Mufta Ismail+m+s

مریم نواز کیخلاف نیب کی درخواست خارج، شاہد خاقان عباسی14روز ریمانڈ پر، مفتاح اسماعیل حفاظتی ضمانت پر

EjazNews

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائے جانے کے تقریباً ایک سال بعد مریم نواز کو ان جائیدادوں کی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کرنے پر 19 جولائی کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔جس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت پہنچی تھیں، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں ہونے والی سماعت میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی، ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق عدالت کادائرہ اختیار نہیں ہے، جبکہ یہ عدالت کا انتہائی خصوصی دائرہ اختیار ہے۔
جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ، عدالت کویاد دلانے میں آپ کوایک سال کاعرصہ کیوں لگا۔
اس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ وہی عدالت کو بتارہا ہوں۔
جس پر مریم نواز نے کہا کہ تھوڑی سی دیر کردی بس ایک سال۔
اس پر واپس جواب دیتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دیر آئے درست آئے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت میں ایون فلڈ ریفرنس کا حکم نامہ بھی پڑھ کر سنایا۔
دونوںطرف کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نواز کیخلاف دائر درخواست کو ناقبل سماعت قرار دیتے ہوئے خار ج کر دیا ۔

مریم نواز کا احتجاجاً زیب تن کیا گیا لباس

شاہد خاقان عباسی کو 14روز جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
ایل این جی کیس میں گزشتہ روز گرفتار ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے آغاز پر معزز جج نے کہا کہ آپ کیا کہنا چاہیں ہے؟ جس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ ابھی تک نیب کو ایل این جی کیس سمجھ نہیں آیا، میں چاہتاہوں 90روزہ جسمانی ریمانڈ دیں تاکہ نیب کو کیس سمجھا دوں۔ ان کا کہنا تھا میں نیب کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا تھا پھر بھی مجھے گرفتار کیا گیا۔
نیب کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کے 14روز جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔ جسے منظور کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسی روٹی روایت بھی ذائقہ بھی

مفتاح اسمٰعیل کی حفاظتی ضمانت منظور
مفتاح اسمٰعیل کی گرفتاری کیلئے گزشتہ روز نیب کی ٹیم نے کراچی میں واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا لیکن وہ گھر پر موجود نہ تھا۔
مفتاح اسمٰعیل کی جانب سے ان کے وکیل حیدر وحید ایڈووکیٹ پیش ہوئے جنہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف کیس اسلام آباد کی عدالت کا ہے۔لہٰذا انہیں حفاظتی ضمانت دی جائے تا کہ ملزم متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکیں۔جس پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو نے 7 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے 5 لاکھ روپے بطور زرِ ضمانت جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے سابق منیجنگ ڈائریکٹر پی ایس او عمران الحق کی گرفتاری بھی قریب ہے۔ شنید ہے چیئرمین نیب نیان کے وارنٹ گرفتاری پر بھی دستخط کر دئیے ہیں اور نیب ٹیم ان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔