makha

حرم محترم میں داخل ہونے کے آداب

EjazNews

حد حرم اس احاطہ کا نام ہے جو شہر مکہ مکرمہ کے گرداگرد ہے یہ حدیں مکہ مکرمہ کی چاروں طرف کئی کئی میل تک ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: یہ شہر مکہ حرم ہے نہ اس کا کانٹا کاٹا جائے اور نہ یہا ں کی گھاس سوائے اذخر کے کاٹی جائے اور نہش کار بھگایا جائے اور نہ گری پڑی چیزاٹھائی جائے البتہ اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے ۔
اور حجة الوداع کے خطبے میں آپ نے فرمایا تھا کہ زمین وآسمان کے پیدائش کے وقت سے یہ شہر مکہ حرم ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے حرم بنایا ہے یہاں قتل و قتال ، جنگ و جدال نہیں ہے نہ یہاں شکار کرنا جائز ہے نہ کانٹا کاٹنا جائز ہے۔ (بخاری)
اس حرم میں داخلہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی خاص دعا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ عبد اللہ بن عمر ؓ حرم میں داخلہ کے وقت دعا پڑھتے تھے۔
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہےاسی کا ملک ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور سلف صالحین سے حرم میں داخلہ کے وقت اس دعاءکا پڑھنا بھی ثابت ہے:
ترجمہ: الٰہی یہ تیرا حرم ہے تیرا قائم کیا ہوا ہے میرے گوشت پوست و خون دوزخ کی آگ پر حرام کر دے اور اپنے عذاب سے بچا لے قیامت کے دن مجھے اپنے فرما بردار لوگوں میں سے بنالے۔
اس حرم محترم کا بڑا احترام کرنا چاہیے۔ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے طوفان کے زمانہ میں حرم محترم کے اندر بڑی مچھلی نے چھوٹی مچھلی کو نہیں کھایا تھا لہٰذا انسان بھی کسی انسان یا چھوٹوں ضر ظلم کر کے نہ کھائے۔ ہر لمحہ ادب و احترام کوس امنے رکھے کوئی لفظ خلاف ادب منہ سےنہ نکالے نہ کوئی ایسا کام کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  احرام کے معنی و حکمت