Senat

کب کون چیئرمین،ڈپٹی چیئرمین سینٹ رہا

EjazNews

سینیٹ میں اب تک 8چیئرمین منتخب ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق خیبر پختونخوا اور سندھ سے ہے۔ بلوچستان کو سینیٹ کی چیئرمین شپ میں اب تک ایک نمائندگی ملی ہے صادق سنجرانی کی صورت میں ان سے پہلے کوئی چیئرمین سینٹ بلوچستان سے نہ تھا۔ البتہ خیبر پختونخوا کے دو اہم رہنمائوں نے سینیٹ کی قیادت کی۔ سینیٹ کے پہلے چیئرمین خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما حبیب اللہ خان کنڈی تھے۔ وہ 6اگست 1973ء کو چیئرمین سینٹ بنے۔ اور 5دسمبر 1978ء کو اپنے انتقال کے وقت تک سینیٹ کے چیئرمین رہے، ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھاوہ بھٹو کے قریبی دست راست تھے۔ حبیب اللہ خان کنڈی دو مرتبہ چیئرمین سینٹ بنے۔ پہلی مرتبہ انہوں نے 5اگست 1975ء کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اس کے اگلے روز سے دوبارہ چیئرمین سینٹ منتخب ہو گئے۔ وہ 4جولائی تک مارشل لاء کے نفاذ تک چیئرمین سینٹ رہے۔ سابق صدرضیاء الحق نے جہاں بھٹو حکومت کو برطرف کیا وہاں آئین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ کو تحلیل کر دیا۔ آئین کی رو سے سینیٹ کو تحلیل نہیں کیا جاسکتا تھا مگر طاقت کا سرچشمہ عوام بھی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی۔ اسی دور میں مسلم لیگ اور دوسرے قائدین نے ابھرنا شروع کیا، لہٰذا چیئرمین سینٹ کا عہدہ مارچ 1985ء تک غیر جماعتی انتخابات کے انعقاد تک خالی رہا ۔ 21مارچ 1985ء کو غلام اسحق خان، خیبر پختونخوا کے دوسرے چیئرمین سینٹ منتخب ہوئے انہیں آزاد امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔وہ 21مارچ 1988ء سے 12دسمبر 1988ء تک چیئرمین سینٹ رہے ۔ 12دسمبر کو انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا ۔غلام اسحق خان21مارچ 1998ء سے 12دسمبر 1998ء تک چیئرمین سینٹ رہے۔
پنجاب سے منتخب ہونے والے وسیم سجاد بھی چیئرمین رہے۔24دسمبر 1988ء کو وسیم سجاد نے چیئرمین شپ کا عہدہ سنبھال لیا۔ وہ 20مارچ 1994ء تک چیئرمین سینٹ رہے۔ 1997ء میں وہ پھر چیئرمین سینٹ منتخب اور ہوئے اور مارشل لاء کے نفاذ 1999ء تک چیئرمین سینٹ رہے پھرسابق صدر مشرف نے سینٹ کو پہلے معطل اور پھر تحلیل کر دیا۔ 1999ء سے 2003ء کے 22مارچ تک نہ سینٹ رہا نہ سینیٹر اور نہ چیئرمین سینٹ۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کرکٹ ٹیم کی بھارتی ٹیم سے ہار

23مارچ 2003ء کو محمد میا ں سومرو نے نئے چیئرمین سینٹ کا عہدہ سنبھالا وہ 11مارچ 2009ء تک چیئرمین سینیٹ رہے۔ ان کا تعلق سندھ کے سومرو خاندان سے تھا۔ سندھ سے منتخب ہونے والے محمد میاں سومرو پہلے چیئرمین سینٹ تھے۔ ان کے بعد 12مارچ 2009ء کو پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک چیئرمین سینٹ منتخب ہوئے ،وہ 11مارچ 2012ء تک سینٹ کے چیئرمین رہے۔ بعد ازاں نئیر بخاری 12مارچ 2015ء تک سینٹ کے چیئرمین رہے۔نیر بخاری 12مارچ 2012ء سے 12مارچ 2015ء تک پیپلز پارٹی کے چیئرمین سینٹ رہے۔ رضا ربانی نے 12مارچ 2015ء کو سینٹ کی چیئرمین شپ سنبھالی ان کے عہدے کی معیاد 12مارچ 2018ء کو مکمل ہوگئی، ان کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔
سینٹ کی چیئرمین شپ کے حصول کا میدان سب سے زیادہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں رہا، پیپلز پارٹی 4مرتبہ اپنا چیئرمین منتخب کروانے میں کامیاب حاصل کی جبکہ محمد میاں سومرو( ق) لیگ کے امیدوار تھے۔ ایک دفعہ مسلم لیگ ن جبکہ ایک دفعہ آزاد محمد میا ں سومرو کامیاب ہوئے۔ پیپلز پارٹی تو چار مرتبہ اور صوبہ سندھ کو چار چار مرتبہ سینٹ میں نمائندگی حاصل ہوئی۔
اس کا اگر ہم مختصرجائزہ لیں تو 1973ء میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینٹ کی تقرری حبیب اللہ خان مروت کی ہوئی ان کے بعد سینٹ منسوخ کر دی گئی۔ پھر غلام اسحق خان آئے اور پھر ان کے بعد ان کی جگہ وسیم سجاد نے یہ عہدہ سنبھالا۔ وسیم سجاد کے بعد پھر یہ عہدہ منسوخ کر دیا اور پھر ان کے بعد محمد میاںسومرو، فاروق ایچ نائیک، نیئر ربانی اور رضا ربانی آئے اور اس وقت موجودہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ہیں۔
گزشتہ سینٹ کے نئے انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی، اسی طرح کی صورتحال گزشتہ انتخابات میں بھی تھی۔ سینٹ میں ماضی میں بھی کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ تھی اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
اگر ہم دیکھیں تو سینیٹ سے اب تک 8سینیٹروں نے استعفیٰ دئیے۔ محمد رفیق رجوانہ نے گورنر پنجاب منتخب ہونے کے بعد سینیٹ سے استعفیٰ دے دیا۔ظفر اقبال جھگڑا گورنر خیبر پختونخوا منتخب ہوئے تو انہوں نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سید مصطفی کمال نے اپنی پارٹی بنائی توپرانی پارٹی کی سیٹ چھوڑ دی۔بابرا عوان اور مشاہد حسین فلور کراس کر گئے۔اس وقت مشاہد حسین کا تعلق مسلم لیگ ق اور بابر اعوان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ سید غنی اور عبداللطیف انصاری نے بھی استعفیٰ دے دئیے۔ ان میں عبد اللطیف اور ظفر اقبال جھگڑا کے عہدے کی معیاد 2021ء تک مکمل ہوناتھی۔ باقی سب کے عہدے 2018ء میں ختم ہور ہے تھے ۔ لہٰذا استعفیٰ دینے سے 2ارکان کو زیادہ فرق پڑا باقی کی معیاد تو پوری ہو ہی رہی تھی۔ نہال ہاشمی کی جگہ ڈاکٹر اسد اشرف منتخب ہوئے۔ مصطفی کمال کی جگہ مولانا تنویر الحق تھانوی اور محمد اعظم خان ہوتی کی جگہ محمد خان سواتی نے یہ عہدہ سنبھالا۔ ظفر اقبال جھگڑا کی جگہ سردار یعقوب خان اور عبداللطیف انصاری کی جگہ شیری رحمن منتخب ہوئی۔ سید آصف سعید کرمانی ظہیر الدین بابر اور عبدالحفیظ شیخ کی خالی کردہ سیٹ تاج حیدر نے سنبھال تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  نور ولی محسود پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد
موجودہ چیئرمین سینٹ کو مسلم لیگ ق، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی حمایت سے چیئرمین شپ ملی

اگر ہم چیئرمین سینٹ کے گزشتہ انتخابات کی طرف نظر دوڑائیں تو موجودہ وزیراعظم عمران خان، میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری دونو ں کی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ نہیں تھے۔ دونوں کی حمایت کو وہ اپنے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں ۔یہ ان کی مقبولیت کو بھی داغدار کرنے کے مترادف ہوگی، لیکن اس سب کے باوجو د گزشتہ انتخابات میں چیئرمین شپ کیلئے انہوں نے اپنے 13ووٹ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حوالے کیے اور یوں پیپلز پارٹی، بلوچستان کے سینیٹرز ، ق لیگ اور تحریک انصاف نے مل کر موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو جتوایا۔
سینٹ کی اہمیت
چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدے ہمیشہ سے اہمیت کے حامل تھے لیکن پی ٹی ٹی بمقابلہ اپوزیشن یہ عہدے مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ کسی جماعت کو اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ان دو عہدوں پر زیادہ بھروسہ کرنا پڑے گا۔ یہ دونوں عہدے دار ہی مستقبل میں ان پر پڑنے والی کسی مصیبت سے بچا نے میں اہم کر دار بھی ادا کر سکتے ہیں ۔یہی وجہ ہے سابق دور حکومت میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے چیئرمین رضا ربانی کے ساتھ تھی جبکہ خود پیپلز پارٹی اتحاد بنا کر موجودہ چیئرمین کو لے کر آئی ۔
جہاں تک چیئرمین سینٹ کیخلاف تحریک چل رہی ہے وہی پر ڈپٹی چیئرمین کیخلاف بھی تحریک شروع ہو چ کی ہے۔ ہم سینٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کا تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں۔
1977ء میں عبدالمالک بلوچ بلوچستان کے پہلے ڈپٹی چیئرمین تھے۔ وہ مارشل لاء کے نفاذ تک 4اپریل تک ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔ان کے بعد سینٹ تحلیل کر دی گئی اور یہ عہدہ بھی سیاسی منظر سے غائب ہو گیا۔ ملک محمد علی خان 23جنوری 1986ء سے 20مارچ 1988ء تک ڈپٹی چیئرمین سینٹ رہے۔پھر سید محمد فضل آغا 21مارچ 1998ء کو ڈپٹی چیئرمین سینٹ بنے۔ وہ اس عہدے پر 20مارچ 1991ء تک فائز رہے۔ ان کے بعد نور جہاں پانی زئی نے 21مارچ 1991ء کو یہ عہدہ سنبھالا۔ نور جہاں پانی زئی واحد خاتون ہیں جو ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر فائزہوئیں وہ 20مارچ 1991ء تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ 21مارچ 1997ء کو یہ عہدہ مری قبائل کے مضبوط شخص میر ہمایوں خان مری کے پاس آیا۔پھر سینٹ کی بحالی کے بعد 12مارچ 2003ء سے 15مارچ 2003ء تک خلیل الرحمن ڈپٹی چیئرمین رہے۔ ان کے بعد ڈپٹی چیئرمین شپ جمالی قبیلے کے پاس چلی گئی، جان محمد جمالی12مارچ 2006ء سے 11مارچ 2012ء تک ڈپٹی چیئرمین رہے۔پھر آئے صادق علی بلوچ جو 3مارچ 2012ء سے 12مارچ 2015ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کے بعدمولانا غفور حیدری نے یہ منصب منصب سنبھالا اور ان کےبعد اب یہ عہدہ سلیم مانڈیوالا کے پاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ورلڈ تھنڈر نیشن کپ میں پاکستانی ٹیم نے انڈین ٹیم کو فائنل میں ہرا کرجیت کے جھنڈے گاڑ دئیے