merkel

یورپ میں بڑھتی انتہا پسندی سے جرمنی بھی متاثر

EjazNews

اگر ہم یہ کہیں کہ یورپ میں عوام اپنے رہنمائوں سے یکسر مختلف سوچ رکھتے ہیں،اس کی بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مغرب میں سیاسی قیادتوں اور عوام کی سوچ کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہو چُکی ہے اور لیڈرز کے ویژن اور عوام کی توقعات میں بعد المشرقین پایاجاتا ہے۔ عوام خود ہی اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے لبرل اور عملیت پسند رہنمائوں کے ہاتھ پائوں باندھ رہے ہیں۔ پھر ذہن میں ایک سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ جس تیزی سے مغربی دُنیا میں قوم پرستی کی تحریکیں جڑیں پکڑ رہی ہے، کہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ مغربی عوام اتنے فراخ دِل نہیں، جتنا اُن کے لیڈرز ہیں یا جتنا اُن کے رہنما انہیں بنانا چاہتے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر یورپ میں صرف تارکین وطن کے معاملے ہی کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے لیا جائے، تو بڑا عجیب سا منظر نامہ سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں لیڈرز کہتے ہیں کہ یورپ سے اتحاد برقرار رہنا چاہیے، جبکہ عوام اس کے مخالف ہیں اور یورپ سے علیحدگی پر مصر ہیں۔ اسی طرح جرمن چانسلر، مِرکل نے شام سمیت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے لاجواب فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، لیکن گزشتہ انتخابات میں جرمن عوام نے ان کی اس انسانیت نوازی کی سزا اس شکل میں دی کہ ایک تو ان کی فتح کا مارجن بہت کم کر دیا اور پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایک انتہا پسند اور تارکین وطن بالخصوص مسلمانوں کی مخالف جماعت کو قابل ذکر اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ میں پہنچا دیا۔ یہ ساری صورتحال ایک جانب اگر یورپ کے اہل فکر و دانش کو بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتی ہے، تو دوسری جانب دُنیا کو بھی غور و فکر کا بہت سا سامان فراہم کرتی ہے اور ان دونوں سے زیادہ یہ اسلامی دنیا کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ اس تنگ نظری اور قوم پرستی کے ماحول میں ’’مسلم عنصر‘‘ اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چند سال بعد دنیا کیسی ہو گی؟ اس سوال کا جواب مغربی دانش کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ نیز، وہ ان سوالات کے جواب بھی تلاش کرنے میں مصروف ہیں کہ کیا ماضی کی طرح یورپ دوبارہ قوم پرست بنتا جا رہا ہے؟ یورپی عوام بیدار ہو رہے ہیں یا گہری نیند میں جا رہے ہیں اور اگر ایسا ہے، تو پھر جاگنے کے بعد دنیا کی شکل کیا ہو گی؟۔اور ایسے بہت سے سوالات دنیا بھر میں سوچے جارہے ہیں۔ مہذب دنیا میں ایسے لوگ اور پارٹیاں اقتدار میں آرہی ہیں جو نفرت کی حد تک دوسری اقوام سے بغض رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد قیادت سرکاری اہلکاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے پاس چلی گئی

جرمن چانسلر، مِرکل نے شام سمیت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے لاجواب فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، لیکن گزشتہ انتخابات میں جرمن عوام نے ان کی اس انسانیت نوازی کی سزا اس شکل میں دی کہ ایک تو ان کی فتح کا مارجن بہت کم کر دیا اور پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایک انتہا پسند اور تارکین وطن بالخصوص مسلمانوں کی مخالف جماعت کو قابل ذکر اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ میں پہنچا دیا۔

اگر دیکھا جائے، تو مشرق وسطیٰ حقیقت میں یورپ ہی کا میدان سیاست ہے، لیکن یورپی حکومتیں بھی اس اَمر پر متفق ہو گئی تھیں کہ شامی شہریوں کا اپنی حکومت کے ہاتھوں قتل کیا جانا، ایک انسانی المیہ تو ہو سکتا ہے، مگر ان کا براہ راست اس سے کوئی لینا دینا نہیں، لیکن جب برطانیہ میں دو افراد پر نرو ایجنٹ سے حملے کا معاملہ سامنے آیا، تو پوری مغربی دُنیا روس کے خلاف متحد ہو گئی جبکہ عالمی طاقتیں شام میں اپنا کھیل کھیلنے اور اپنے مُہروں کو آگے بڑھا رہی ہیں ،جس کے سبب گزشتہ برسوں میں لاکھوں شامی شہری باشندے لقمۂ اجل بن چُکے اور کروڑوں بے گھر ہیں اور ان بے گھر شامیوں کو سب سے زیادہ پناہ جرمنی میں ہی ملی اور اس پناہ کے بعد سے جرمن چانسلر تنقید کی زد میں بھی آئی تھیں۔
جرمن پناہ گزینوں کے معاملے کے بعد یوں لگتا ہے کہ جیسے یورپ میں ایک اور خاتون حکمراں کے اقتدار کو گہن لگ رہا ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ جرمنی کی خاتون آہن اور چانسلر، اینگلا مرکل ہیں۔ 2005ء سے برسر اقتدار اینگلا مرکل جرمنی کی سب سے طویل اور کامیاب سیاسی کیرئیر رکھنے والی خاتون ہیں ۔مغربی دُنیا بالخصوص یورپی ممالک میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاتی ہے کہ انتخابات، جمہوریت کو مضبوط اور مُلک کو طاقتور بناتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو بالغ اور نظام کو مستحکم کرتے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے کہ اب بیش تر یورپی ممالک میں جمہور کے فیصلے کے نتیجے میں مُلک میں استحکام کا مفروضہ غلط ثابت ہو رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ جو ’’جمہوریت کی ماں‘‘ کہلاتا ہے، پہلے ’’بریگزٹ‘‘ پر ہونے والے ریفرنڈم نے سیاسی ہل چل مچائی اور پھر اسی بریگزٹ پر عمل درآمد کروانے کے لیے مُلک میں منعقد ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے نتائج نے نہ صرف خاتون وزیر اعظم، تھریسامے اور اُن کی جماعت، کنزرویٹو پارٹی کی پوزیشن غیر مستحکم کر دی بلکہ اس کے ساتھ ہی یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں بھی برطانوی حکومت کی پوزیشن کو کمزور کر دیا، تھریسامے نے استعفیٰ تک دے دیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جرمنی کی خاتون چانسلر بھی کچھ اسی قسم کے انجام سے دو چار ہو سکتی ہیں اور اس کا اثر جرمنی کی یورپ میں برتری پر بھی مرتّب ہو گا۔
17جولائی 1955ء میں اینگلامرکل پیدا ہوئیں ان کاتعلق کرسچین ڈیموکریٹک یونین آف جرمنی سے ہے اور اسی پارٹی کے تحت وہ الیکشن لڑ تی آرہی ہیں اور 2005ء سے مسلسل برسراقتدار ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں ان کی پارٹی نے 35.5فیصد ووٹ لیے تھے۔لیکن جرمن کی اس خاتون آہن کو بھی انتہا پسندی کا سامنا ہے اور وہ انتہا پسندی کسی شخصیت کی جانب سے نہیں ہے بلکہ پارٹی کی جانب سے ہے ۔ گزشتہ انتخابی نتائج میں انتہا پسند پارٹی آلٹر نیٹو فار جرمنی کو 13.5فیصد ووٹ ملے تھے اورانہوں نے 87نشستیں حاصل کیں تھیں یوں کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی کی اتحادی جماعت سوشل ڈیمو کریٹک کے بعد یہ انتہا پسند جماعت تیسری بڑی جماعت بن کر اقتدار کے ایوان میں آئی ۔

یہ بھی پڑھیں:  آزادی کشمیر کا کٹھن سفر

لیکن یورپی حکومتیں بھی اس اَمر پر متفق ہو گئی تھیں کہ شامی شہریوں کا اپنی حکومت کے ہاتھوں قتل کیا جانا، ایک انسانی المیہ تو ہو سکتا ہے، مگر ان کا براہ راست اس سے کوئی لینا دینا نہیں، لیکن جب برطانیہ میں دو افراد پر نرو ایجنٹ سے حملے کا معاملہ سامنے آیا، تو پوری مغربی دُنیا روس کے خلاف متحد ہو گئی

اینگلا مرکل کو یورپ کی سب سے طاقتور حکمران بھی سمجھا جاتا ہے ۔جرمنی میں کل 718نشستیں ہوتی ہیں جبکہ اینگلا مرکل کی جماعت کو 278نشستیں ملیں تھیں۔جرمن چانسلر کی حیثیت کسی بھی منتخب شدہ وزیراعظم یا صدر کی سی ہوتی ہے۔ گزشتہ برس جرمن چانسلراور اتحادیوں کے ووٹ کم ہونے کی وجہ وہ انتہا پسند نظریات تھے جو مسلمانوں اور تارکین وطن کیخلاف تھے ۔ جرمنی میں اتحادسے اقتدار حاصل کرنا کمزوری نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ جمہوریت کا حصہ سمجھا جاتا ہےاور عوام بھی اسے کسی عیب کی نظر سے نہیں دیکھتے یہ اس ملک کی جمہوری روایات کا حصہ ہے۔لیکن یہ خوبصورت ملک بھی انتہاپسندی کی طرف بڑھتا جارہا ہے اور یورپ میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور اسلام مخالفت کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیری مسلمانوں کاقتل عام اور جنگ آزادی کا آغاز