imrna with donwland

وزیراعظم کا دورہ امریکہ کیا کھویا کیا پایا

EjazNews

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان وائٹ ہائوس میں ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔ بہت سے لوگ عجیب و غریب قیاس آرائیاں کر رہے تھے جیسے وزیراعظم عمران خان کو اس دورے کے دوران کوئی پوچھے گا بھی نہیں۔ لیکن کہتے ہیں عزت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔

اگر اس دورے پر ایک نظر دیکھی جائے تو عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم ہوں گے جنہوں نے امریکہ میں اتنے بڑے مجمع سے خطاب کیا ہو گا۔ اور واحد وزیراعظم ہوں گے جن کے امریکی دورے کے اخراجات اس قدر کم اور نتائج بھرپور ہوں گے۔

وزیراعظم نے اپنی ملاقات میں امریکی صدر سے جو گفتگو کی وہ عین پاکستان کا موقف ہے اس سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں کشمیر کی صورتحال کے متعلق واضح الفاظ میں پاکستان کا موقف بیان کیا اور ساتھ میں وار آن ٹیرازم میں پاکستان کی جانی اور مالی۔نقصانات کے بارے میں بھی واضح کیا۔انہوں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں کی شہادت اور 150 بلین مالیات کے نقصان کا بھی ذکر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے جو انڈیا سے مذاکرات چاہتا ہے لیکن انڈیا کی پر تشدد حکومت ایسا ماحول بنا رہی ہے جو تشدد سے شروع یو کر تشدد پر ہی ختم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کی حفاظت کیجئے، ٹیکنالوجی کے مضر اثرات سے بچائیں
امریکی خاتون اول۔ وزیراعظم عمران خان۔ ڈونلڈ ٹرمپ

وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدرسے اپنے اثر ورسوخ استعمال کرنے کا بھی کہا تاکہ مشرق وسطی کسی نئی بحرانی کیفیت ست بچ سکے۔ جس پر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی بھی کشمیر پر ثالثی سے متعلق ان سے بات کر چکے ہیں، مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغان مسئلہ وہ ایک ہفتے میں حل کراسکتے ہیں مگر ایک کروڑ افراد مارنا پڑیں گے میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ پاکستان کبھی جھوٹ نہیں بولتا، وہ افغانستان میں ہماری بہت مدد کر رہا ہے، پاکستان کی امداد تب بند ہوئی جب عمران خان وزیراعظم نہیں تھے اب عمران خان اقتدار میں ہیں اور انتہائی مقبول وزیراعظم ہیں، اب پاکستان کی امداد بحال ہو سکتی ہے، دونوں ممالک کے باہمی تجارت میں 10سے 12گنا اضافہ ہو سکتا ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے دعوت دی تو پاکستان کا دورہ کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  اپریل فول
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےوزیراعظم عمران خان کو بیٹ کا تحفہ پیش کیا

سوا تین گھنٹے تک وزیراعظم عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اور باہمی امور کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔اس ملاقات کے بعد سب سے زیادہ انڈین میڈیا میں واویلا مچا ہوا ہے کہ مودی کی ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اب اگر انڈین سیاست کو دیکھا جائے تو امریکی صدر کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ان پر کوئی ایسا پریشر ہے کہ وہ جھوٹ بولیں ۔ وہ جو بات کر رہے ہیں پورے وثوق سے کر رہے ہیں ظاہرہے ان کی بات ہوئی ہو گی جو وہ یہ بات کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم سے بھی ملاقات کی

زیراعظم کی امریکی سینیٹر سے ملاقات وفود کی شکل میں ہوئی جس میں باہمی تعلقات ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے امریکی سینٹر کی خدمات کو بھی سراہا۔ یہ ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے کی گئی ملاقات سے پہلے ہوئی تھی