women

خواتین کو اپنی مدد آپ کرنی ہوگی

EjazNews

دنیابھر کی خواتین کو مسائل کا سامنا ہے، یہ مسائل الگ الگ نوعیت کے ہیں لیکن ہیں ضرور ۔ آج بھی تیسری دنیا کی خواتین اس طرح سے زندگی گزار رہی ہیں جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ہمیں اپنے مسائل کو سمجھنے کیلئے سب سے پہلے یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں بلکہ دنیا بھر میں خواتین کو ایک جیسی صورتحال کا سامنا ہے جو مسائل ہمارے ہاں ایک عورت کو درپیش ہیں وہی مسائل بلکہ اس سے کہیں زیادہ سنگین نوعیت کے مسائل دنیا کی دوسری عورتوں کو درپیش ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کو حاصل ہے، امریکہ جیسے دولت مند اور ترقی یافتہ ملک میں خواتین معاشی ناہمواری کا شکار ہیں انہیں مردوں کی بانسبت وہی کام کرنے کےکم ڈالر ملتے ہیں جس کام کے مرد کو سو ڈالر لیے ہیں خواتین کو اسی کام کے 77ڈالر ملتے ہیں۔امریکہ کی فٹ بال میں ورلڈ چیمپیئن بننے والی خواتین آج بھی عدالتوں سے انصاف مانگ رہی ہیں کہ ان کو مرد فٹ بالرﺅں جتنا معاوضہ دیا جائے۔
امریکہ سے باہر چلیں تو یہ فرق بڑھتا چلا جاتا ہے اور کئی ممالک میں عورت کی تنخواہ مرد کی تنخواہ کے 10ویں حصے کے برابر ہوتی ہے۔خواتین مردوں کے مقابلے میں اگرچہ کم کام کرتی ہیں لیکن دنیا بھر میں ان کی مجموعی آمدنی مردوں کا 10فیصد ہے جبکہ ان کے کام کے گھنٹے مردوں کے 66فیصد کے برابر ہے یہی تفریق دنیا بھر میں مسئلہ بنی ہوئی ہے اسے ختم کرنا ہی اقوام عالم کا مشن ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق 22کروڑ50لاکھ خواتین فیملی پلاننگ کے تقاضوں سے ناآشنا ہیں ان ممالک میں ساڑھے تین کروڑ سے زائد بچے پیدائش سے پہلے قتل کر دئیے جاتے ہیں۔کھانے پینے کی سہولت میسر نہیں عورت کیا کرے۔دوران زچگی غیر محفوظ اور غیر تربیت یافتہ ڈاکٹروں کو دکھانے کی وجہ سے کل اموات کا 70فیصد اموات کا ذمہ دار غیر تربیت یافتہ ڈاکٹر ہے، یہ عورت کا ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میرا شوہر بہت حساس ہے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر روز8سو خواتین جن بیماریوں سے مررہی ہیں وہ قابل علاج ہیں۔ روزانہ مرنے والی 8سو خواتین کو زچگی کے دوران ڈاکٹروں کی سہولت مہیا کرکے بچایا جاسکتا ہے۔ 3لاکھ خواتین سال بھر میں زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں، کیا اس سے زیادہ بڑا کوئی المیہ ہوسکتا ہے ہر تیسری عورت کو زندگی میں ایک مرتبہ سنجیدہ ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد ، ہراسمنٹ ، ریپ، خواتین اور بچیوں کی سمگلنگ اور صنفی بنیاد پر تشددکی نشاندہی کی ہے ، ان سے چھٹکارہ پا کر ہی زندگی کا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اور عورت کو صحت مند زندگی کی سہولتیں مہیا کی جاسکتی ہیں۔
یونیسیف نے بچپن کی شادی کو خواتین کا بڑا مسئلہ قرار دیا۔ یونیسیف کے مطابق 2011ءسے 2020ءکے دوران 14کروڑ بچیوں کی شادیاں ہو چکی ہوں گی۔ اب تک شادی شدہ بچیوں کے تناسب کی تعداد 14کروڑ سے کچھ ہی کم ہو گی، 18سال سے کم عمر میں شادی کرنے والی بچیوں سے تعلیم کا حق چھین لیا جاتا ہے جسے خود ماں کا پیار چاہیے وہ ما ں بن جاتی ہے اور اپنے سے کہیں بڑی عمر کے لوگوں کی بالادستی کا نشانہ بنتی ہے۔
یونیسیف کے مطابق پینے کاگندہ پانی اور گھروں کے اندر اور باہر جمع سیوریج کا پانی خواتین کی زندگیوں پر مردوں سے زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے۔ مرد اپنے دفاتر یا کام کی جگہ پر اپنے گندے گھروں سے زیاد ہ محفوظ رہتے ہیں۔ مگر خواتین 24گھنٹے آلودہ ماحول میں سانس لیتی ہیں دیہات کے سکولوں کا بھی برا حال ہے۔
صنفی برابری بالخصوص کم خواندگی ایک سنگین مسئلہ ہے ۔
(ریحانہ )

یہ بھی پڑھیں:  خوشگوار زندگی کا راز