afghanistan-amrica

طالبان، امریکہ مذاکرات، پاکستان اور افغان حکومت کا بھی کوئی کردار ہے

EjazNews

افغان عوام میں اپنے وطن میں قیام امن کی امیدیں پھر سے جاگ رہی ہیں۔ اس صورتحال میں ماہرین یہ استفسار کرتے ہیں کہ اگر افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوئی پیش رفت ممکن ہے، تو وہ کس نوعیت کی ہو گی، کیونکہ اس وقت علاقے کی تمام بڑی طاقتیں اس مصالحتی عمل کا حصّہ بننے کا واضح عندیہ دے چُکی ہیں۔ تاہم، مسئلہ افغانستان کے حل میں پاکستان سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور افغانستان میں امن و استحکام دیکھنا چاہتا ہے۔
افغان صوبے، کنڑ میں فضل اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی افغان صدر نے بذات خود تصدیق کی تھی ۔پاکستان کا امریکہ اور افغان حکومت سے یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ افغانستان میں روپوش فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے، کیونکہ وہ پاکستان کی سر زمین پر فساد پھیلانے کا سب سے بڑا سبب تھے۔ فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد ایک رائے یہ سامنے آئی کہ اب افغان حکومت اور امریکہ، افغان طالبان کے سلسلے میں پاکستان پر دبائو مزید بڑھائیں گے، کیونکہ ان کا الزام ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، جبکہ پاکستان اس الزام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد نئی امریکی انتظامیہ نے افغانستان کی صورتحال کا از سر نو جائزہ لینا شروع کیا تھا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن کی جانب سے دو بنیادی پالیسیز کا اعلان کیا گیاتھا۔ ان میں سے پہلی پالیسی افغانستان اور جنوبی ایشیا اور دوسری امریکہ کی عالمی سکیورٹی سے متعلق تھی، جو دسمبر 2017ء میں سامنے آئی تھی۔ ان دونوں پالیسیز میں افغانستان میں جاری جنگ کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ اسی موقع پر پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا گیاتھا، جسے پاکستان نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ اپنے حصے کا کام کر چکا ہے اور اب یہ امریکہ اور افغان حکومت کی ذمداری ہے کہ وہ افغانستان میں گزشتہ برسوں سے جاری شورش کو ختم کریں۔ بعد ازاں، امریکہ نے پاکستان کی امداد بھی روک دی تھی اور غالباً یہ پاک، امریکا تعلقات کی پست ترین سطح تھی۔
سابق امریکی صدر، باراک اوباما نے یہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ، افغانستان سے اپنی افواج واپس بلا رہا ہے اور صرف افغان فورسز کی تربیت کی غرض سے فورسز کی ایک مخصوص تعداد وہاں موجود رہے گی، لیکن اُن کے دور میں یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی اور اعلان کے کچھ عرصے بعد ہی اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے اور فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ عراق کی صورتحال کے بعد امریکی حکام نے یہ طے کیا تھا کہ افغانستان میں غلطی نہ دہرائی جائے اور امریکہ ایک بار پھر بھرپور انداز میں افغان جنگ میں شامل ہو جائے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ گو کہ اوباما اور ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان سے متعلق پالیسی میں کوئی واضح فرق نہیں۔
مسئلہ افغانستان کے ہر فریق کو اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ جنگ کا اختتام صرف بات چیت ہی سے ممکن ہے، کیونکہ اگر یہ امریکہ کے لیے دلدل ہے، تو افغانستان کے لیے تباہی اور علاقے کے لیے شدت پسندی کا خود رو پودا، جسے نہ چین برداشت کر سکتا ہے، نہ رُوس اور نہ دوسرے ممالک۔ اس وقت افغان حکومت کی، جو اس معاملے میں براہ راست فریق ہے، پوزیشن خاصی کمزور ہے۔ اس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ امریکہ نے کروڑوں ڈالرز خرچ کر کے جو افغان فوج تیار کی ہے، وہ طالبان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چُکی ہے اور امریکی فوج کی معاونت کے بغیر اس کے لیے میدان جنگ میں ٹھہرنا تک ممکن نہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً مختلف ذرائع سے یہ دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں کہ افغانستان کے نصف یا اس سے بھی زائد رقبے پر افغان طالبان بلا روک ٹوک نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔
امریکی حکام بھی جو مذاکرات کر رہے ہیں اس میں افغان حکومت شامل نہیں اور امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے گزشتہ دنوں افغانستان کے دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ ستمبر تک امریکی اور طالبا ن کے درمیان مذاکرات کے بعد کوئی خوشخبری مل سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف افغان شہری ہی نہیں، بلکہ افغان فوج کے اہلکار اور افغان طالبان بھی جنگ سے عاجز آ چُکے ہیں اور ان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ان کی سر زمین پر امن قائم ہو۔ پھر جس طرح افغان طالبان بآسانی عوام میں گھل مل گئے، تو اس سے یہ تاثر بھی اُبھرا کہ ان کی مرکزی دھارے میں شمولیت کچھ زیادہ مشکل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بی جے پی رہنما پر نامعلوم شخص نے جوتا دے مارا
امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ دنوں افغانستان کا دورۂ بھی کیا

یہ بھی محسوس ہوا کہ افغان طالبان، شہریوں اور حکومت کے درمیان امن کی خواہش پر مشتمل تعلق کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہے، لیکن اسے عملی شکل دینے کے لیے درکار عزم کی کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان طالبان ،امریکہ اور افغان حکومت کی کوشش ہے کہ مذاکرات کی میز پر جانے سے قبل اپنی اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا جائے کہ کمزوری ان کے لیے دبائو کا باعث بن سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں اعتماد کا شدید فقدان رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے افغان حکومت کو بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ طالبان بھی اسی مُلک کے شہری ہیں ، جس پر وہ حکومت کر رہی ہے اور اس کے پاس اختیار اور وسائل بھی ہیں۔لیکن حقیقت میں حکومت کو اس مذاکراتی دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔
گزشتہ دنوں کابل یونیورسٹی کے قریب دھماکہ ہوا جس میں 6افراد ہلاک جبکہ 27کے قریب زخمی ہوئے۔ ا س سے پہلے قندھار میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر بھی طالبان نے حملہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  لبنان بھی پر تشدد مظاہروں کی زد میں