Hafiz saeed

پروفیسر حافظ محمد سعیدکو جانئے

EjazNews

حافظ محمد سعید کی پیدائش سرگودھا میں ہوئی۔ہجرت کے بعد وہ خاندان کے پہلے بچے تھے کیونکہ دوران ہجرت ان کے خاندان کے 36افراد کو شہید کر دیا گیا تھا اور کوئی بچہ اب ان کے خاندان میں نہ تھا۔ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید نے قرآن پاک اپنی والدہ سے حفظ کیا اور گاﺅں کے سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ اپنے ماموں حافظ عبد اللہ بہاولپوری کے پاس بہاولپور میں آگئے جہاں انہوں نے مزید تعلیم حاصل کی۔ انہوںنے انجینئرنگ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر پڑھایا ، وہ سعودی عرب میں اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے اور گولڈ میڈلسٹ بن کر لوٹے۔تعلیم میں ہمیشہ سے حافظ محمد سعید ایک لائق سٹوڈنٹ تھے جبکہ ان کے شاگردوں سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ایک بہترین پروفیسر بھی تھے۔ جنرل ضیاءالحق نے انہیں اسلامی آئیڈیالوجی کونسل میں تعینات کیا تھا۔ حافظ محمد سعید دو ماسٹر ڈگریوں کے حامل ہیں ۔1994ءمیں حافظ محمد سعید امریکہ کادورئہ بھی کر چکے ہیں ۔
حافظ سعید کویہ کوئی پہلی مرتبہ گرفتار نہیں کیا گیا اس سے پہلے بھی انہیں 2001ءمیں گرفتار کیا گیا تھا ، انہیں 2006ءمیں بھی گرفتار کیاگیا تھا لیکن ان کیخلاف کوئی بھی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ انہیں دوبارہ پھر اسی دن گرفتار کیا گیا تھا لیکن لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد رہا کرنا پڑا ۔ 2008ءمیں انہیں ایک مرتبہ پھر گرفتار کر کے ہاﺅس اریسٹ کر لیا گیا۔ انہیں لاہور ہائیکورٹ نے ایک مرتبہ پھر رہائی دی جس پر پنجاب گورنمنٹ نے ہائیکورٹ ایک پٹیشن دائر کی کہ کورٹ اپنے فیصلہ پر غور و غوض کرے، حافظ سعید کو سکیورٹی رسک ہیں۔ 2009ءکو انٹر پول نے ان کیخلاف سرخ نوٹس جاری کر دیا۔ 2009ءمیں لاہور ہائیکورٹ نے ان کو تمام مقدمات سے بری کر دیا اور موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی اسی بینچ کا حصہ تھے۔
پاکستان میں آنے والے زلزلوں اور سیلابوں کی بات کی جائے تو ان کی رفاعی تنظیم فلاح انسانیت کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جہاں پر کوئی نہیں پہنچ سکتا تھا وہاں پر حافظ سعید کی تنظیم کے کارکن خوراک اور بنیادی انسانی ضروریات کی چیزیں لے کر لوگوں تک پہنچے ان کی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے کئی فلاحی پراجیکٹس ہیں جن میں سکول، ہسپتال اور مدرسے سرفہرست ہیں۔
حافظ سعید نے لشکر طیبہ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی تھی جس کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انہوں نے جماعت دعوت کے نام سے اپنی تنظیم قائم کی۔ عالمی پابندیوں کے بعد انہوں نے فلاح انسانیت کے نام سے نئی تنظیم کام کی اور اسی تنظیم کے تحت بے تحاشا فلاحی کام کیے۔
حافظ سعید کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت کیلئے جارہے تھے۔جہاں پرانہیں سی ٹی ڈی پنجاب نے گوجرانوالہ کی حدود میں داخل ہونے پر گرفتار کرلیا۔
کیخلاف مختلف تھانوں میں درج مقدمات کی وجہ سے انہیں لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سائوتھ افریقہ نے ورلڈ کپ2019ء کیلئے ٹیم کا اعلان کر دیا