tension

نفسی ، جسمانی عوارض

EjazNews

مائیکو سو میٹک یا نفسی جسمی بیماریاں جن کا موجودہ دور میں امکان بھی بڑھا ہے اور خاص کر ہمارے معاشرے میں یہ اب بڑھنا شروع ہو چکی ہیں۔ ان کے متعلق شعور بھی بڑھ رہا ہے دراصل یہ بیماریاں ہمارے جسم کا رد عمل ہیں۔ ناموافق حالات کرب اور فکر و پریشانی کے خلاف ان بیماریوں کو سمجھنے کے لیے یہ تصور کیجئے کہ آپ ہوائی جہاز میں سوار ہیںاور آپ کا ہوائی جہاز طوفان میں پھنس گیا ہے۔ اس صورت حال کا مختلف افراد پر مختلف رد عمل ہو سکتا ہے۔ مضبوط اعصاب کا مالک فرد تو اس کے متعلق سوچے گا ہی نہیں اور اپنے کا م میں مصروف رہے گا یہ طرز عمل اکثر صوفیا اور اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان وی قین رکھنے والوں کا ہوتا ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا جو بھی ہو رہا ہے اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے اور جو ہوگا اللہ کی مرضی سے ہوگا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ دوسرا طرز عمل جدید انسان کا ہوگا کہ طیارچی تجربہ کار اور مستند ہیں ، اس صورت حال سے اچھی طرح نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فکر مند ہونے کا کوئی فائدہ بھی نہیں، تیسرا طرز عمل عام انسان کا ہوگا کہ وہ نہایت پریشان اور حواس باختہ ہو جائے گا اور اس تشویش میں مبتلا ہو کہ اب قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اول اور دوم طرز عمل صحت مندانہ اور تیسرا رد عمل فکر مندانہ ہے۔ تیسرے قسم کا طرز عمل جب روز مرہ کی پریشانیو ں کی جانب ہوتا ہے تو نفسی جسمی عوارض کو جنم دیتا ہے یعنی یہ خود بیماریاں نہیں مگر نتیجہ ہیں افکار و پریشانیوںکا۔
ہر انسان کے جسم میں قدرت نے حوادث سے عہدہ برآ ہونے کے لیے دفاعی اہتمامات کر رکھے ہیں، ورنہ ہم اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ جب پریشانی مسلسل طاری رہے تو ناقابل برداشت ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں نفسیاتی و جذباتی اثرات رونما ہوتے ہیں اور متاثر ہ شخص جس طرح اس کا اظہار کرتا ہے اس قسم کے اظہار کی کیفیت ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے اور اس کیفیت کا انحصار ہر شخص کی شخصیت پر ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص کے دل کی رفتار، فشار خون اور ہارمون کی ریزش میں تبدیلیاں بھی واقع ہوجاتی ہیں۔ ایک شخص میں دل کی رفتار تیز، دوسرے شخص میں فشار خون کی بلندی، تیسریے شخص کے چند پٹھوں میں تناﺅ اورب عض اشخاص میں یہ سب مظاہر اور تمام پٹھوں میں تناﺅ ہو سکتا ہے یعنی پریشانی کے زمانہ میں فشار خون کی بلندی کا سبب ہو سکتی ہے۔ جس شخص میں فکر کے وقت درد سریا گردن کے پٹھوں میں کچھاوٹ ہوتی ہے وہ مستقل سر اور گردن کے درد اور کچھاوٹ میں مبتلا ہو سکتا ہے اور یہی نفس جسمی عارضہ ہے ۔ پریشانیوں کی جانب ہمارا طرز عمل کو پیدائشی تو نہیں مگر یہ ابتدائے عمر ہی سے راسخ ہو جاتا ہے۔ جب بچے کو سردی یا بھوک لگتی ہے تو وہ اپنے پورے جسم کے ذریعے رد عمل ظاہر کرتاہ ے، بچہ غصہ ہوتا ہے اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے روتا ہے،اجابت ہو سکتی ہے، سانس تیز تیز آنے لگتا ہے اور اس کے تمام پٹھے اکڑنے لگتے ہیں۔ اس زمانہ میں اگر بچے پر مناسب توجہ دی جائے تو اس کی شخصیت میں استحکام آتا ہے اور اس کا طرز عمل عمر کے ساتھ ساتھ صحت مند ہو تا جاتا ہے۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ بڑی عمر میں بھی غمی کے وقت اسی سے ملتا جلتا طرز عمل ہو سکتا ہے۔ جب کسی پر بے جا تنقید اور اعتراض کیا جاتا ہے تو پٹھے سکڑتے ہیں اور تعریف کرنے پر ڈھیلے ہو نے لگتے ہیں۔ پٹھوں کا اکڑنا نہ صرف رد عمل ہے بلکہ ایک لحاظ سے حوادث کے خلاف دفاع ہے مگر جب یہ دفاع ضرور ت سے زیادہ ہو جائے تو مزید پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جب حالات پریشان کن ہوں تو پریشان ہونا درست ہے مگر یہ پریشانی اس قدر نہ ہو کہ مصیبت بن جائے۔ ان حالات میں سر، گردن، کندھوں اور کمر میں مسلسل درد رہنے لگتا ہے اور یہ نتیجہ دائمی پریشانی اور اس کے خلاف شدید رد عمل کا ہے۔ ان افراد کے علاج میں درد کے علاوہ ان کی پریشانی پرب ھی توجہ دی جائے اور مناسب طریقوں سے اس کا ازالہ کیا جائے ورنہ علاج موثر نہ ہوگا۔ بعض افراد اندرونی پریشانی اور افکار کا اظہار اپنے چہرہ اور بظاہر رد عمل سے نہیں ہونے دیتے مگر جو آگ اندر لگی ہوتی ہے اسے ان کا دل جانتا ہے اور اب انھیں پیمانے سے بھی ناپا جاسکتا ہے۔
اکثر ذہنی امراض کی بنیاد اس وقت پڑتی ہے جب ناپسندیدہ ماحول یا حالات ہوںاور کوئی جذبات سہارا نہ ملے، ایسے میں متاثرہ شخص خود کو ماحول سے علیحدہ کرلیتا ہے اور خود اپنے آپ ہی میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ گویا بظاہر یہ شخص معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے مگر دراصل وہ ماحول سے کٹا ہوا ، انسان سے بیگانہ و بیزار اور جذبات سے عاری ہو جاتا ہ۔ یوں ماحول اسے جو دھکے ملتے ہیں وہ ان سے تو محفوظ ہو جاتا ہے مگر ارد گرد کے ماحول سے اس کے جس قسم کے تعلقات ہونے چہیں وہ نہیں رہتے۔ یہ نرگسی شخصیت ہے اور اس کا مناسب مداوا نہ ہو توذہنی بیماری ان کا انجام ہے۔ بسیار خوری ، موٹاپا ، کم خوری اور دبلا پن بھی ذہنی مرض کا اظہار ہو سکتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو تجزیہ نفسی اور جذباتی سہارے کی ضرورت ہے۔
(ڈاکٹر سید اسلم)

یہ بھی پڑھیں:  پھیپھڑے کا کینسر۔۔۔۔اپنا بچائو خود کیجئے
کیٹاگری میں : صحت