Heart

دل کی حفاظت کیجئے ،دل کی صحت سے ہی زندگی کی صحت ہے

EjazNews

انسانی جسم میں دل وہ عضو ہے،انسانی دل ایک منٹ میں60سے لے کر100بار دھڑکتا ہے، جو صحت مندی کی علامت ہے، لیکن اگر اس رفتار میں کمی بیش ہوجائے، تو پھر یہ بے ترتیبی بیماری کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔ماں کے پیٹ سے لے کر موت تک دل دھڑکتا ہے اور تقریباً ایک دھڑکن میں پورے جسم کو 70سے لے کر 120ملی لیٹر سی سی تک خون فراہم کرتاہے۔اس لحاظ سے دل چوبیس گھنٹوں میں تقریباً چھے ہزار تا بارہ ہزار لیٹر خون پمپ کرتا ہے۔بظاہر یہ ایک چھوٹا عضو ہے، لیکن بلاشبہ جس نوعیت کا اور جس قدر کام انجام دیتاہے، اُس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اس کی کارکردگی بھی کچھ متاثر ہوجاتی ہے۔مگر کارکردگی میں یہ کمی یا کمزوری درحقیقت بعض عوارض ہی کے سبب ہوتی ہے۔دل کی کمزوری کو عمر رسیدہ افراد کی بیماری بھی کہا جاتا ہے، جو عموماً60سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے کارڈیک فیلیئر کہتے ہیں۔جس کی بنیادی علامت،عمر میں اضافے کے ساتھ دل کے پمپ کرنے کی صلاحیت کا کم ہوجاناہے۔
دنیا بھر میں دل کی کمزوری کے حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر سال مزید تحقیق کے ساتھ ان بنیادی اصولوں کو جانچا بھی جاتاہے۔جو دل کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔اس لحاظ سے ناتواں دل کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک علامت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ مثلاً اگر آپ کوئی کام نہیں کررہے، مگر سانس پھول رہا ہے یا پھر تھوڑا سا کام کرتے ہی نقاہت محسوس ہونے لگتی ہے یا پھر چلنے پھرنے کے دوران سانس پھول جاتا ہے کہ بنیادی طورپر دل ایک دھڑکن میں ایک بار سکڑتا اور پھر اپنی اصل حالت میں واپس آجاتا ہے اور ان دونوں حالتوں میں اسے کام کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، جب یہ سکڑتا ہے، تو اسے زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے اور جب پھیلتا ہے یا اپنی اصل حالت میں واپس آتا ہے، تو اس کے لیے بھی اسے طاقت لگانی پڑتی ہے۔
اس صورت میں اگر دل کمزوری کا شکار ہوجائے، تو ظاہر ہونے والی سرفہرست علامات میں سانس کا پھولنا، نقاہت اور پائوں کا متورم ہوجانا شامل ہیں۔جبکہ جگر کے پاس درد بھی محسوس ہوتاہے۔بعض اوقات پیٹ میں پانی جمع ہونے لگتا ہے اور ایک عجیب سی کمزوری کا احساس غالب رہتا ہے۔ابتداً یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں اور پھر ان میں آہستہ آہستہ شدت پیدا ہونے لگتی ہے۔مریض تصور کرتا ہے، جیسے اسے فلو ہوگیا ہے۔ نیز، اس مرحلے میں مریض کو چہل قدمی کرتے ہوئے تھکاوٹ اور سینے میں گھٹن سی محسوس ہوتی ہے، سانس بھی پھولتا ہے۔اصل میں دل کی کمزوری میں اس کے سکڑنے اور پھیلنے کا عمل متاثر ہوجاتاہے۔
اس کی وجوہات میں بلڈپریشر، شراب نوشی، تمباکونوشی، دل کی دھڑکن میں تیزی ذیابطیس، حمل، بڑھتی ہوئی عُمر، تھائی رائیڈ غدود اور بعض ادویہ کا استعمال شامل ہیں۔تاہم، دل کی اس ناتوانی کی ایک اہم وجہ ہارٹ اٹیک کے بعد کی حالت بھی قرار دی گئی ہے۔ایک فرد جب ان تمام علامات کے ساتھ ماہر امراضِ دل سے رجوع کرتا ہے، تو مرض کی تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹس تجویز کیے جاتے ہیں، جن میں خون کے ٹیسٹس کے علاوہ ایکسرے، ای سی جی (الیکٹرو کارڈیو گرام) اور ایکو وغیرہ شامل ہیں۔ حتمی تشخیص کے بعد مرض کی نوعیت کے اعتبار سے ادویہ اور ان کی مقدار تجویز کی جاتی ہے اور ساتھ ہی احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔دل کی کمزوری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ صحت مند طرز زندگی اپنایا جائے۔روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کے ساتھ اپنا بلڈپریشر کا خیال رکھا جائے، جبکہ کھانے پینے میں احتیاط کے ساتھ تمباکو اور شراب نوشی سے مکمل اجتناب برتاجائے، تو اس طرح صرف دِل کی کمزوری ہی نہیں، دیگر کئی عوارض قلب سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔علاوہ ازیں، زائد وزن، ذیابطیس، بُلند فشارِ خون اور کولیسٹرول وغیرہ پر بھی قابو رہے، تاکہ صحت مند دل کے ساتھ جیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  دل کے امراض میں غذائوں کا کیا کردار ہے، آئیے جانتے ہیں