وفاقی کابینہ کا گزشتہ دو ادوار میں میڈیکل اور کیمپ آفسز کی مد خرچ کی گئی رقوم ریکور کرنے کا فیصلہ

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر اہم فیصلے کیے گئے۔ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کرنے اور توصیف ایچ فاروق کو چیئرمین نیپرا لگانے کی منظوری بھی دی ہے۔
اجلاس میں کابینہ میں سابق حکمرانوں کے کیمپ آفسز اور طبی اخراجات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق کیمپ آفسز ، سکیورٹی اور میڈیکل کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے کیمپ آفس اور میڈیکل اخراجات کی مد میں 4ارب سے زائد خرچ کیے۔ سابق صدر آصف زرداری نے 3 ارب 16کروڑ 41لاکھ روپے خرچ کیے گئے، شہباز شریف نے 8ارب سے زائد، شاہد خاقان عباسی نے 35 کروڑ اور یوسف رضا گیلانی نے ساڑھے 24 کروڑ راجہ پرویز اشرف 32کروڑ ، سابق صدر ممنون حسین نے 30کروڑ روپے سرکاری خزانے سے خرچ کیے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے یہ تمام اخراجات سابقہ حکمرانوں سے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دورہ امریکہ کا خرچہ 4 لاکھ 60 ہزار ڈالرز تھا لیکن عمران خان اپنا دورہ امریکہ 60 ہزار ڈالرز میں مکمل کرکے واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2016ميں نواز شریف علاج کیلئے باہر گئے تو 3 لاکھ 27 ہزار پاؤنڈز خرچ ہوئے، یہ کوئی بہتان یا الزام تراشی نہیں بلکہ سرکاری دستاویزات ہیں، نوازشریف نے اپنے گھر کی تزئین و آرائش سرکاری خرچ اور عمران خان نے اپنے گھر کی تزئین و آرائش اپنے خرچ پر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ 431 کروڑ روپے نوازشریف نے اپنی سکیورٹی پر لگائے جبکہ شہبازشریف نے 872 کروڑ 69 لاکھ روپے سے زائد اپنی سکیورٹی پر خرچ کیے اور بیگمات کیلئے الگ الگ سکیورٹی سکواڈ لگائے گئے، شہبازشریف نے 556 مرتبہ وزیراعظم کا جہاز ملک کے اندر استعمال کیا، شریف برادران نے 5 گھروں کو کیمپ آفسز بنایا تھااور ان کی سیکیورٹی پر 2717 اہلکار تعینات تھے۔
مراد سعید کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے 5 کیمپ آفسز تھے، تین آفسز لاہور اور دو ملتان میں تھے۔ سابق صدر آصف زرداری کے لاڑکانہ اور نوڈیرو میں بھی کیمپ آفسز تھے، ان کی سیکیورٹی پر 316 کروڑ 41 لاکھ 18 ہزار روپے سے زائد خرچ کیے گئے، 2017 میں 164 گاڑیاں سیکیورٹی کے نام پر آصف زرداری کے پاس تھیں اور سیکیورٹی کے نام پر زرداری نے 316 کروڑ روپے سے زائد تب خرچ کیے جب وہ صدر نہیں تھے۔
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کے فیصلہ کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے، جس کی سربراہی وزیر قانون کریں گے اور کمیٹی میں حماد اظہر، عشرت حسین، شہزاد اکبر، سید قاسم اور اٹارنی جنرل شامل ہوں گے، کمیٹی ریکوڈک فیصلے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو ڈیلی میل میں شائع خبر سے جڑے اعداد وشمار اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کابینہ نے ای کامرس پالیسی فریم ورک کی منظوری دی ہے، سکوک بانڈز اور یورو بانڈز آئندہ 6 ماہ میں جاری کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور اس حوالے سے لیگل ایڈوائزرز کی ٹیم بنادی گئی ہے۔ کابینہ نے آٹے، گھی اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا ہے اور صوبائی حکومتوں سے رپورٹ طلب کرلی ہے، وزیراعظم نے مصنوعی بحران ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ معاون خصوصی کے مطابق کابینہ نے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا عمل شروع کردیا جائے، احتساب کمیشن لوٹی ہوئی رقم واپس لائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہر صورت جلسہ ہو کر رہے گا:مولانا فضل الرحمٰن