iran vs usa

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ تھا کیا؟

EjazNews

جولائی 2015ء میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی نے،جنہیںP5ممالک بھی کہا جاتا ہے، جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر 15برس کے لیے پابندیاں قبول کیں اور اس کے بدلے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو نرم کیا گیا۔یہ معاہدہ اوبامہ دور میں ہوا۔ امریکی الیکشن ہوئے اور برسر اقتدار ڈونلڈ ٹرمپ آئے۔ انہوں نے 10مئی کو اعلان کیا کہ امریکہ جوہری معاہدے سے دست بردار ہو رہا ہے اور اب ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس موقعے پر امریکہ کے اتحادی ممالک، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے معاہدہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ٹرمپ کے اعلان پر ایرانی صدر، حسن روحانی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جوہری معاہدہ ایران اور باقی 5ممالک کے درمیان ہے، ہم کسی فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل یورپی ممالک، چین اور رُوس سے بات چیت کریں گے۔‘‘ تاہم، سعودی عرب اور اسرائیل نے اس امریکی فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جوہری معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتّب ہونا شروع ہو گئے تھے۔ مثال کے طور پر ایران اور عرب ممالک کے درمیان خلیج بڑھنے لگی۔ رُوس کی شام میں فوجی مداخلت کے نتیجے میں بشار الاسد ہاری ہوئی بازی جیتنے لگے، جنہیں ایرانی فوج اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیاز کی معاونت بھی حاصل تھی۔ نیز، یمن کا تنازع بھی شدّت اختیار کر گیا مگر ٹرمپ کے اعلان کے نتیجے میں بھی یہ اندیشے سَر اُٹھانے لگے ہیں کہ کیا ایران دوبارہ یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرے گا؟ کیا مشرق وسطیٰ کسی نئے تصادم کی طرف بڑھے گا؟ اور کیا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان ٹکرائو ہونے جارہا ہے؟
مذکورہ معاہدے کے نکات یہ ہیں۔
ایران یورینیم کو 5فیصد سے زیادہ افزودہ نہیں کرے گا اور درمیانے درجے کی افزودہ یورینیم کو ناکارہ بنائے گا۔
آرک کے مقام پر واقع بھاری پانی کے پلانٹ پر کام روک دیا جائے گا۔
جوہری ہتھیاروں کی چھان بین کرنے والے عالمی ادارے کو معائنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ننتاز اور فردو کے پلانٹس تک رسائی دی جائے گی۔
ان اقدامات کے بدلے میں 6ماہ تک ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔ قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں عائد پابندیاں معطل کر دی جائیں گی اور تیل کی فروخت کی موجودہ حد برقرار رہے گی، جس سے ایران کو 4 ارب 20کروڑ ڈالرز کا زر مبادلہ حاصل ہو گا۔
اب آئے ڈونلڈ ٹرمپ جب وہ اس معاہدے سے دستبر دار ہوئے تو ان کا کہنا تھا جوہری معاہدے کا مقصد امریکہ، اس کے اتحادیوں اور دنیا کو ایران کے جوہری پروگرام سے محفوظ کرنا تھا، لیکن یہ مقصد پورا نہیں ہوا، بلکہ اس کی بجائے ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی، جبکہ ٹرمپ کے ناقدین کا ماننا ہے کہ نیوکلیئر ڈِیل سے امریکہ کی دستبرداری، ٹرمپ کا انتخابی وعدہ تھا۔ ٹرمپ اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران اور صدر بننے کے بعد بھی اسے ’’بد ترین معاہدہ‘‘ قرار دیتے رہے۔
جبکہ یورپی ممالک کا اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کے مطابق ایران جوہری معاہدے کی پابندی کر رہا ہے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایک کامل معاہدہ نہیں ہے، لیکن فی الوقت اس کے مطلوبہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ یعنی اس ڈیل کے بعد ایران نے نہ صرف اپنا جوہری پروگرام روک دیا ہے، بلکہ وہ اپنے ایٹمی پلانٹس کی چھان بین کروانے پر بھی مجبور ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر، حسن روحانی نے ٹرمپ کے اعلان پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی، تو پھر اس میں ترامیم کا مطالبہ ناانصافی اور بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
اپریل کے وسط سے لے کر مئی کے اوائل تک فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے رہنمائوں نے واشنگٹن کے دورے کر کے امریکی صدر کو معاہدے سے متعلق اپنا فیصلہ مٔوخر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ٹرمپ نے اُن کی ایک نہ سنی۔
ٹرمپ نے 15برس بعد یعنی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد کی صورتحال، ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے بڑھتے کردار پر اعتراضات اُٹھائے ہیں۔ا گرچہ یورپی ممالک بھی ان خدشات سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن وہ معاہدے کو برقرار بھی رکھنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایرانی صدر کی سفارت کاری کا محور یورپ رہا ہے۔ شاید شمالی کوریا کے معاملے میں ہونے والی پیش رفت سے انہیں یہ امید ہو چلی تھی کہ یورپی ممالک ٹرمپ کو معاہدے کی تجدید پر آمادہ کر لیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور امریکہ معاہدے سے دستبردار ہو گیا۔
اگر دیکھا جائے، تو اس ڈیل کے نتیجے میں اسرائیل اور عرب ممالک کے مفادات پر ضرب پڑی تھی اور پھر معاہدہ کرتے وقت ان ممالک کو اعتماد میں لینے تک کی زحمت گوارا نہیں کی گئی، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل بھی ایٹمی طاقت کا حامل ہے اور اس کے یورپ، رُوس اور چین سے بہترین تعلقات ہیں۔ لہٰذا، وہ اس معاہدے سے زیادہ متاثر نہیں ہوا۔پھر اسرائیل شام میں موجود ایران کے فوجی اڈوں پر مسلسل میزائل بھی برسا تارہا ہے اور اس پر تمام عالمی طاقتیں خاموش رہیں، لیکن شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں پورا مشرق وسطیٰ ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ نیوکلیئر ڈیل کے بعد ایران اور رُوس نے شام میں فتوحات حاصل کرنے اور شامی عوام کو کچلنے کے لیے جس انداز میں بشار انتظامیہ کی مدد کی، اس کے نتیجے میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اوباما نے ڈِیل کر کے ایران کو پیش قدمی کا موقع فراہم کیا۔ دوم، عربوں کو یہ محسوس ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں گے کہ 15برس بعد جب یہ معاہدہ غیر موثر ہو گا، تو تب تک ایران اقتصادی طور پر مضبوط ہو چکا ہو گا اور ساتھ ہی یورینیم افزودگی کی پابندیوں سے بھی آزاد ہو گا۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والی نیوکلیئر ڈِیل کے سلسلے میں سابق امریکی صدر، باراک اوباما کے کردار کو خاصا سراہا جاتا ہے، لیکن انہی کے دَور میں شام اور یمن میں خوں ریزی شروع ہوئی۔
یورپی یونین کے اجلاس میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کیلئے غور کیا جارہا ہے ، جبکہ خلیجی پانیوں میں عالمی تیل بردار جہازوں پر حملہ سمیت امریکہ اور ایران کی جاری کشیدگی کو بھی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو سکتا ہے تو پھر سعودی عرب اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ کیوں نہیں ہوسکتا۔ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ خطہ کسی قسم کی بڑی خون ریزی سے محفوظ ہو جاتا ہے اور آپسی اختلافات کے خاتمے کے بعد خطے کی ترقی میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور دونوں ممالک اپنے عوام کی بہتری کیلئے کوششیں کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ کیا حالات تھے جو ملک میں مارشل لاء پر منتج ہوئے