عمرہ کی تنبیہات

دوران طواف مختصر تنبیہات

EjazNews

طواف کی دو رکعت ادا کر کے سلام پھیرنے کے بعد نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے اور اپنے لواحقین کے لئے نیک دعائیں کرو کیونکہ یہ قبولیت کی جگہ ہے اس کے متعلق خاص طور پر کوئی دعا صحیح حدیث مرفوع سے ثابت نیں ہے۔ قرآن و حدیث کی جو مناسب دعائیں سمجھو پڑھ سکتے ہو۔ لیکن طبرانی اور بیہقی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ نبینا و علیہ السلام نے طواف کی دو رکعتوں کے بعد مندرجہ ذیل دعا پڑتھی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ۔
ترجمہ: الٰہی تو میرے باطن اور ظاہری حالتوں سے خوب واقف ہے میری معذرت کو قبول فرما اور میری حالت کو جانتا ہے تو میری مانگ عطا فرما اور تو میرے دل کے رازوں سے واقف ہے، میرے قصوروں کو معاف فرما دے اے اللہ میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو میرے دل میں رچ جائے اور ایسا یقین کامل عطا فرمانا کہ میں جان لوں کہ جو کچھ آپ نے لکھ دیا ہے وہی مجھے پہنچے گا اور جو کچھ تو نے میری قسمت میں مقسوم کر دیا ہے اس پرراضی ہوں اے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنیوالے ۔(طبرانی )
دعائوں سے فارغ ہونے کے بعد پھر حجر اسود کے پاس آئو اس کو بوسہ لے کر یا استلام کر کے باب بنی شیبہ سے نکل کر چاہ زمزم اور اس کی سبیل کے پاس آکر زمزم پی لو۔ آپ زمزم پی کر باب الصفا سے نکل کر سعی کے لئے باہر آئو۔
تنبیہ:
یہ طواف قدوم کا بیان تھا۔ اس میں رمل اور اضطباع ہے ، اس کے سوا اور کسی میں رمل اور اضطباع نہیں کرنا چاہئے اور عورتیں طواف قدوم میں رمل اور اطباع نہ کریں۔ باقی طواف ویسا ہی کریں جس طرح مرد کرتے ہیں۔ حتیٰ الامکان مردوں سے الگ ہو کر طواف کریں۔ مردبھی ان کو ماں بیٹی سمجھ کر نگاہ بد نہ ڈالیں یہ خدا کا دربار ہے نظر بازی کا مقام نہیں ہے۔ نظر بازی سے نیکیاں برباد ہو جائیں گی۔
نہ خدا ہی ملا نہ و صال صنم!
(۲) مستحاضہ عورت اور بواسیر اور سلسل بول والے کو طواف اور نماز پڑھنی چاہیے (مشکوۃ) البتہ حیض اور نفاس والی عورت اس حالت میں بیت اللہ کا طوف نہ کرے اور نہ نماز پڑھے۔ اس کے سوا سب کام کرے جو دیگر حاجی کرتے ہیں۔ حیض سے پاک ہو جانے کے بعد طواف کرے۔
(۳) بیمار اور معذور جو خود طواف نہیں کر سکتا اس کو پکڑ کر یا کسی سوار پر سوار کر کے طواف اور سعی کرانا جائز ہے۔ (مشکوۃ)
(۴)بھیڑو ازدھام کی وجہ سے اگر حجر اسود کا بوسہ لینا ممکن نہ ہو تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر دعا پڑھو اور ہاتھ یا لاٹھی حجر اسود کو لگا کر اس ہاتھ یا لاٹھی کو چوم لو اور اگر دور رہنے کی وجہ سے یہ بھی ممکن نہ ہو تو دور ہی سے ہاتھ یا لاٹھی کے ساتھ حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے ہاتھ یا لاٹھی کو چوم لو۔ (مشکوٰۃ)
حجر اسود کو بوسہ لینے کے لئے دیر تک کھڑا رہنا اور لوگوں کو دھکا مکا اور بھیڑ میں گھس کر اور لوگوں کو تکلیف دے کر بوسہ لینا نیکی نہیں ہے۔ شریعت میں سہولت زیادہ ہے، اس رخصت پر عمل کرنا چاہئے جس کا بیان آچکا ہے۔ حجر اسود کے مقام پر پروانہ کی طرح چاروں طرف سے گھیرے رہتے ہیں۔ سبحان اللہ
(۵) عورتوں کو اس بھیڑ میں ہرگز نہ گھسنا چاہئے۔ بڑی بد احتیاطی ہوتی ہے۔ دور کا استلام بہتر ہے۔
(۶) طواف میں مسنونہ دعائوں کا پڑھنا مسنون ہے۔ بعض لوگوں نے طواف کے پھیروں میں من گھڑت دعائیں ایجاد کر رکھی ہیں ۔غرض ہر پھیروں کے لئے الگ الگ دعائیں مقرر کر رکھی ہیں ، اس طرح کا ثبوت حدیثوں سے نہیں ملتا۔ طواف میں سبحان اللہ۔ الحمد للہ اور لا الہ الا اللہ اور قرآن مجید و حدیث کی دعائیں کثرت سے پڑھتے رہنا چاہیے۔
(۷) طواف کرتے کرتے اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو طواف کو موقوف کر کے جماعت میں شامل ہو جائو۔ نماز کے بعد پہلے طواف پر بنا کر کے پورا کر لو۔ اسی طرح اگر اثنائے طواف میں پیشاب ، پاخانہ کی ضرورت پڑ گئی تو طواف چھوڑ کر اس ضرورت سے فارغ ہو کر طواف کو پوا کر ڈالو۔
(۸) طواف کے ساتھ پھیروں میں اگر کمی بیشی کا شبہ ہو جائے تو ظن غالب پر عمل کرو جس طرح نماز کی تعداد میں کمی بیشی کی صورت میں کیا جاتا ہے۔
(۹) پاک صاف جوتی پہن کر طواف کرنا جائز ہے۔ جس طرح نماز پاک صاف جوتی میں جائز ہے۔
(۱۰) طواف میں دو رکن حجر اسود اور رکن یمانی کو چھونا چاہئے اور دونوں رکن شامی کو نہیں چھونا چاہئے ۔
(۱۱) بیت اللہ کی دیوارو ں کے قریب طواف کرنا چاہئے بھیڑ کی وجہ سے دور رہ کر بھی جائز ہے۔
(۲۱) قارن جس نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا ہے دونوں کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کرے۔حج کا الگ طواف اور عمرہ کا الگ اور حج کا الگ سعی اور عمرہ کی علیحدہ سعی کی ضرورت نہیں ہے۔ (بخاری)
(۱۳) بعض نادان طواف کی دو رکعتوں کے بعد مقام ابراہیم علیہ السلام کی جالیوں کو پکڑ کر دعائیں کرتے ہیں یہ بدعت ہے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی اہمیت