imran-khan-offical

دیکھو پاکستانیوں یہ تبدیلی ہے، آج طاقتور کا احتساب ہو رہا ہے: وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان 3روزہ دورے پر امریکہ میں جہاں پر انہوں نے پاکستانیوں سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا میں دنیا میں کرکٹ کھیلا ہوں سب سے زیادہ میں نے کرکٹ کا ٹیلنٹ دیکھا ہے تو وہ پاکستان میں لیکن چونکہ میرٹ نہیں ہے میرٹ کا سسٹم نہیں ہے۔ ہم اس ٹیلنٹ کو اوپر نہیں لاسکے ہم اس لیے آج دنیا کو ڈومینیٹ نہیں کر سکتے کیونکہ میرٹ نہیں ہے۔ بادشاہ کیوں پیچھے رہ گئے ایک زبردست بادشاہ آیا بھی تو یہ ضروری نہیں اس کا بیٹا بھی اچھا ہو۔ جمہوریت کے اندر کیوں جمہوریت آگے نکل گئی کیونکہ میرٹ پر جمہوریت آتی رہی۔
میں آپ کو مثال دیتا ہے اس ملک امریکہ کے اندرچونکہ جمہوریت آگئی امریکہ میں میرٹ ایسا تھا کہ اگر ایک لیڈر برا بھی ہوا تو میرٹ پر لیڈر شپ اچھی آتی رہی۔ ہماری مسلمان دنیا میں ہندوستان کی مثال لے لیںکیوں میرے پاکستانیوں کو سمجھنا چاہیے کہ مسلمان بھی نیچے کیوں رہ گئے اورپ اکستان بھی آگے کیوں نہیںبڑھ سکا۔8سو سال تک مغلوں نے حکومت کی ہندوستان دنیا کی سپر پاور تھی۔ ڈیڑھ سو سال جو دنیا میں ہندوستان کا جی ڈی پی تھا وہ 25فیصد سے اونچا تھا ایک سے ایک بہتر مغل بادشاہ آیا۔ چارمغل بادشاہوں نے تقریباً ڈیڑھ سو سال حکومت کی لیکن اورنگ زیب کے بعد جو اس کے بچے آئے کسی میں بھی صلاحیتیں نہیں تھے۔ 7مغل بادشاہ 13سال میں بدلے اور بد سے بدتر بادشاہ آئے اور مغل ایمپائر ختم ہو گیا۔ رومن ایمپائر چھاتا رہا سلیمان تک۔ اس کا بیٹا ٹھیک نہیں تھا وہ وہاں سے نیچے جانا شروع ہوگئے۔
جمہوریت میں خون پر نہیں میرٹ پر لیڈر شپ ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بھی کہا مسلمان بادشاہ کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔

اب پاکستان کی طرف آجائیں ہمارے ملک میں قائداعظم کے بعد کیوں کوئی لیڈر نہیںبنا۔ ایک ذوالفقار علی بھٹو تھے، اس کے بعد ہوا کیا ہمارے ملک میں اس قسم کی بادشاہت آگئی میرٹ نہیںآئی جمہوریت بھی جب آتی تھی میرٹ نہیں آیا۔ نواز شریف کو کس طرح لیڈر بنایا گیا ملٹر ی ڈکٹیٹر شپ نے اٹھا کر لیڈر بنا دیا۔ کوئی میرٹ نہیں تھا۔ ان کے بھائی شہباز شریف کیوں چیف منسٹر بن گئے ان کے بھائی تھے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کیسے لیڈر بن گئے۔ کاغذ کے پرچے پر کہا کہ ہماری والدہ ہمیں چھوڑ گئی ہے۔ ادھر ولی خان کا فیملی سسٹم آگیا۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائی اور بچے بھی آگئے۔کہنے کا مقصد یہ ہے جب جمہوریت بھی آئی تو میرٹ نہیں آئی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے جس معاشرے میں میرٹ نہیں ہوتاوہ آگے نہیںبڑھتا۔ چائنہ کی کیمونسٹ پارٹی کو سسٹڈی کریں بہترین میرٹ کا سسٹم ہے۔ جس طرح کی مجھے انہوں نے پریذینٹیشن دی کہ وہ ہر فیلڈ میں دیکھتے ہیں کہ میرٹ کس طرح سے اوپر آرہا ہے۔ جمہوریت کی نمبر ون خاصیت میرٹ اور نمبر ٹو جمہوریت کے اندر ملک کا سربراہ جوابدہ ہے۔ حضرت عمر ؓ مدینہ کی ریاست کے اندر عام آدمی پوچھتا ہے کہ آپ کے پاس یہ دولت کہاں سے آئی۔ لیڈر جوابدہ تھا حضرت عمر ؓ نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری مجال ہے تم میرے سے پوچھو۔ یا آج کل جو پاکستان میں ہو رہا ہے یہ نہیں کہا کہ پتہ نہیں میں کون ہوں۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا لیڈر جوابدہ تھا۔
برطانیہ میں جب جمہوریت کی شروعات ہوئی میگنا کاٹا میں 8سو سال پہلے تو کیا کوشش تھی جو بادشاہ تھا اس کو قانون کے نیچے لے کر آئے اس کوشش میں جلدی جلدی ان کا بادشاہ بھی تھا جواب دیتا تھا۔ جمہوریت تب کامیاب ہوتی ہے جب لیڈر شپ جوابدہ ہوتی ہے۔
اب دوسرا دیکھ لیں ہمارے پاکستان کا مسئلہ جب ان سے پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہو گئی جب عدالت فیصلہ کرتی ہے تو کہتے ہیں کیوں نکالا۔ یہ جو آج پاکستان میں ہو رہا ہے یہ نہیں پاکستان بن رہا ہے کبھی ان لوگوں سے جواب نہیں لیا گیا تھا۔ لیڈر جواب دے ہے۔ لوگ کہتے ہیں نا کہاں ہے نیا پاکستان تو آپ کی آنکھوں کے سامنے نیا پاکستان بن رہا ہے۔
جس کو جب سوال پوچھتے ہیں طاقتور سے تو سارے میری تعریف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی سے پوچھو، آصف زرداری سے پوچھا، نواز ، شہباز سے پوچھو سارے کہتے ہیں عمران خان کروا رہا ہے سارے کہتے ہیں عمران خان کروا رہا ہے سارے کیس ان پر پرانے ہیں ہم نے کوئی کیس نہیں کیا۔ یہ ان کے زمانے کے کیس ہیں ہم نے صرف اداروں کو آزاد کیا ہے۔ ہم نے صرف نیب کو آزاد کیا ہے ہم نے ایف آئی اے کو آزاد کیا ہے۔
میرے پاکستانیوں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا کہ تمہارے سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں جہاں پر ایک قانون طاقتور کے لیے اور ایک کمزور کےلئے۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے پاکستان کو نیچے جاتے دیکھا ہے۔میں جب بڑا ہو رہا ہے تھا 1960ءکے اندر پاکستان سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا برصغیر میں۔ بلکہ ایشیا میں پاکستان کی مثال دیتی تھی۔ ہم انڈسٹریل ہو رہے تھے۔ ہماری بیوروکریسی سارے ایشیا میں ٹاپ پر مانی جاتی تھی۔ میں گورنمنٹ ہسپتال میں پیدا ہوا تھا۔ ہمارے ہسپتال کا سسٹم بہترین تھا، ہماری ڈگری دنیا میں مانی جاتی تھی ، مڈل ایسٹ سے لوگ ہمارے پاکستان سے پڑھنے آتے تھے۔ ایچی سن کالج جہاں سے میں پڑا ہوں وہاں سے شہزاد آکر پڑھا کرتے تھے اور وہی پاکستان کو ہم نے آہستہ آہستہ نیچے جاتے دیکھا ۔ ایک تو بد قسمتی سے 1970ءمیں ایک سوشل ازم آئی جو نہ تیتر تھا نہ بٹیر تھا، اس کے بعد اصل تباہی 1985ءکے بعد آئی۔ 1985ءکے بعد نان پارٹی الیکشن میں پیسہ چلنا شروع ہوا ، پہلی دفعہ سیاست کے اندر ڈویلپمنٹ فنڈ کے نام پر سیاستدانوں کو خریدا گیا۔ چھانگا مانگا میں ریسٹ ہاﺅس میں سیاستدانوں کو نیلام کیا گیا۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے پاکستان کو نیچے جاتے دیکھا۔ آج جب ہم اس ملک کو اٹھا رہے ہیں ایک تو جو بھی پبلک آفس ہولڈر ہے ملک کا سربراہ ہے وہ قوم کو جوابدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  افغان امن عمل میں سب کی جیت ہے

آج کل سارے اکٹھے ہو گئے ہیں کوئی دینی جماعت ہے فضل الرحمن اسلام کو لے کر آرہا ہے دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں پہلی دفعہ پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔ دوسری طرف سیکولر بلاول بھٹو وہ بھی ساتھ مل گیا ہے۔پھر ن لیگ جس کا پتہ ہی نہیں کیا ہے وہ بھی ساتھ ہے سب اکٹھے ہیں ان کا صرف ایک مقصد ہے ۔ ان کا صرف ایک مقصد ہے تین لفظ سننا چاہتے ہیں مجھ سے این آر او ۔ جو اب تک اقتدار میں ہے مک مکا چکا ہے۔ میں آپ سب کے سامنے ایک بات کہنا چاہتا ہوں دنیا ادھر ادھر ہو جائے مجھے باہر سے بھی سفارشیں بھجوائی ہیں ایک آدھ بادشاہ نے بھی مجھ سے سفارش کی ہے۔ لیکن یہ وقت ہے آج اگر ہم کھڑے ہو گئے اگر آج ہم نے طاقتور کا احتساب کر لیا ہم نے ان کی پراپرٹی اٹیچ کرنی شروع کر دی ہیں ان کی بے نامی پراپرٹی پکڑنا شروع کر دی ہیں۔ یہ اربوں روپے جو باہر لے کر گئے ہیں باہر کی حکومتوں سے ہم نے بات چیت شروع کر دی ہے پیسہ واپس لے کر آئیں۔ یہ وقت ہے جب یہ پیسہ واپس لے کر آئی۔ دوسری ہم نے پاکستان میں میرٹ کا سسٹم لے کر آنا ہے۔ میں بھی اوورسیز پاکستانی بڑی دیر تک رہ چکا ہوں۔ کرکٹ کھیلنے گیا پڑھائی گئی۔ آدھا سال باہر رہتا تھا کرکٹ کھیلتا تھا میرا سب سے زیادہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ رابطہ رہا ہے۔ میں نے امریکہ میں بھی اور انگلینڈ میں فرسٹ ، سیکنڈاور تھرڈ جنریشن کو آتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے لوگوں کو جب موقع ملتا ہے ، جب ان کو ایسا نظام ملتا ہے جب وہ محنت کرتا ہے اس کو پھل ملتا ہے ہر جگہ میں نے پاکستانیوں کواوپر آتے دیکھا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں میرٹ نہیں ہے موقع نہیں ملتے کیونکہ پاکستان کے اندر وہ سسٹم ہی نہیں ہے۔ کس ملک میں تھوڑے سے طبقے کے لیے انگلش میڈیم ہے، اردو میڈیم ہے اور پھر مدرسے ہیں کس ملک میں تین سسٹم چلتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام ہی ہمارے نچلے طبقے کو اوپر نہیں آنے دیتا۔ ایجوکیشن اپر ہائی جیک ہے۔ امریکہ میں لوگوں کو موقع ملتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے مزدوروں کو دیکھا جن کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھے اور دیکھتے ہی دیکھتے کدھر سے کدھر پہنچ گئے۔ کیوں نہیں کرسکتے یہ ہم اپنے ملک میں یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے پاکستان میں۔ ہم ایک سلیبس لانے کی کوشش کررہے ہیں سارے سکولوں میں ۔ ایک مین سلیبس ہو سارے ملک میں۔ موقع ملے ہمارے لوگوں کو اوپر آنے کا ۔ ہم پہلی دفعہ مدرسوں کی تنظیموں کے ساتھ بیٹھے ہیں ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہے کہ مدرسے کے بچوں کو بھی موقع ملے اوپر آنے کا ۔ ان کیلئے بھی دین کے علاوہ سائنس کے سبجیکٹ پڑھائے جاسکیں ، وہ بھی ڈاکٹر بن سکیں اوپر آسکیں۔ 8لاکھ بچے انگلش میڈیم سکولوں میں جاتے ہیں ۔ سوا تین کروڑ بچے جاتے ہیں اردو میڈیم میں 25لاکھ بچے جاتے ہیں مدارس میں ۔ تین الگ الگ کلچر ہیں ۔ یہ سب سے بڑا قدم ہو گا کہ پاکستان میں ایک تعلیم کا سلیبس آئے تاکہ ہم ایک قوم بنیں۔ اور میرٹ کا سسٹم تب آئے گا پاکستان میں جب ان خاندانوں کی سیاست ختم ہو یہ جاگیر دارانہ سسٹم ختم ہو۔ تحریک انصاف پہلی پارٹی ہے عمران خان کا رشتہ دار کسی عہدے پر نہیں ہے۔ کوئی دوست نہیں ہے۔ ہم اس پارٹی سے نئے لیڈر نکال کر دکھائیں گے۔ مراد سعید ایک عام سٹوڈنٹ سے اٹھ کر آج لیڈر بن چکا ہے۔ فیڈرل منسٹر ہے، حماد اظہر ابھی ہمارا نیا لیڈر ہے جسے ہم نے فیڈرل منسٹر بنایا ہے۔ ہمارا آپ کے سامنے اٹھے گا ہم نظام ٹھیک کر کے موقع دیں گے نچلے طبقے کو اوپر آنے کا۔

ان کا مزید کہناتھا میں نے نمل یونیورسٹی کیوں بنانے کا فیصلہ کیا۔ میں میانوالی میں اپنے حلقے میں جب پھرتا تھا تو بیروزگاری تھی نوجوان جرم کی جانب جارہاتھا، منشیات کی جانب جارہا تھا، میں نے سوچا ٹیکنیکل کالج بناﺅں گا لیکن وہ جگہ اتنی خوبصورت تھی کہ میں نے یونیورسٹی بنا دی۔ اب آپ سوچیں ہم نے پہلے اردو میڈیم کے بچوں کوا نگریزی پڑھائی کورس کرائے۔ بریکفٹ کے ساتھ وہ یونیورسٹی کے ساتھ ایفلیشن تھی۔ میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کتنا بڑا ٹیلنٹ ہمارا نیچے ہے پاکستان میں جس کو موقع نہیں ملتا پاکستان میں۔ وہی بچے انہوںنے اردوسے انگلش سیکھی پھر انہوں نے بریکفیٹ کی ڈگری لی اور بریکفیٹ میں 12-13بچوں کو فرسٹ ڈویژن ملتی ہے ۔ نمل یونیورسٹی کے 55سے 60فیصد بچوں نے فرسٹ ڈویژن لی۔ تو آپ یہ خود سوچئے کہ کتنا زیادہ ٹیلنٹ ہمارا ضائع ہو رہا ہے۔ ہمارا نظام اوپر ہی نہیں آنے دیتا لوگوں کو۔ یہ ہمارا دوسرا بڑا چیلنج ہے۔
آج میں پاکستانیوں کے اتنے بڑے کراﺅڈ سے کہنا چاہتا ہوں کہ جتنا ٹائم گزرتا جارہا ہے ۔10مہینے پہلے مجھے خود اندازہ نہیںتھا کہ اللہ نے پاکستان کو کیا کیا دیا ہے۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی معدنیات دی ہیں۔ پاکستان کے پاس اربوں روپے کے تانبے کے ذخیرے پڑے ہیں۔ ہماری بدقسمتی دیکھیں ریکوڈیک کے اندر اچھا بھلا وہاں باہر سے کمپنی آئی کام شروع ہونے لگا تھا۔ میں نے انکوائری شروع کروائی کہ کیا وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کر کے اس معاہد ے کو ختم کیا جو آج ہم کو بہت زیادہ انٹرنیشنل کورٹ کے اندر 6ارب کا فائن بھی ہوا۔ وہاں اندازہ لگایا جاتا کہ وہاں پر صرف ایک جگہ پر 2ارب کے سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔ تو 10سال سے کوئی کام ہی نہیں ہو رہا اس کے پیچھے کیا ہوگا آج میں بتا رہا ہوں اس کے پیچھے کرپشن تھی۔ پیسے مانگنے تھے رشوت تھی۔ یاد رکھو پاکستانیوں ہمارا ملک پیچھے رہ گیا کرپشن کی وجہ سے۔ بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان میںنہیں آتیں ۔ میں انویسٹمنٹ کیلئے امریکہ میں ، قطر میں، سعودیہ میں چائنہ میں ملا ہوں اور ہر کمپنی ایک بات کرتی ہے کہ وہ اس لیے پاکستان نہیں آتے کہ وہاں کرپشن ہے پیسے مانگتے ہیں۔
آپ اپنے ذہن میں ڈال لیں پاکستان کے پاس کوئلے ، تانبے ، سونے کے ذخائر ہیں ۔ جتنے پاکستان کے پاس تھر کے اندر کوئلے کے ذخائر ہیں پاکستان کو اگلے سو سال تک بجلی کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ 180ارب ٹن کوئلہ پڑا ہے یعنی سعودی عرب سے زیادہ بجلی ہم کوئلے سے بنا سکتے ہیں۔ دو ہفتے قبل آسٹریلیا کی بڑی کمپنی کا وفد مجھ سے ملنے آیا وہ مجھے کہتا ہے ساری دنیا کو پتہ ہے پاکستان کے پاس کتنے سونے، تانبے اور کوئلے کے ذخائر ہیں دنیا اس لیے نہیں آتی کہ پیسے مانگتے ہیں کرپشن ہے۔ تو یہ میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے یہ کمپنیاں آئیں گی جتنا بھی قرضہ یہ چڑھا کر گئے ہیں کلین گورنمنٹ دے کر ہم دکھائیں گے پاکستان کو اٹھا کے۔
ان کا کہنا تھا ہم چائنہ گئے جو زمین اللہ نے ہمیں دی ، ہمارے پاس زر خیز زمین ہے ، چائنہ کی کمپنی سے ہم نے ایم او یو سائن کیا انہوں نے ہمیں بتایا کہ گائے 6لیٹر دودھ دیتی ہے چائنہ کے اندر 20سے 24لیٹر ہے۔ صرف یہ سوچ لیں کہ ہم 6سے 12لیٹر کر لیں تو ہم دودھ ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے اس پر نہ توجہ دی اور نہ ہی کچھ کیا لیکن انشاءاللہ ہم نے چائنہ سے سائن کیا سی پیک کے اندر ۔ وہ ہماری ہر جگہ مدد بھی کر رہے ہیں ۔ انڈسٹری کیلئے ری لوکیشن کر رہے ہیں سی پیک کے اندر ۔ آپ دیکھیں گے آنے والے دنوں میں انڈسٹریل میں ڈویلپمنٹ وہ جو میراخواب ہے ایک دن باہر سے دنیا پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گی۔
مجھ سے سارے پوچھتے ہیں کہ کس طرح کا پاکستان ہونا چاہیے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہر قوم کا ایک ویژن ہوتا ہے ایک نظریہ ہوتا ہے۔ پاکستان بنا تھا اس کا ایک بڑا خواب تھا۔ علامہ اقبال اور قائداعظم ۔ اور میں ایک لیڈر مانتا ہوں قائداعظم کو اور علامہ اقبال جتنا بڑا لیڈر شاید مسلم دنیا میں ہو ان کا خواب کیا تھا میں چاہتا ہوں آپ اپنے بچوں کو جو امریکہ میں بڑے ہوں ان کو ایک بات ضرور سمجھائیں کہ یہ کیا خواب تھا پاکستان کا ۔میں اس پر یہ بات ختم کروں گا اور بڑے غور سے اس بات کو سمجھیں یہ جو آپ کے بچے ہیں ان کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ کیا مقصد تھا اس ملک کے بننے کا۔پاکستان نے ایک فلاحی اسلامی ریاست بننا تھا۔ وہ کون سی اسلامی فلاحی ریاست بننا تھی مدینہ کی ریاست تھی۔ مدینہ کی ریاست کیاتھا، مدینہ کی ریاست ماڈرن سٹیٹ تھی۔ ماڈرن اصولوں پر بنی تھی۔ قرآن شریف میں ہے۔ نبی ﷺ کی پیروی کرو، ان کے راستے پر چلو۔ مدینہ کی ریاست تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی۔ ایک انسانیت کا نظام بنا تھا عدل و انصاف کا نظام بنا تھا۔ مدینہ کی ریاست کے وہ کون سے اصول تھے سب سے بڑا اصول تھا اس میں رحم تھا۔ کہ کمزور کیلئے رحم تھا۔ بیواﺅں ، یتیموں ، بوڑھوں کی پنشن پہلی دفعہ شروع ہوئی تھی۔ ریاست نے بوڑھوں کی بھی ذمہ داری لی تھی۔ پیسے نہیں تھے غریب تھے۔ ان کے ساتھ دو سپر پاور ریاستیں تھی ۔ پرشین ایمپائر اور رومن ایمپائر وہاں غریب غریب تھا اور امیر امیر۔ ان کے پاس تو پیسہ بھی نہ تھا۔ سرکار مدینہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے اپنے کمزور طبقے کو اوپر اٹھانے کی۔ پہلی دفعہ پروگریسو ٹیکسیشن نکلی۔ جو مغرب میں آج کل ہے پیسے والوں سے ٹیکس لیااور کمزوروں کے اوپر خرچ کیا یہ پہلی دفعہ ہوا تھا اس سے پہلے کوئی کنسیپٹ نہیں تھا۔ پیسوں والوں سے لے کر غریبوں کو دینا پہلی دفعہ ہوا تھا۔ پھر خواتین کو حقوق دئیے گئے، پہلی دفعہ خواتین کو حصہ دیا گیا تھا جائیداد کے اندر ۔ آج تک مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا تھا کہ دیہات میں خواتین کو حصہ نہیں دیا جاتا تحریک انصاف قانون لے کر آرہی ہے خواتین کو ان کا حصہ دینا پڑے گا۔ سرکاری مدینہ ﷺ نے غلاموں کو کیسے اوپر اٹھایا انہوں نے فرمایا کہ غلاموں کو آپ نے ایسے ٹریٹ کرنا ہے جیسے وہ آپ کی فیملی کا ممبر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالے افریقیوں کے ساتھ کتنا ظلم ہوا ۔ سرکار مدینہ ﷺنے جب حضرت بلال ؓکو اٹھا کر جب اس معاشرے کا ممبر بنایا اس سے مسلم دنیا واحد مثال ہے جہاں پر غلام بادشاہ بن گئے۔ ہندوستان میں قطب الدین ایبک غلام تھا، ترکی میں میمروز وہ غلام تھے جوبادشاہ بن گئے۔ غلاموں کوآزاد کیا ، خواتین کو حقوق دیا۔ آپ کاآخری خطبہ ایسے ہے یواین او کو چارٹر ہو انسان برابر ہیں ، میثاق مدینہ سائن کیا یہودیوں اور عیسائیوں سے آپ کی عبادتگاہوں کی حفاظت کی جائے گی۔ اور یہ بننا ہے پاکستان نے یہ ہے ہماری ویژن اور یہ پاکستان بنانا ہے ہم نے ایک انسانیت کا نظام ، ایک میرٹ کا سسٹم۔ مدینہ کی ریاست اوپر کیسے گئی میرٹ سسٹم تھا۔ خالد بن ولید وہ کمانڈر تھا جو مسلمانوںکو جنگ احد میں تقریباً شکست دے چکا تھا۔ ان کو اٹھا کر سیف اللہ کاخطاب دے دیا۔ میرٹ کے اوپر ، بڑے پرانوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ دیر سے لڑ رہے ہیں آپ نے خالد بن ولید کو سیف اللہ کا خطاب کیوں دیامیرٹ کے اوپر دیا۔ جو آتا تھا جو بھی امہ میں آتا ہے میرٹ کے مطابق اوپر آجاتا تھا۔ انشاءاللہ آپ دیکھیں کہ جب موقع ملتا ہے ہماری قوم کو ۔
میں نے انگلینڈ سے کرکٹ سیکھی تھی واپس آکر ہم نے اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کوبڑھایا تھا اور اب ورلڈ کپ کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کرکٹ ٹیم کو ٹھیک کرنا ہے۔ کافی مایوسیاں ہو چکی ہیں انشاءاللہ اگلے ورلڈ کپ میں جو آپ پاکستانی ٹیم دیکھیں کہ وہ انشاءاللہ بیسٹ ٹیم لے کر آئیں گے۔ نظام ایسا لے کر آئیں گے کہ ٹیلنٹ اوپر آئے گا۔ اسی طرح باقی کھیلوں کے اندر ۔پی آئی اے کی فکر نہ کریں اس کو بھی ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ جب ہمیں اقتدار ملا تو کوئی ایک ادارہ ایسا نہ تھا جو ریکارڈ خسارہ نہیں کر رہا تھا۔ پی آئی اے، واپڈا، ریلوے جو بھی ادارہ لیں گیس کا محکمہ سب نقصان کر رہے تھے۔ ابھی بھی پوری جنگ چلی ہوئی ہے۔ یہ ہمارا مشکل وقت ہے سال چھ مہینے رہے گا اس ملک کو اپنے پیر پر کھڑا کریں گے۔ جو تاجر آج پاکستان میں کہہ رہے ہیں رجسٹرڈ نہیں ہوں گے جو قرضہ پاکستان پر چڑھا ہوا ہے سارے تاجروں کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا اور سب مل کر تھوڑا تھوڑا ٹیکس دیں تو کوئی مشکل نہیں ہے پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنا ۔ لیکن یہ نہیں ہوگا،ہمیں جو پاکستان ملا دنیا بھر میں سب سے کم ٹیکس پاکستانی دیتے ہیں اور اوپر سے گزشتہ حکومتوں نے جو قرضے چڑھائے ہیں۔
وزیراعظم نے کراﺅڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی نالج چیک کرنا چاہتا ہوں 10سال پہلے پاکستان کا کتنا قرضہ تھا 6ہزار ارب روپیہ دس سال پہلے پاکستان کا قرضہ تھا دس سال کے بعد ان دونوں نے کہاں تک پہنچا یا 30ہزار ارب روپیہ ۔ 60سالو ں کے اندر پاکستان کا قرضہ 6ہزار ارب تھا 10سالوں میں ان دونوں نے 6سے 30ارب پر لے کر گئے۔ یہ پیسہ کدھر گیا اور یہ پیسہ ہم نے ان سے نکالنا ہے۔ میں پھر سے ان کو کہنا چاہتا ہو ں سب اکٹھے ہو جاتے ہیں جمہوریت بچانے کیلئے ، اپنے پیسے بچانے کیلئے۔ آپ سب اکٹھے ہو جائیں آپ نے دھرنا کرنا ہے، کنٹینر دوں گا اس پر دھرنا بھی کرلیں۔ آپ نے جلسے جلوس کرنے ہیں قیمے کے نان کے بغیر آپ کے ورکر نہیں نکلتے ، آپ تحریک انصاف کے تھوڑے سے ور کر بھیج دیں شاید آپ کے جلسے تھوڑے سے بڑے ہو جائیں۔ جو مرضی کرنا ہے کر لیں آپ کو پیسہ واپس کرنا پڑے گا۔ نواز شریف کہتے ہیں میں کھانا گھر سے منگواﺅں گا ، جیل کا کھانا اچھا نہیں ہے، پھر کہتے ہیں ائیر کنڈیشنڈ لگا دو جیل میں ۔ اب ٹی وی چاہئے جیل میں۔کم از کم 60فیصد پاکستانیوں کے پاس ٹی وی نہیں ہے 80فیصد کے پاس ائیر کنڈیشنڈ نہیں ہے تو اگر ہم نے جیل آپ کو سزا کیلئے بھیجا ہے ، جس طرح کی جیل میں یہ رہ رہے ہیں تو آدھی پبلک تو خوشی سے جیل میں جائے گی۔ اگر ان کو ٹی وی بھی مل جائے، کھانا بھی مل جائے، ائیر کنڈیشنڈ بھی مل جائے۔ یہ سزا ان کیلئے ہے۔ ائیر کنڈیشنڈ بھی نکالے جیل سے ۔ مجھے پتہ ہے مریم بی بی بڑا شور مچائے گی ، مریم بی بی پیسہ واپس کر دیں وہ جیل سے جاسکتے ہیں ایک طرف ہماری قوم کے پاس نہ اچھا سکول ہے، نہ ہسپتال نہ پینے کا صاف پانی ہے کیونکہ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے۔اور دوسری طرف آپ جیل میں فزیلیٹیٹ کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ آصف زرداری کا بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ وہ جیل میں جاتا ہے ہسپتال میں چلا جاتا ہے، سارا ٹائم ہسپتال میں گزارتا ہے آصف زرداری آپ کو بھی جیل میں رکھیں گے نہ ٹی وی ہوگا نہ اے سی ہوگا۔ بڑا آسان ہے جیل سے نکلنا پیسہ واپس کرو ہم آپکو جیل سے نکال دیں گے۔ اچھا ایک اور خاقان عباسی بار بار تقریریں کر رہے تھے مجھے جیل میں ڈالو اگر میں نے کچھ غلط کیا اب ہم نے اسے جیل میں ڈال دیا۔ مولانا فضل الرحمن کہتا ہے اپوزیشن کو کیا ہم سب اس وقت اکٹھے ہوں گے جب جیل میں ہوں گے۔ ہاں مولانا فضل الرحمن جیل میں اکٹھے ہوں گے۔ دیکھیں پاکستانیوں یہ ہے تبدیلی ،کبھی آج تک طاقتور کا احتساب نہیں ہوا ، اب احتساب ہو رہا ہے اسی وجہ سے انشاءاللہ ہمارا ملک اوپر اٹھے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ کیا چاہتے میں ڈونلڈ ٹرمپ سے باتیں کروں۔ میں پرچیاں لایا ہوں جیب میں پرچیوں سے پڑھوں گا۔ مجھے بڑا فخر ہے اس چیز پہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا افغانستان میں کوئی ملٹری حل نہیں ہے۔ میں بار بار کہتا رہا جنگ سے مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔ مجھے ہر قسم کا برا بھلا کہا گیا۔ دہشت گردی ، طالبان خان کہا گیا۔ اللہ الی الحق ہے سچ کا خدا ہے آج ساری دنیا کہہ رہی ہے۔ افغانستان میں ملٹری سلوشن نہیں ہے۔ انشاءاللہ میں آپ کو بالکل شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں جب 23سال پہلے سیاست میں آیا تھا میں نے اس وقت ایک بات کہی تھی اس پر میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں پاکستانیوں 23سال پہلے میںنے ایک چیز کہی تھی وہ یہ تھا کہ نہ آج تک کسی کے سامنے جھکا ہوں سوائے اللہ کے اور انشاءاللہ کبھی اپنی قوم کو کسی کے سامنے نہیں جھکنے دوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  2 مرتبہ گرفتار ہوکر جیل کاٹ آئی ہوں، گرفتاری کا خوف تھا وہ اب ختم ہوگیا ہے:مریم نواز