imran khan-3

دنیا امیر کو نہیں جو انسانیت کیلئے کچھ کر جاتے ہیں انہیں یاد رکھتی ہے: وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے میانوالی ایکسپریس اور نمل یونیورسٹی میں ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا۔وزیراعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دیں، ان کا کہنا تھا کہ نمل یونیورسٹی میں ہسپتال کا قیام خواب تھا۔ نمل انسٹی ٹیوٹ میں ہسپتال انیل مسرت بنوا رہے ہیں۔ انسانیت کی بھلائی کرکے انسان کو روحانی خوشی ملتی ہے، جب اس ہسپتال میں مریض آئیں گے وہ آپ کو دعائیں گے تو آپ کو سکون ملے گا۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی امیر آدمی کو یاد نہیں کرتی بلکہ انہیں یاد کرتی ہے جو انسانیت کے لیے کچھ کرجاتے ہیں ، مدر ٹریسا کو دنیا یاد کرتی ہے، گنگا رام ، گلاب دیوی کے نام سے ہسپتال ہیں انہوں نے انسانیت کے لیے کام کیا۔ جو انسانوں کے لیے کچھ کرتا ہے اسے دنیا میں عزت ملتی ہے اور دنیا سے جانے کے بعد بھی عزت ملتی ہے۔ایک وقت تھا جب لوگوں نے کہا کہ آپ کے پا س فیکلٹی ہی نہیں ہے آج سب جانتے ہیں نمل یونیورسٹی کی کیا اہمیت ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا ایک وقت تھا میانوالی میں مفرور بستے تھے یہ علاقہ ایسا تھا جہاں کوئی نہیں آتا تھا، ہم نے میانوالی میں ٹیکنیکل کالج بنانے کا سوچا تھا لیکن یہ خوبصورت جگہ دیکھ کر ہم نے یونیورسٹی بنانے کا سوچا تھا۔نمل کو توسیع دینے اور اس علاقے کو سہولیات دینے کے لیے ہسپتال قائم کیا جارہا ہے جس سے نالج سٹی کا وژن آسانی سے پورا ہوسکے گا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کمزور ہمیشہ پکڑا جاتا ہے، طاقتور بچ جاتا ہے، آج طاقتور کو قانون کے دائرے میں لارہے ہیں۔احتساب ہو رہا ہے،چین کی مثال سب کے سامنے ہے چینی صدر نے گزشہ 5سال میں 450سے زائد وزیروں کو جیلوں میں ڈالا ، پھر بھی ریکارڈ ترقی کی۔ان کا کہنا تھا میں اللہ سے دعا کرتا تھا کہ ایک موقع دے جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کا احتساب کروں، جب تک ملک لوٹنے والوں کا احتساب نہیں ہوگا پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا بیرون ملک اور بھی بڑے بڑے کاروبار کرنے والے پاکستانی ہیں ، پاکستان میں کرپشن زیادہ تھی اس وجہ سے سرمایہ کار آنا نہیں چاہتے تھے، یہ کیسے ہوس کتا ہے کہ 60سال میں قرضہ 6ہزار ارب ہو اور گزشتہ 10سا ل میں قرضہ 6سے 30ارب ہو جائے۔ آخر ہم نے ملک کام کیا کیا ہے؟ کچھ منصوبے ضرور بنائے مگر وہ بھی نقصان میں گئے، میٹرو منصوبہ بنایا، 12ارب ہر سال نقصان ہوگا۔ان کا کہنا تھا یہ پیسہ جن کی جیبوں میں گیا ہے جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا یہ ملک آگے نہیں بڑھے گا۔
ان کا کہنا تھاجتنے کیسز ہیں ہم نے نہیں کیے، ہم نے صرف اداروں کو یہ کہا ہے کہ جس نے چوری کی ہے، جس نے اقتدار میں رہ کر ملک کو یہاں پہنچایا ہے اس کا احتساب کریں۔جو مرضی دھمکیاں دینی ہیں، ڈرامے کرنے ہیں، باہر کے ملکوں سے بھی سفارشیں بھجوائیں ہیں، جو مرضی کرنا ہے کریں اس ملک کے اندر احتساب ہو کر رہے گا اور طاقتور کا ہوگا۔کمزور ہمیشہ پکڑا جاتا ہے، طاقتور بچ جاتا ہے، آج طاقتور کو قانون کے دائرے میں لارہے ہیں۔ اصل انتقامی کارروائی تو میرے خلاف کی گئی تھی، میرے خلاف 32 ایف آئی آر درج کرائی گئیں، سپریم کورٹ میں مقدمے کیے گئے، لیکن میں لندن نہیں بھاگا، شور نہیں مچایا، میں نے عدالت میں دستاویزات دیں اور اس کے بعد عدالت نے مجھے صادق اور امین کہا۔ جو لوگ شور مچارہے ہیں انہوں نے ایک دستاویز نہیں دیں، کبھی قطری خط دیتے ہیں وہ فراڈ نکلا، کبھی کیلیبری فونٹ وہ 2007 میں آئی کانٹریکٹ 2006 میں ہوا ، سارے معاہدے فراڈ تھے۔ان کا کہنا تھا منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک لے جانے والوں کا مفاد آپ لوگوں سے جدا ہے، گزشتہ 10 برس میں جتنا پیسہ لوٹا، وہ واپس لائیں گے۔منی لانڈرنگ کا پیسہ ملک میں لاکر احساس پروگرام میں لگایا جائے اور اس منصوبے سے غریب عوام کے مسائل دور کیے جائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، ریلوے غریب عوام کی سواری ہے جس کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ہماری حکومت کو پہلے ایک سال میں کٹھن مسائل کا سامنا کرنا پڑا تاہم بتدریج مسائل میں کمی آرہی ہے۔وسائل کی دستیابی کے ساتھ ہی عوام کو طبی اور تعلیمی سمیت ریلوے میں بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا چین کے ساتھ ایم ایل ون منصوبہ پر بات چیت ہو چکی ہے جس کی تکمیل کے ساتھ ہی کراچی سے لاہور سفر محض 8 گھنٹے پر مشتمل ہوگا۔ برطانوی فوج کے جانے کے بعد ریلوے نظام میں بہتری کے لیے کسی نے توجہ نہیں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ اہلیان میانوالی نے سیاست میں اس وقت ساتھ دیا جب کسی نے نہیں دیا تھا اور گزشتہ انتخابات میں ریکارڈ ووٹ دئیے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے جنوبی علاقے ترقی کے میدان میں انتہائی پیچھے ہیں تاہم ہماری حکومت خصوصی طور پر ان شہروں اور گاؤں پر توجہ دے گی۔ میانوالی میں پہلے مرحلے میں تدریسی نظام، دوسرے مرحلے میں طبی مراکز اور پھر پانی کی ترسیل کا نظام بہتر بنایا جائےگا۔پانچ سال بعد آپ دیکھیں گے کہ پہلے میانوالی کیا تھا اور اب کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:  جدوجہد ملک میں آئینی اور جمہوری حکمرانی کیلئے ہو رہی ہے کیونکہ موجودہ حکمرانی آئینی نہیں:مولانا فضل الرحمن