shabaz-sharif

نیب کی جیلوں میں اکثریت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ہے جبکہ دوسرا نمبر پیپلزپارٹی کا ہے:اپوزیشن لیڈرمیاں شہباز شریف

EjazNews

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا کہنا تھا عمران نیازی اور نیب کی ملی بھگت سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر بھرپور وار ہوا ہے، آج ایک بھونڈے طریقے سے شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرنے کے لیے نیب کے پاس وارنٹ نہیں تھے، ڈی جی نیب نے انہیں پہلے واٹس ایپ پیغام دکھایا جبکہ پھر انہیں وارنٹ گرفتاری کی کاپی دکھا کر حراست میں لیا گیا۔یہ وہ تماشا ہے جو عمران خان اور نیب کی ملی بھگت سے لگا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے 11 ماہ میں ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا اور اس تباہ شدہ معیشت کے جنازے کو ان گرفتاریوں کے پیچھے چھپانا چاہتے ہیں، جبکہ ظلم و زیادتی کرکے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا شاہد خاقان عباسی نے ملک میں 5 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگایا جبکہ گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں شاہد خاقان کا کلیدی کردار ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ نواز شریف کو اس ملک کے غریب عوام کا دکھ درد تھا اور ہے، اسی کو دیکھتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں نچلی سطح پر اضافہ نہیں کیا اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن نہیں لی گئی۔ شاہد خاقان کا قصور کیا ہے کہ وہ نواز شریف کا ساتھی ہے اور دلیر آدمی ہے جو سمجھوتہ نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ احتساب کہاں ہے، شفاف انصاف پر مبنی احتساب پاکستان میں کہاں ہے، یہ احتساب کے نام پر مسلم لیگ (ن) کے خلاف بدترین انتقام ہے، قوم سمجھ چکی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عمران خان نے دنیا میں پاکستان کو ایسا ملک بنادیا ہے، جس کی ہر موقع پر جگ ہنسائی ہوتی ہے، عمران خان اپوزیشن کو گالی دینے والے کو وزیر بنادیتے ہیں جبکہ اگلے دن وزارت واپس لے لیتے ہیں، آپ کبھی ایف بی آر چیئرمین لگاتے ہیں کبھی ہٹا دیتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا عمران خان نے بجٹ میں عوام پر ٹیکسز کا کلہاڑا چلایا، چند دن پہلے ہونے والی تاجروں، سرمایہ کاروں نے ہڑتال کی، 71 سالہ تاریخ میں ایسے ٹیکسز کبھی نہیں لگائے گئے جو انہوں نے لگائے ہیں۔ آپ نے دنیا میں پاکستان کو بدنام کردیا، یہاں کون آکر سرمایہ کاری کرے گا، معیشت، کسان کا بیڑہ غرق کردیا گیا، روٹی کی قیمت 15 سے 20 روپے تک پہنچ گئی ہے، غریب کے لیے جینا مشکل ہوگیا ہے۔ ان تمام وجوہات اور بدترین غفلت کا غصہ مسلم لیگ (ن) پر گر رہا ہے اور نیب کی جیلوں اور عقوبت خانوں میں جو لوگ بند ہیں اس میں اکثریت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ہے جبکہ دوسرا نمبر پیپلزپارٹی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ اربوں، کھربوں کی کرپشن کے کیسز نیب کے پاس پڑے ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی کیونکہ وہ حکومت وقت کے کیس ہیں، اس کی ایک مثال بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) پشاور کی ہے۔
ان کا کہنا تھا عمران خان نے پاکستان کو برباد کردیا لیکن وقت آئے گا کہ قوم آپ سے اس کا حساب لے گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کی قیادت میں خدمت کی، غلطیاں ہم سے بھی ہوئی ہوں گی کیونکہ ہم بھی انسان ہیں۔عمران خان ایک ناکام، ضدی، غصے سے بھرے ہوئے، مغرور اور سلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں، انہوں نے کبھی سب کی بات نہیں کی، 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے پر بھی انہوں نے میں، میں میں کیا لیکن ہم کی بات نہیں کی۔ نیب اور عمران خان کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو میگا کرپشن کے کیسز کے باوجود نیب سویا ہوا نہیں ہوتا، تاہم ہمیں صرف ایک بات کی سزا مل رہی جسے ہم نے بھگتا ہے اور بھگتیں گے لیکن عمران خان کو یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔
اپوزیشن لیڈرمیاں شہباز شریف نےپچھلے دنوں ان کے خاندان سے متعلق چھپنے والی نیوزی سٹوری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ زدگان کی رقوم کے حوالے سے بدترین الزام لگایا گیا اور عمران خان نیازی نے مجھ پر اپنے ساتھیوں کے ذریعے وار کیا، عمران نیازی جھوٹوں کا سردار ہیں اور باقی سب ان کے چیلے ہیں، دن رات جھوٹ بول کر قوم کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے زلزلہ زدگان اور ایرا سے متعلق مجھ پر الزام لگایا، اگر اس میں میری کرپشن تھی تو نیب اور عمران خان کو آشیانہ اور گندے نالوں کے کیس کی کیا ضرورت تھی، سیدھا سیدھا اس میں گرفتار کرلیتے۔ آپ نے مجھے تو بدنام کرنا تھا لیکن برطانیہ میں پاکستان کو بدنام کروانے کی کیا ضرورت تھی، عمران خان کا مجھ پر یہ بدترین وار ہے جو ایٹمی حملے سے کم نہیں ہے لیکن خود برطانیہ نے اس خبر کی تردید کردی اور کہا کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں حقائق یہ ہیں کہ زلزلہ 2005 میں آیا اور اسی سال میں برطانیہ میں غریب الوطنی میں تھا جبکہ 2007 کے آخر میں ہمارا خاندان واپس پاکستان آیا، جس کے بعد 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں اگست، ستمبر میں اس صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا۔ 2005 سے 2008 اگست تک میرے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا جبکہ یہ الزام خوردبرد کا ہے کہ میں نے زلزلہ زدگان کا پیسہ کھا کر اپنے بچوں کو دے دیا، اس کے علاوہ دوسرا الزام ایرا کا ہے جو وفاق کے زیر انتظام ہے اور اس پر صوبوں کا کنٹرول نہیں ہے۔برطانیہ کے ادارے ڈیفڈ نے 2008 سے 2018 تک پنجاب کو 50 کروڑ پاؤنڈ دیا، اس کا مجھ سے حساب لیا جائے لیکن اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کا سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان