mobile user

موبائل صارفین کو 100روپے کا بیلنس ڈلوانے پر اب 88روپے90پیسے ملیں گے

EjazNews

عوامی شکایات پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 3 مئی 2018 کو ایزی لوڈ اور سکریچ کارڈ کے ذریعے موبائل فون بیلنس پر ٹیکسز اور دیگر چارجز کی کٹوتی سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔ 11جون 2018کو سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےسماعت کے دوران موبائل فون بیلنس پر ود ہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور سروسز چارجز کی کٹوتی کو معطل کردیا تھا۔
24اپریل 2019 ء کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے موبائل بیلنس پر لاگو تمام ٹیکس بحال کردئیے تھے۔بینچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موبائل فون بیلنس پر ٹیکس کٹوتی پر دئیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے 11 جون 2018 کے ٹیکس معطلی کے فیصلے میں نہ ہی وجہ کو بیان کیا اور نہ ہی اس طرح کے ٹیکس نافذ کرنے کے دائرہ کار کا تعین کیا گیا۔تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے اس حوالے سے اختلافی ریمارکس دئیے تھے کہ اس مقدمے میں ایسے شہریوں سے ٹیکس لیا جارہا تھا جو انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے، ملک کے 13 لاکھ شہری ٹیکس دہندہ ہیں جبکہ 2 کروڑ سے زائد شہریوں سے موبائل ٹیکس لیا جارہا ہے۔انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا تھا کہ نان فائلرز شہریوں سے موبائل ٹیکس لینے کے خلاف مقدمہ بنیادی حقوق سے متعلق ہے، ٹیکس دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والوں سے انکم ٹیکس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184 (3) کے تحت اپنے اختیارات کو درست اور مناسب طریقے سے استعمال کیا تھا۔
جبکہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے موبائل فون کے کارڈ پر آپریشنل اور سروسز فیس کو فی الحال ختم کردیا گیا ہے۔آپریشنل اور سروسز فیس کے بعد موبائل فون صارفین کے 100 روپے کا کارڈ لوڈ کرنے پر اضافی 12 روپے 9 پیسے کی کٹوتی نہیں ہوگی اور اس طرح صارفین 100روپے کے لوڈ پراب 88 روپے 90 پیسے کا بیلنس حاصل کریں گے۔
عدالتی حکم کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہناہےکہ سپریم کورٹ نے موبائل کمپنیوں کو اضافی ٹیکس وصولی سے روکا تھا جس کے بعد کمپنیوں نے آپریشنل اور سروسز فیس کی صارفین سے وصولی روک دی ہے، اب صارفین کو 100 روپے کے کارڈ پر 76.94 کی بجائے 88.90 روپے ملیں گے۔
یاد رہے عدالت عظمیٰ نے کمپنیز کو 10 فیصد انتظامی اور سروسز چارجز ختم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد جمعہ سے اس حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے سروس چارجز ختم کردئیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین نے کرتارپور کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہ کیے