Nelson Mandela-art

جنوبی افریقہ کو گورے اور کالے کیلئے یکساں رہنے والا ملک بنانے والے نیلسن منڈیلا

EjazNews

سیاستدان اور قومی رہنما میں کیا فرق ہوتا ہے؟یہ سوال ایک صحافی نے بھی نیلسن منڈیلا سے کیا تھا جس کے جواب میں نیلسن منڈیلا کا کہنا تھا سیاست دان اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتا ہے اور قومی رہنما اگلی نسل کے بارے میں۔ان کاکہنا تھا کہ قوم کی شناخت اس رویے سے نہیں ہوتی جو وہ اپنے اعلیٰ طبقے کے ساتھ روا رکھتا ہے بلکہ اس رویے سے ہوتی ہے جو وہ اپنے نچلے طبقے سے اپنا تا ہے۔ زندگی میں یہ اہم نہیں کہ ہم کیسی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں دوسروں کی بہتری کیلئے کیا کیا۔ باہمت لوگ امن کیلئے کبھی بھی معاف کرنے سے نہیں گھبراتے۔

نیلسن منڈیلا 18 جولائی 1918 ءکو جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاﺅں،” مویذو“ میں پیدا ہوئے۔ ا±ن کے والد کا نام، Rolihlahla رکھا، جو وہاں کی مقامی زبان ISIXHOSA کا لفظ ہے اور جس کے معنی” مشکل پسند“ کے ہیں۔ نیلسن منڈیلا کے والدین تعلیم یافتہ نہ تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے نیلسن منڈیلا کو تعلیم کی دولت دی۔ وہ سکول میں داخلہ لینے والے اپنے قبیلے کے پہلے بچوں میں سے تھے اور پہلے ہی دن استانی نے بچّے کے خاندانی نام کو انگریزی نام”نیلسن“ سے بدل دیا، کیونکہ ا±ن دنوں افریقی بچّوں کے نام انگریزی ناموں سے بدلنے کا رواج عام تھا۔
نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کی پہلی بغاوت یونیورسٹی پالیسز کے خلاف کی ان سے کہا گیا تھا کہ” نام نہاد طلبہ کاﺅنسل کے انتخابات تسلیم کریں یا پھر یونیورسٹی چھوڑ دیں۔“ ا±نہوں نے اپنی سیاسی اور فکری آزادی گروی رکھنے کی بجائے یونیورسٹی کو خیرباد کہنا زیادہ مناسب سمجھا، مگر یہ حصول علم کا شوق ہی تھا کہ انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے بھی یونیورسٹی آف لندن سے پرائیویٹ طالب علم کے طور پر قانون کی سند امتیازی نمبرز کے ساتھ حاصل کی۔
1948 ءمیں نسلی امتیاز کی حامی جماعت” افریقن نیشنل پارٹی“ برسراقتدار آئی، تو نیلسن منڈیلا نے اس جماعت کی منفی پالیسز کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز کر دیا اور پھر1955 ءمیں ”کانگریس آف پیپلز “ کی قیادت کرتے ہوئے” چارٹرڈ آف فریڈم“ جاری کیا، جس کی بدولت نسلی امتیاز کے خاتمے کی مہم کو زبردست عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس دوران نیلسن منڈیلا اور ان کے دوست اولیو تھمبو نے ایک قانونی فرم کی بھی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے سفید فام طبقے کی جانب سے سیاہ فام باشندوں سے روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے خلاف مفت قانونی معاونت فراہم کی جاتی تھی۔ انھوں نے ان قوانین کی بھی سختی سے مخالفت کی، جن کے تحت جنوبی افریقہ کے کچھ علاقے سفید فام باشندوں کے لیے مخصوص کر دئیے گئے تھے اور وہاں جانے کے لیے سیاہ فام باشندوں کو باقاعدہ اجازت نامے کی ضرورت پڑتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  قرآن اور رویت ہلال کے احکام
ان کی سیاہ اور سفید فام باشندوں کے مابین مفاہمت کی پالیسی کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی

منڈیلا نے ملک کے چپے چپے کے دورے کیے اور لوگوں میں ان امتیازی قوانین کے خلاف شعور بیدار کیا۔ انھوں نے مظلوم افریقی باشندوں میں تسلط کے نظام کے مقابل ڈٹ جانے کی جرا¿ت پیدا کی۔ نسلی امتیاز کے خلاف اس جدوجہد نے سفید فام حکمرانوں کو نیلسن منڈیلا کا سخت مخالف بنا دیا، جس کے نتیجے میں1956 ءمیں ان پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کردی گئیں، جن کے تحت وہ سفر کر سکتے تھے اور نہ ہی کسی سے ملاقات۔ پھر 5 دسمبر 1956 ءکو انہیں ایک سو پچاس ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر کے غداری کا مقدمہ بنا دیا گیا۔ یہ قانون خصوصی طور پر نسلی امتیاز کے خلاف متحرک کارکنوں کو ہراساں کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
بعدازاں، 1961 ءمیں انھیں عدم ثبوت پر رہا کر دیا گیا۔ وہ قید و بند سے خوف زدہ ہونے والے نہیں تھے، اس لیے رہائی کے بعد حکمران جماعت کے خلاف ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا، جس پر پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کردی اور سیاہ فام باشندے بڑی تعداد میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس قتل عام اور اپنی جماعت پر پابندی کے بعد نیلسن منڈیلا نے نسل پرست حکمرانوں کے خلاف غیر مسلّح جدوجہد ترک کر کے مسلّح جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد وہ روپوش ہوگئے اور زیرزمین رہ کر مسلح سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ پولیس لاکھ کوششوں کے باوجود انھیں گرفتار نہ کرسکی، جس پر وہ”بلیک پیمپیرنل“کے نام سے مشہور ہوگئے۔
وہ1962 ءمیں الجیریا گئے، جہاں گوریلا جنگ اور ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل کی۔ بعدازاں افریقہ واپس لوٹ آئے ،مگر کچھ ہی عرصے بعد 5 اگست 1962 ءکو ٹریفک جام کے دوران انہیں گرفتار کر کے پانچ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔اکتوبر1963 ءمیں نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں پر تخریب کاری اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ مقدمے کی سماعت کے دَوران ان کی ایک تقریر نے، جس کا عنوان”میں مرنے کو تیار ہوں“ تھا، دنیا کو اپنی طرف متوجّہ کر دیا۔ اس تقریر میں انہوں نے ان وجوہ کو واضح کیا، جن کے باعث ان کی جماعت پرامن جدوجہد تَرک کر کے اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہوئی۔ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں حکومت اور بدعنوان نظام کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ کبھی دھمکیوں اور سزا سے خوف زدہ نہیں ہوئے۔ ان کی یہی خوبی جنوبی افریقہ میں عظیم عوامی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔12 جون 1964 ءکو نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں کو غداری کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنادی گئی۔1964 ءسے 1982 ءتک کیپ ٹاو¿ن کے جزیرے،” روبن“ میں قید بامشقت کا سامنا کیا، مگر قید کے دوران ہی ا±ن کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور وہ دنیا کے اہم ترین سیاہ فام رہنما کے طور پہچانے جانے لگے۔ مارچ 1982ءمیں انھیں جزیرہ روبن سے”پولسی موری جیل“ منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران رہائی کے لیے عوامی دباو¿ میں اضافہ ہوا، تو فروری 1985 ءمیں صدر، پی ڈبلیو بوتھا نے نیلسن منڈیلا کو اس شرط پر رہائی کی پیش کش کی کہ وہ مسلح جدوجہد ترک کردیں، لیکن انھوں نے اسے مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ” اس طرح کے مذاکرات کے لیے انسان کا آزاد ہونا ضروری ہے۔“ 1989 ءمیں ”منڈیلا کو رہا کرو“ کا نعرہ اس قدر مقبول ہوا کہ نسل پرست حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔ اسی دوران صدر بوتھا پر فالج کا حملہ ہوا، تو ان کی جگہ فریڈرک ولیم ڈی کلارک کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا۔1988 ءمیں نیلسن منڈیلا کو” وچ واسٹر جیل“ منتقل کر دیا گیا اور ان سے کئی پابندیاں بھی اٹھالی گئیں، جس کے بعد وہ لوگوں سے ملنے لگے۔ اور پھر نئے صدر نے فروری 1990 ءمیں ان کی رہائی کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:  رمضان المبارک فضائل و مسائل

نیلسن منڈیلا نے رہائی کے بعد افریقن نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالی اور پارٹی کو چار برس بعد ہونے والے عام انتخابات کے لیے تیا ر کرنا شروع کردیا۔27 اپریل1994 ءکو جنوبی افریقہ میں وہ تاریخی انتخابات ہوئے، جن میں پہلی مرتبہ ہر رنگ و نسل کے باشندوں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ ان انتخابات میں افریقن نیشنل کانگریس نے 62 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے اور نیلسن منڈیلا 10 مئی 1994 کو ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوگئے۔ انھوں نے صدر منتخب ہونے کے بعد گوروں سے سیاہ فام باشندوں یا خود پر کیے گئے مظالم کا انتقام لینے کی بجائے درگزر کی پالیسی اختیار کی۔ صدارتی محل میں داخل ہوتے ہی اپنے حفاظتی اور پروٹوکول عملے میں شامل گورے اہل کاروں کو بلوا کر کہا” آپ اپنی ملازمت جاری رکھیں، میری حفاظت اب آپ کی ذمہ داری ہوگی۔“ جنوبی افریقہ کی رگبی ٹیم کو، جس کے تمام کھلاڑی گورے تھے، خصوصی دعوت پر بلایا اور ان سے جنوبی افریقہ نہ چھوڑنے کی درخواست کی۔ پھر یہ کہ انھوں نے جنوبی افریقہ میں دہائیوں سے جاری طبقاتی فرق تقریباً ختم کر دیا۔ عوام نہ صرف قانونی، بلکہ سماجی طور پر بھی ایک ہی سطح پر آگئے۔ جہاں کوئی تفاوت نظر آیا، اسے ایسے اقدامات سے دور کیا گیا، جس سے برتر حیثیت کے مالک شخص کا احساس برتری کم ہو سکے۔ مثلاً ان افسران پر، جنہیں سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی سہولت حاصل تھی، لازم کردیا گیا کہ اگر ان کی گاڑی میں جگہ ہے، تو وہ کسی بھی لفٹ مانگنے والے کو ضرور جگہ دیں گے۔ نیز، نظامِ تعلیم یکساں اور تعلیمی ادارے بھی ایک ہی معیار کے بنادئیے گئے۔ ہسپتالوں میں جو سہولتیں صدر مملکت کو حاصل تھیں، وہی ایک عام مزدور یا کسان کی بھی دسترس میں آ گئیں۔ تمام اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کو سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروانے کا پابند کر دیا گیا۔ غرض، زندگی کے کسی بھی شعبے میں وی آئی پی کا تصور موجود نہ رہنے دیا۔ ان کی سیاہ اور سفید فام باشندوں کے مابین مفاہمت کی پالیسی کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ انھوں نے1995 ءمیں ”ٹرتھ اینڈ ری کنسی لیشن کمیشن“ بنایا، جو نسلی امتیاز کے تحت انسانی حقوق کی پامالی کی منصفانہ تحقیق اور متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرتا تھا۔انھیں دوسری مدت کے لیے صدر بننے کی خواہش نہیں تھی، اس لیے ان کی خواہش و اصرار پر ان کی جگہ میںتھابو میبیکی کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ نیلسن منڈیلا نے ملکی صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے بعد عملی سیاست سے بھی مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی، لیکن امن، مفاہمت اور سماجی انصاف کا پیامبر بن کر دنیا بھر میں اپنی خدمات بہ دستور جاری رکھیں۔ ان کا شمار بین الاقوامی تنظیم”ایلڈر “ کے بانی ارکان میں بھی ہوتا ہے۔ عالمی رہنماوں پر مشتمل اس تنظیم کا قیام 2007 ءمیں عمل میں آیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔
نیلسن منڈیلا کو ان کی خدمات پر 250 سے زائد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں سب سے قابل ذکر 1993 ءکا” نوبل پرائز برائے امن“ ہے۔
دنیا کے یہ عظیم رہنما 5 دسمبر 2013 ءکو 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر جنوبی افریقہ کے سفید فام بھی اتنے ہی دکھی تھے، جتنے کہ سیاہ فام۔ شاید یہ اس صدی کے واحد سیاسی رہنما تھے، جن کے انتقال پر دنیا کے بے شمار ممالک میں قومی پرچم سرنگوں کیے گئے۔ نیلسن منڈیلا اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کی داستان حیات یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر اقتدار کو عوام کی بہتری اور ان کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کیا جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کوہرا نہیں سکتی۔ نیلسن منڈیلا نے ایک بار کہا تھا کہ” انسان پیدائشی طور پر کسی سے نفرت نہیں کرتا، نفرت کرنا اسے سکھایا جاتا ہے۔ والدین سکھاتے ہیں، سکول کی کتابیں سکھاتی ہیں، میڈیا سکھاتا ہے…ورنہ انسانی فطرت تو صرف محبت کرنا ہی ہے۔“
نیلسن منڈیلا، 20 ویں صدی کے بڑے انسانوں میں سے ایک تھے۔ سابق امریکی صدر، بل کلنٹن نے ایک بار ان کے لیے کہا تھا کہ” وہ جب کبھی ہمارے کمرے میں قدم رکھتے ہیں، ہمیں محسوس ہوتا کہ ہمارے قد بڑھ گئے ہیں۔ ہم ان کے احترام میں فوراً کھڑے ہو جاتے۔“ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ نیلسن منڈیلا، دنیا کی وہ واحد سیاسی شخصیت ہیں، جن کا یوم پیدائش دنیا بھر میں ایک عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 18جولائی کو ان کایوم پیدائش ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی کی عمروں میں بڑھتا ہوا فاصلہ