newzeland lava

6سو سال پرانا لاوا باعث رحمت بن گیا

EjazNews

جب ہم سیاحت کی بات کرتے ہیں کہ اس کو فروغ دے کر کروڑوں ڈالر کمائے جاسکتے ہیں ۔ یہ کہنا بہت آسان ہے لیکن سیاحت سے کروڑوں ڈالر کمانا بہت مشکل کام ہے۔ اس کے لیے آپ کو سیاحوں کیلئے دلچسپی اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ان کو انفراسٹرکچر اور سہولتیں بھی دینا پڑتی ہیں پھر کمال مہارت کے ساتھ آپ سیاحوں کو اپنے ملک میں لانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے۔ سیاح جہاں جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی محسوس کرتے ہیں اور وہاں پر ان کیلئے دنیا بھر کی سہولتیں بھی موجود ہوتی ہے۔ کچھ ایسا ہی نیوزی لینڈ میں بھی دیکھنے میں آیا جس نے اپنے 6سو سال پرانے لاوا کو کمال ہوشیاری سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا لیا۔


نیوزی لینڈ کی حکومت نے کمال مہارت سے کئی سوفٹ اونچے اس لاوے کو واکنگ اور جوگنگ ٹریک میں بدل دیا ہے

شمالی جزیرہ اوکلینڈ سٹی آف فائل بھی کہلاتا ہے۔ اس کے پہاڑ لاوا اگلتے تھے۔ آبادی نیست و نابود ہو چکی تھی۔ دور دور تک چرند پرند دکھائی نہیں دیتا تھا۔ لاوے نے ہر شہ کو بھسم کر دیا تھا۔ لیکن اب یہی لاوا خشک ہو کر کسی کارپیٹڈ سڑک کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ آخری بار لاوا کسی پہاڑ نے 6سو سال پہلے اگلا تھا۔ اس کے بعد اب یہ پہاڑ ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق اگلے سوسال تک بھی کسی پہاڑ سے لاوا اگلنے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ اس کا اندیشہ 0.1فیصد رہ گیاہے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت نے کمال مہارت سے کئی سوفٹ اونچے اس لاوے کو واکنگ اور جوگنگ ٹریک میں بدل دیا ہے۔ اب یہ سیاحوں کے لیے لاوے کا شوقین اور اس کے واکنگ ٹریک میں بہت کشش ہے۔ ہر سال نیوزی لینڈ آنے والے لاکھوں سیاح اس لاوے کے شہر کا رخ ضرور کرتے ہیں۔ مونٹ وکٹر میں ان کی خصوصی دلچسپی ہے۔ کسی زمانے میں اس سرزمین کو تباہی سے دو چار کرنے والے آتش فشاں پہاڑ اور ان کا یہ لاوا اب لاکھوں سیاحوں کی آمد توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ لاواکی وجہ سے اسی علاقے پر نیوزی لینڈ کو سالانہ کروڑوں ڈالر مل رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  محبت صرف فلموں میں نہیں ہوتی اس کا حقیقت سے بھی تعلق ہے