hajj-2019-5

احرام کن پر فرض نہیں ہے، حکمت احرام

EjazNews

نابالغ اور مجنون اور بیہوش کا احرام ان پر حج فرض نہیں ہے۔ لیکن اگر کریں تو نفل حج ادا ہو جائے گا۔ اگر نابالغ بچے سمجھدار ہے تو خود احرام باندھے اور بالغ کی طرح افعال حج ادا کرے اور اگر ناسمجھ ہے تو اس کی طرف سے اس کا مُربی و سرپرست احرام باندھے اور سب افعال اس کی طرف سے ادا کرے ایک صحابیہ عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تھا کہ حضرت ا س بچہ کا حج ہو سکتا ہے آپ ؐ نے فرمایا: ہاں ’’ولک اجر‘‘ اور تجھے ثواب ملے گا(مسلم) یہی حکم مجنوں کا بھی ہے اور اگر احرام کے وقت کوئی بے ہوش ہو جائے تو ساتھیوں کو چاہئے کہ اس کی طرف سے احرام کی نیت سے تلبیہ وغیرہ پڑھ دیں۔(مغنی) اور ہوش میں آنے کے بعد وہ خود ہی افعال حج ادا کرے۔
مخنث اگر مردانہ صورت ہے تو مرد کی طرح، زنانہ شکل ہے تو عورت کی طرح اور مشکل ہے تو بھی عورت کی طر ح احرام باندھے۔
حکمت احرام
حج اور عمرہ کا احرام نماز کی تکبیر تحریمہ کی طرح ہے جس طرح نماز اللہ اکبر کہہ کر نہایت خشوع سے شروع کرتا ہے اور بہت سی چیزیں نمازی کے لئے حرام ہو جاتی ہیں اسی طرح احرام باندھنے سے افعال حج کے سوا سب افعال حرام ہو جاتے ہیں اور اس میں مساوات اور برابری بھی ہے کہ امیر و غریب، شاہ و گدا اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایک ہی لباس میں حاضر ہوتے ہیں۔ کسی کو کسی پر فخر کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
لبیک پکارنے کی حکمت
اسلامی فوج (حاجیوں)کا نعرہ لبیک ہے اور جو احرام باندھنے کے وقت سے احرام کھولنے تک ہر حاجی کو نہایت خشوع سے کہنا ضرور ہے جس کے الفاظ ماثورہ پہلے گزر چکے ہیں۔ ان کے معانی پر غور کیا جائے تو بیشمار حکمتیں نظر آئیں گی۔
(۱) دربار خداوندی میں باربار حاضر ہونے کا بار بار اقراد کرنا (۲) خدا کی توحید کا اعتراف(۳) سب نعمتوں کا اقرار کرنا کہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں۔ (۴) اللہ ہی کی بادشاہت کا اعتراف کرنا کہ سچا بادشاہ صرف اللہ ہی ہے۔ حدیث میں فرمایا کہ اونچی آواز سے لبیک کہنا حج کا شعار ہے۔
احرام میں شرط کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر احرام باندھتے وقت شرط کرلے تو جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ بنت الزبیر سے فرمایا تھا:
ترجمہ : تم حج کا احرام باندھ لو اور شرط کر لو اور یہ کہو خدایا جہاں تو مجھے روک لے گا اسی جگہ میں حلال ہو جائوں گی۔(بخاری و مسلم)
جب کوئی حاجی احرام کے وقت یوں کہے کہ میں فلاں شخص کے احرام جیسا احرام باندھتا ہوں تو یہ جائز ہے۔ حضرت علی ؓ نے احرام باندھتے وقت یوں فرمایا تھا:
ترجمہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح احرام باندھتا ہوں۔ آپ نے ان کے احرام کو صحیح رکھا۔ (نسائی )
حضرت ابو موسیٰ ؓ نے ایسا ہی احرام باندھا تھا۔ (نیل) آپؐ نے اس کو صحیح رکھا۔
عمرہ کا احرام باندھ لیا، پھر کچھ دیر کے بعد اس کے ساتھ حج کا بھی باندھ لیا ہے تو ایسا کرنا جائز ہے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے عمرہ کا احرام باندھ لیا پھر بیداجگہ پر آکر حج کا بھی احرام باندھ لیا۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  فضائل حج و فوائد حج