتی۔ اس موقعے پر میرا مٔوقف یہ تھا کہ جب سب سے کم بولی لگانے والی کمپنی کو ٹھیکا نہیں دیا جا رہا، تو پھر ٹینڈر اوپن کرنے کی کیا ضرورت تھی، صوبائی حکومت خود ہی یہ منصوبہ کسی کمپنی کے سپرد کر دیتی۔ اسی سبب اس اہم منصوبے کی فائل ایک سال تک آگے نہ بڑھ سکی۔ پھر مَیں نے یہ نکتہ بھی اُٹھایا تھا کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی یہ ذمّے داری بنتی ہے کہ مذکورہ کمپنی ٹینڈر کے عین مطابق منصوبے میں معیاری سامان استعمال کرے، مگر بعدازاں یہ منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا۔ تاہم، اب ہم نہ صرف ’’سیف سٹی پراجیکٹ‘‘ کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنائیں گے، بلکہ اس کے معیار پر بھی کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔

اگرچہ میری وجہ سے میری ٹیم اور اسٹاف کو کئی گُنا زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے، مگر ہمیں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ڈیلیور کرکے دِکھانا ہے اور اس کے لیے دن رات ایک کرنا پڑے گا

س:کوئٹہ، صوبائی دارالحکومت ہونے کے علاوہ صوبے کا سب سے بڑا شہر بھی ہے، مگر تا حال اس کے لیے کوئی ماسٹر پلان تیار نہیں کیا گیا۔ کیا آپ کی حکومت اس اہم مسئلے کی جانب بھی توجّہ دے گی؟
ج:جی بالکل۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ 23برس سے کوئٹہ کے لیے کوئی ماسٹر پلان تیار نہیں کیا گیا۔ البتہ بہ حیثیتِ رُکنِ صوبائی اسمبلی مَیں نے آواران اور حب کے ماسٹر پلانز تیار کروائے۔ صوبائی حکومت، کوئٹہ کی تعمیر و ترقّی کے لیے سالانہ اربوں روپے جاری کرتی ہے، مگر یہ فنڈز منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ضایع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک محکمہ سڑک تعمیر کر کے فارغ ہوتا ہے، تو اگلے روز دوسرا محکمہ کسی کام کے لیے وہ سڑک کھود دیتا ہے۔ بدقسمتی سے متعلقہ اداروں کے درمیان کوئی رابطہ بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے قومی دولت ضایع ہو جاتی ہے۔ البتہ ہم نے کوئٹہ کے لیے ایک ماسٹر پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جلد ہی ایک بین الاقوامی ادارے کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ ہم ایک ایسا ماسٹر پلان تیار کریں گے کہ جس کے تحت کوئٹہ میں ترقّیاتی کام ہوتا دِکھائی دے گا اور فنڈز ضایع ہونے سے بچ جائیں گے۔ گر چہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے، لیکن مُجھے امید ہے کہ اس عرصے میں ہم اس پراجیکٹ سمیت دیگر کام کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔
جنگ:آپ کے وزیرِ اعلی منتخب ہونے کے موقعے پر یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد آپ قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرنے کی ہدایت جاری کریں گے۔ کیا یہ تاثر آپ کی سابق صدر، آصف علی زرداری سے ہونے والی ملاقاتوں کی وجہ سے تو پیدا نہیں ہوا؟
ج:دراصل، پچھلی حکومت کچھ ڈیلیور نہیں کر پا رہی تھی اور ایک عام آدمی تو کُجا، ارکانِ اسمبلی بھی اس سے مایوس ہو چُکے تھے۔ مسلم لیگ (نون) کے ارکانِ اسمبلی نے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور وزیرِ اعلیٰ سیکریٹریٹ میں آنا ترک کر دیا تھا۔ سابق وزیرِ اعلیٰ، نواب ثناء اللہ زہری کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا تھا اور اسی لیے ایک اجلاس میں وہ خود یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’جب اسمبلی تمام ارکان کی ہے، تو پھروہ یہاں آتے کیوں نہیں؟‘‘ اس موقعے پر ہم نے اُن پر واضح کیا کہ ’’ اسمبلی اور وہاں ہونے والی کارروائی کو اہمیت نہیں دی جاتی اور ہم صرف حاضری لگوانے اسمبلی میں نہیں آسکتے۔‘‘ درحقیقت، کافی عرصے سے صوبائی حکومت میں اندرونی اختلافات تھے، لیکن انہیں کوئی سامنے لانے پر آمادہ نہ تھا ،تو مجبوراً مُجھے ہی یہ قدم اُٹھانا پڑا۔ بہ طور ڈپٹی اسپیکر اور قائم مقام اسپیکر مَیں نے صورتِ حال کی بہتری کے لیے فعال کردار ادا کیا، مگر اس کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی اور ارکانِ اسمبلی اور عوام اس سے دُور ہوتے گئے۔ مَیں نے سابق وزیرِ اعلیٰ، نواب ثناء اللہ زہری کو کافی پہلے ہی یہ بتادیا تھا کہ ارکانِ اسمبلی اُن سے دُور ہوتے جا رہے ہیں اور صرف اُن کے وزیرِ اعلی ہونے کی وجہ سے خاموش ہیں، مگر انہوں نے میری باتوں کو سنجیدہ نہیں لیا اور اس بات پر مُصر رہے کہ انہیں تمام ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ پھر جب بہ امرِمجبوری مَیں نے اور میرے ساتھی ارکانِ اسمبلی نے ’’اِن ہائوس‘‘ تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا، تو دیگر ارکان نے بھی میرا بھرپور ساتھ دیا۔ اس دوران حکومت نے ہماری کردار کُشی شروع کر دی اور حکومت کی تبدیلی کے حامی ارکانِ اسمبلی کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں کلرکس سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین تک کے تبادلے کیے گئے، جو ایک وزیرِ اعلیٰ کے شایانِ شان نہیں تھا۔ البتہ مَیں نے اور میرے ساتھیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اب جہاں تک سابق صدر، آصف علی زرداری سے ملاقات کی بات ہے، تو میرے دادا، میر عبدالکریم بزنجو کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔ انہوں نے اپنے علاقے میں رائج ’’ششک‘‘ نظام کے خلاف آواز بلند کی اور عوام کے حقوق اور علاقے کی ترقّی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ آصف علی زرداری اس مُلک کے بڑے اور سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے رہنما ہیں اور مَیں تہہ دِل سے اُن کی عزّت کرتا ہوں۔ وہ بلوچستان فاتحہ خوانی کے لیے آئے تھے اور وہیں میری اُن سے ملاقات ہوئی اور پھر چند روز بعد ہم دوبارہ ملے۔ دراصل، بلوچستان میں عزّت دینے والے کو اوّلین ترجیح دی جاتی ہے اور شاید ہماری ان روایات کا پنجاب کی لیڈر شپ کو احساس نہیں۔ گرچہ اس وقت میرا تعلق مسلم لیگ (قاف) سے ہے، مگر اب مَیں نے اپنے ہم خیال افراد پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا ہے، جسے مستقبل میں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے موقعے پر ہم پر یہ الزامات عاید کیے گئے کہ ہم مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات رُکوانا چاہتے ہیں اور اسی لیے بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ نہایت افسوس ناک بات ہے، کیوں کہ یہ سب تو ہمارے وہم و گُمان تک میں نہ تھا اور ہم تو صرف عوام کی بہتری اور صوبے کی ترقّی و خوش حالی کے لیے حکومت تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلی منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے مَیں نے یہ اعلان کیا کہ ’’ہم سینیٹ کے انتخابات میں رُکاوٹ بنیں گے اور نہ ہی اسمبلی قبل از وقت تحلیل ہو گی، بلکہ جب تک مُلک کی دیگر اسمبلیاں کام کر رہی ہیں، تب تک بلوچستان اسمبلی بھی فعال رہے گی اور اپنی آئینی مدّت پوری کرے گی‘‘۔ آج ہم پر عائد کیے گئے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہو چُکے ہیں۔ نیز، ہم پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ہم سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے نام زد امیدواروں کو کامیاب کروائیں گے، جو بالکل غلط ہے۔ دراصل، جب ہم نے بلوچستان میں اِن ہائوس تبدیلی کے لیے کوششیں شروع کیں، تو صرف آصف علی زرداری ہی نے ہمارے حق میں آواز بلند کی ، جس سے ہمیں ہمّت و حوصلہ ملا۔ انہوں نے صرف ہماری اخلاقی مدد کی تھی اور اب یہ حقیقت بھی عیاں ہو چُکی ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان سے پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار حصّہ نہیں لے رہا۔ یعنی ہم پر عائد کیے گئے تمام الزامات غلط ثابت ہوئے اور عوام بھی یہ جان چُکے ہیں کہ ہم نے صرف صوبے کی بہتری کے لیے حکومت تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
س:آپ خود کو مسلم لیگی کہتے ہیں اور آپ کے حامی بھی، تو پھر سینیٹ کے انتخابات میں آپ کے ساتھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصّہ کیوں لے رہے ہیں؟ نیز، سینیٹ انتخابات کے دوران آپ کس سے اتحاد کریں گے؟
ج:یہ بات دُرست ہے کہ ہم سب مسلم لیگی ہیں اور یہ بھی غلط نہیں کہ ہمارے امیدوار آزاد حیثیت میں سینیٹ کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ در اصل، ہمارے گروپ میں پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پشتون خوا میپ اور نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں اور امید ہے کہ سردار اختر مینگل بھی سینیٹ کے انتخابات میں ہمارا بھرپور ساتھ دیں گے۔ سینیٹ کے انتخابات کے لیے ہمارے گروپ نے آزاد امیدواروں کی حیثیت سے اپنے دوستوں کو نامزد کیا ہے اور اب اسی ہم خیال گروپ ہی کو تقویت دی جائے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگر کوئی ہمارا ہم خیال کسی جماعت کا ٹکٹ حاصل کرتا، تو باقی دوست ناراض ہو جاتے۔ سو، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمارے تمام دوست آزاد امیدوار کی حیثیت ہی سے سینیٹ کے انتخابات میں حصّہ لیں گے اور جیت کر بلوچستان کی ترقّی و خوش حالی کے لیے ایوانِ بالا میں اپنی آواز بلند کریں گے۔
س:اگر آپ کے ہم خیال کامیاب ہوتے ہیں، تو وہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقعے پر کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کریں گے؟
ج:اس بات کا فیصلہ یہ دیکھ کر کیا جائے گا کہ کون سی جماعت کسے سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے نامزد کرتی ہے اور بلوچستان کی ترقّی و خوش حالی کے لیے کون سی پارٹی یا امیدوار زیادہ بہتر انداز میں ہمارا ساتھ دے سکتا ہے۔ تاہم، پیپلز پارٹی نے اس مُلک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے بڑے کام کیے ہیں۔ پی پی ہی نے اٹھارویں آئینی ترمیم کی شکل میں صوبوں کو خود مختاری دی اور وفاق کی بجائے صوبوں کو مضبوط کیا کہ صوبے مضبوط ہوں گے، تو مرکز مضبوط ہو گا۔ علاوہ ازیں، این ایف سی ایوارڈ اور آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج بھی پی پی ہی نے دیا۔ اگر دوسری قومی سیاسی جماعتیں بھی پی پی کی طرح صوبوں کی خود مختاری کے لیے کوششیں کریں، تو بہت سے مسائل خود بہ خود حل ہو جائیں گے اور صوبوں کے تحفظات بھی دُور ہو جائیں گے۔ بہر کیف، سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا۔ ہماری اوّلین ترجیح ہمارے ارکان اسمبلی ہیں اور فی الوقت ہماری توجّہ سینیٹ میں اپنے تمام نامزد کردہ امیدواروں کی کامیابی پر ہے۔
س:بلوچستان کی اکثر حکومتیں وفاق سے شکوہ کُناں رہی ہیں۔ آپ کا مرکز کے ساتھ کام کا تجربہ کیسا رہا؟
ج:اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وفاق سے میرے تعلقات اچّھے ہیں یا خراب۔ اصل اہمیت وفاق اور بلوچستان کے درمیان تعلق کی ہے۔ بلوچستان، پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے اور یہ اس وقت نازک ترین دَور سے گزر رہا ہے اور ان حالات میں وفاقی حکومت کو اسے ترجیح دینا ہو گی۔ اگر اب بھی بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے کردار ادا نہ کیا، تو اس سے صوبے کو بہت نقصان پہنچے گا اور بلوچستان کا نقصان، پاکستان کا نقصان ہو گا، جو مجھ سمیت کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ بلوچستان کے عوام پہلے بھی پاکستان کے ساتھ تھے، اب بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، مگر وہ اپنے صوبے کے حقوق کے لیے وفاق سے کوئی سمجھوتا کریں گے اور نہ سودے بازی۔ بلوچستان حکومت کی تبدیلی سے قبل وزیرِ اعظم، شاہد خاقان عبّاسی سے ملاقات میں بہت سے اُمور زیرِ بحث آئے ۔ اس دوران مَیں نے اُن پر واضح کیا کہ بلوچستان میں اِن ہائوس تبدیلی لانا ہماری مجبوری ہے اور اب اُن کی یہ ذمّے داری بنتی ہے کہ وہ مُلک کے دیگر حصّوں کی طرح بلوچستان کی فلاح و بہبود پر بھی توجّہ دیں۔ میرے خیال میں انہیں نئی حکومت کی حمایت اور مدد کرنی چاہیے تھی، مگر انہوں نے مجھے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد تک نہیں دی۔ تاہم، مَیں اس کے باوجود اُنہیں مُلک کا وزیر اعظم تسلیم کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد مَیں نے اُن سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی، مگر اُن کی مصروفیت کی وجہ سے بات نہ ہو سکی اور نہ ہی انہوں نے دوبارہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ اس سے میری ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر مُلک کا وزیر اعظم ہونے کے ناتے انہیں اپنی ذمّے داریاں پوری کرنی چاہئیں۔آخر ہم نے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ہی بلوچستان کے مسائل حل کرنے ہیں۔ وزیرِ اعظم سے ملاقات میں مَیں نے اُن کے سامنے بلوچستان کے مسائل اور اُن کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں، تو انہوں نے ان پر عمل درآمد کے لیے 15روز کا وقت مانگنے کے ساتھ ہی اس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ گرچہ وہ بلوچستان آتے رہتے ہیں، مگر انہیں کبھی کسی نے صوبے کو درپیش مشکلات اور اس کی ضروریات سے آگاہ نہیں کیا۔ اس موقعے پر مَیں نےانہیں یہ بھی بتایا کہ بلوچستان کے لیے فنڈز کی فراہمی اور منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے پلاننگ کمیشن کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہمارے منصوبے تاخیر سے شامل اور فنڈز مارچ کے آخر میں کہیں جا کر جاری کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً تمام قواعد پر عمل کرنے کے بعد اُن منصوبوں پر عمل درآمد کا وقت ہی باقی نہیں بچ پاتا، جس کی وجہ سے ہم یا تو فنڈز استعمال نہیں کر پاتے یا پھر ہمیں اُن سے دست بردار ہونا پڑتا ہے اور اب اس سلسلے کو روکا جانا چاہیے۔ وزیرِ اعظم نے تمام باتیں سُننے کے بعد مجھ سے مُہلت مانگی۔ اب اگر مُہلت ختم ہو جانے کے بعد بھی انہوں نے کوئی عملی اقدامات نہ کیے، تو پھر مَیں میڈیا کے سامنے سب کچھ واضح کر دوں گا۔ مَیں ایک بار پھر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان کے عوام محبِ وطن ہیں، لیکن وفاق کی جانب سے صوبے کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے مقامی باشندوں میں مایوسی پھیل رہی ہے، جو مُلک کے لیے نیک شگون نہیں۔ بلوچستان کے عوام کے تحفّظات دُور کرنا اور صوبے کو خوش حالی کی راہ پر گام زن کرنا، وفاقی حکومت کی بھی ذمّے داری ہے۔ وزیرِ اعظم، شاہد خاقان عبّاسی نہایت سُلجھے ہوئے انسان اور بڑے اچّھے رہنما ہیں۔ وہ باقاعدگی سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں اور اب وفاقی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس بھی منعقد ہو رہے ہیں اور پھر وہ مختصر مدّت کے دوران بلوچستان کے بھی کئی دورے کر چُکے ہیں۔ ان تمام باتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں توقّع ہے کہ وہ صوبے کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ علاوہ ازیں، میرے لیے میاں نواز شریف اور نواب ثناء اللہ خان زہری آج بھی اتنے ہی محترم ہیں، جتنے کل تھے، مگر بد قسمتی سے نہ تو سابق وزیرِ اعظم نے بلوچستان پر کوئی توجّہ دی اور نہ ہی سابق وزیرِ اعلیٰ نے اُن کے سامنے صوبے کے مسائل مٔوثرانداز سے پیش کرنے کی کوشش کی، جس سے ہمیں بے حدمایوسی ہوئی۔ ایک موقعے پر مَیں نے نواب ثناء اللہ خان زہری سے یہ کہا بھی تھا کہ ’’آپ میر حاصل خان بزنجو اور محمود خان اچکزئی کو احترام دیتے ہیں، جو بہت اچّھی بات ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی لیگی ارکانِ اسمبلی کو بھی اہمیت دیں۔‘‘ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ سابق وزیرِ اعلیٰ کی طرح میاں نواز شریف بھی اپنے دَورِ وزارتِ عظمیٰ میں بلوچستان میں مسلم لیگ (نون) کے ارکان کی جانب توجّہ نہیں دیتے تھے اور مَیں نے وزیرِ اعظم، شاہد خاقان عبّاسی سے بھی کہا کہ ’’آپ ایک ایسے موقعے پر بلوچستان آ کر ہم سے ملنا چاہ رہے تھے کہ جب معاملات ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ تک پہنچ چُکے تھے۔ اگر ایسے میں ہم آپ سے ملاقات کرتے اور اس دوران آپ کو انکار کر دیتے، تو یہ ہماری روایات کی خلاف ورزی ہوتی۔ ہم نے میڈیا کے ذریعے آپ تک یہ بات پہنچانے کی کوشش کی تھی کہ اب ہماری واپسی ممکن نہیں۔‘‘ وزیرِاعظم ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں، مگر انہوں نے بھی بلوچستان کے معاملات پر توجّہ دینے میں تاخیر کی۔
س:بلوچستان کی بعض سیاسی جماعتوں کو سی پیک پر تحفّظات ہیں کہ اس منصوبے سے صوبے کو مطلوبہ فواید نہیں مل رہے اور آپ نے بھی اپنی ایک پریس کانفرنس میں کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ آپ کو اس منصوبے سے کتنی توقّعات وابستہ ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:  یوگیوں کے نزدیک انسان کے جسم کی عافیت کا تمام تر دارومدار لچک پر ہے:یوگی محمد ریاض کھوکھر

مَیں ایک بار پھر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان کے عوام محبِ وطن ہیں، لیکن وفاق کی جانب سے صوبے کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے مقامی باشندوں میں مایوسی پھیل رہی ہے، جو مُلک کے لیے نیک شگون نہیں۔

ج:سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ہے اور ہم اس میں کوئی رُکاوٹ برداشت نہیں کریں گے، مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران اس منصوبے کے تحت بلوچستان میں جو کام ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا اور ہمیں ہمارا حصّہ نہیں ملا۔ واضح رہے کہ سی پیک کی اہمیت گوادر کی وجہ سے ہے اور اس اعتبار سے بلوچستان کو سب سے زیادہ حصّہ ملنا چاہیے تھا۔ تاہم، ان تمام تر تحفظات کے باوجود ہم سی پیک کی کام یابی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے اور وفاقی حکومت سے گزارش کریں گے کہ وہ سی پیک کے تحت بلوچستان میں شامل منصوبوں پر کام تیز کرنے کے لیے جلد از جلد فنڈز فراہم کرے، تاکہ اس منصوبے کے ثمرات عوام تک منتقل ہوں۔ سی پیک، بلوچستان کے لیے اس وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی تکمیل کے نتیجے میں صرف گوادر کی آمدنی پورے صوبے سے کئی گُنا بڑھ جائے گی اور پورے صوبے کے عوام کو روزگار کے مواقع میسّر آئیں گے ۔سو، ہم کسی صورت اس میں کوئی رُکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔
س:بلوچستان میں طبّی سہولتوں کا فقدان ہے اور امراضِ قلب میں مبتلا افراد کو علاج معالجے کے لیے مُلک کے دوسرے شہروں کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔ 2011ء میں پنجاب حکومت نے کوئٹہ میں ایک کارڈیک انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے رقم بھی مختص کی گئی تھی، لیکن 7سال گزرنے کے باوجود بھی اس منصوبے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ آپ کارڈیک انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر کے لیے کیا اقدامات کریں گے؟
ج:میری کوشش ہے کہ مختصر مدّت میں عوام کو درپیش سنگین مسائل حل کیے جائیں۔ ہماری حکومت کارڈیک انسٹی ٹیوٹ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائے گی اور صوبے کے عوام کو جدید طبّی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
س:بلوچستان میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ گوادر میں بڑی تعداد میں باہر کے لوگوں کی آمد کی وجہ سے وہاں مقامی باشندے اقلیت میں بدل جائیں گے۔ اگر واقعی ایسا ہے، تو اس کے تدارک کے لیے آپ کی حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
ج:ہمیں تمام تر صورتِ حال کا ادراک ہے اور اس معاملے پر غور کر رہے ہیں اور بہ وقتِ ضرورت مقامی باشندوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ضرور اقدامات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی سے پہلےایک ٹیسٹ کروا کر آنے والی نسل کو اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے