hajj 2019-4

حج کے دوران جن کاموں کے کرنے کی محرم کو رخصت ہے

EjazNews

(۱) بوقت ضرورت محرم غسل کر سکتا ہے اور سر کو دھو سکتا ہے۔ حضرت ابو ایوب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’یغسل راسہ وھو محرم (بخاری)احرام کی حالت میں سرکو دھو لیا کرتے تھے۔ لیکن سر دھونے مں ایسا احتیاط رکھے بال ن ٹوٹنے پائے اور نہ زیادہ میل کو دور کرے۔
(۲) بوقت ضرورت سینگی لگوا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں سینگی لگوائی تھی۔ (بخاری)
(۳) موذی جانور کے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے چیل، کوا، سانپ، بچھو، شیر ، چیتا، بھیڑیا وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: حرم اور احرام کی حالت میں ان پانچ جانوروں کے مارنے والے پر کچھ حرج نہیں ہے۔ چوہا، کوا ، چیل ، بچھو درندے ۔ حملہ کرنے والے کتے، شیر وغیرہ۔
(۴) خالی وقتوں میں تجارت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: حج کے موسم میں اگر تم خدا کا فضل بذریعہ تجارت کے حاصل کرو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ)
(۵) غیر خوشبو دار تیل کا استعمال کرنا جائز ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں زیتون کا تیل غیر خوشبو دار سر میں لگایا کرتے تھے۔ (ترمذی)
(۶)غیر خوشبو دار اور لیپ کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جس کی آنکھیں دکھتی تھیں، ایلوا کے لیپ لگانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ (مسلم)
(۷) احرام کے کپڑوں کا دھونا اور بدلنا اور سردی کے زمانے میں سر کے علاوہ بدن پر بے سلے کپڑوں کا اور گرمی کے موسم سے بچنے کیلئے چھتری وغیرہ کا سایہ کرنا جائز ہے۔ حضرت اُم حصینؓ فرماتی ہیں کہ احرام کی حالت میں میں نے اسامہؓ اور بلال ؓ کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھام رکھی تھی اور دوسرا چادر سے آپ کے اوپر سایہ کئے ہوئے تھا۔ (منتقی و مسلم)
(۸) بوقت ضرورت ہتھیار کا پاس رکھنا جائز ہے۔ (بخاری و منتقی)
(۹) اگر محرم کے اشارے یا اعانت کے بغیر غیر محرم جنگل کا شکار اپنے لئے کرے اور اس میں سے ہدیہ اور تحفہ کے طور پر محرم کو دے تو محرم کو اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو قتادہ ؓ نے شکار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا تو آپ ؐ نے قبول فرمالیا تھا۔ (بخاری)
(۱۰) دریا اور ندی کا شکار کرنا جائز ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: دریا کا شکار تمہارے لئے حلال کر دیا گیا ۔ (المائدہ)

یہ بھی پڑھیں:  ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی اہمیت