چھ

جنایاتِ حج

EjazNews

احرام کے خلاف جن کاموں کے کرنے سے تاوان اور جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ان کو جنایات کہتے ہیں۔ جیسے احرام کی حالت میں شکار کرنا ، سرمنڈانا وغیرہ منع ہے۔ کسی نے سر منڈا لیا یا شکار کر لیا تو اس کے بدلہ میں تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
ترجمہ: اے ایمان والو! احرام کی حالت میں شکار مت قتل کرو اور جو تم میں سے شکار کو قصداً مار ڈالے تو جو جانور اس نے قتل کیا ہے اس کے مثل اس کے اوپر فدیہ (بدلا) ہے جو تم میں سے و معتبر آدمی فیصلہ کردیں کعبہ تک نیاز پہنچائے یا مسکینوں کو کھانا کھلائے یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کئے کاوبال چکھے اللہ نے معاف کر دیا جو کچھ ہو چکا اور جو دوبارہ کر لیا تو اللہ اس سے بدلہ لے لے گا اور اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے لئے حلال کر دیا گیا جو تمہارے اور قافلہ کے فائدے کے لئے ہے اور جب تک احرام کی حالت میں ہو اس وقت جنگل کا شکار تم پر حرام کر دیا گیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تمہیں جانا ہے۔ (المائدہ)
یعنی احرام کی حالت میں کسی قسم کے وحشی جانور کو نہ مارو۔ اگر مارو گے تو جانور کا کفارہ تمہیں دینا فرض ہے جس کی تین صورتیں ہیں:
(۱) یا تو جو جانور شکار کیا ہے اسی کے مثل کوئی جانور ذبح کر کے فقیروں میں تقسیم کرو اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ اول یہ کہ اس کے متعلق دو مسلمان منصف یہ تجویز کردیں کہ یہ قربانی کا جانور اس مقتول شکار کے مثل ہے جیسے ہرن کے بدلے میں بکری اور شتر مرغ کے بدلے میں اونٹ اور کبوتر کے عوض میں مرغی وغیرہ ۔ دسری یہ کہ اس قربان یکے جانور کو ہدیہ بنا کر کعبہ کو بھیجا جائے تاکہ حرم میں ذبح کر کے وہاں کے مسکینوں پر تقسیم کر دیا جائے ۔
(۲) اور اگر قربانی کے جانور کے مثل نہ ملے تو اس کی قیمت کا غلہ خرید کر مساکین پر تقسیم کرو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ہر مسکین کو کھانا کھلانے کے عوض ایک روزہ رکھو جیسے ہرن کا شکار کیا اور ایک ہرن کی قیمت پانچ روپیہ قرار پائی اور پانچ روپیہ کا غلہ ایک من پانچ سیر ہوتا ہے تو فی کس ڈیڑھ سیر کے حساب سے تیس مسکینوں کو تقسیم کرنا ضروری ہے لہٰذا غلہ دینے کی صورت میں روزے رکھنے ضروری نہیں اور یہ سزا اس لئے ضروری ہے تاکہ اپنے کئے کا مزہ چکھوں البتہ دریائی جانور وں کا شکار تمہارے لئے مباح ہے جیسے مچھلی وغیرہ کا شکار کر سکتے ہو۔ لیکن غیر دریائی جانوروں کا احرام کی حالت میں حرام ہے اور اگر غلطی سے کسی جنگلی جانور کا شکار کر لیا ہے تب بھی اسی فدیہ کا حکم ہے۔
احرام کی حالت میں اگر سرمنڈالے یا بال اور ناخن تراشے تو فدیہ دے یا تو تین روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ہر مسکین کو آدھا صاع غلہ دے یا ایک بکری کی قربانی کر ڈالے۔ حضرت کعب بن عجرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ میں میرے پاس تشریف لائے اور میرے سر میں جوئیں بہت پڑ گئی تھیں اور ٹپ ٹپ گر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم سرمنڈالو اور تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ ہر مسکین کو آدھا صاع غلہ دے دو۔ یا ایک بکری ذبح کر ڈالو اور اس آیت کا نزول میرے بارے میں ہو ہے۔ لیکن وہ سب کے لئے ہے۔ (بخاری)
ترجمہ: جو تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اس نے سرمنڈالیا) تو اس کے بدلے میں روزہ یا صدقہ یا ذبح کرنا ہے۔ (البقرہ)
اگر احرام کی حالت میں خدانخواستہ کوئی ناگہانی آفت آپڑے جیسے جنگ و جدال یا چوٹ و بیماری کی وجہ سے مکہ مکرمہ تک نہیں جا سکتا تو ایک جانور اللہ کے لئے ذبح کر کے احرام کھول دے اور واپس ہو جائے۔ پھر دوسرے سال جب عذر جاتا رہے ح ج کرے۔ جیسا کہ رسولا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبی میں کیا تھا۔ (بخاری)
ترجمہ: اگر تم روک لئے جائو تو جو کچھ میسر ہو قربان یکر ڈالو اور اپنے سروں کو مت منڈائو یہاں تک کہ ہدی حلال ہونے کی جگہ پہنچ جائے۔ (البقرہ)
اگر کوئی احرام کی حالت میں م جائے تو اس کو بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دے کر احرام کی صرف دو چادرو ں میں کفن دینا چاہئے۔ سرمنہ کو نہ ڈھانکا جائے اور نہ خوشبو لگائی جائے۔ قیامت کے دن وہ لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے محرم میت کے بارے میں فرمایا:
ترجمہ: اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو اور احرام کے ہی دو کپڑو میں کفن دو اور خوشبو نہ لگائو اور نہ اس کے سر ڈھانکو اور نہ حنوط لگائو کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھائے گا۔ (بخاری)
اگر کسی نے احرا کی حالت میں اپنی بیوی سے جامع کرلیا تو جمہور علماء کے نزدیک اس کا حج باطل ہو گیا ہے۔ وہ اس حج کو آئندہ سال دوبارہ ادا کرے ۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ فدیہ ادا کر دے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کا حج ادا ہو جائے گا۔ تفصیل روضۃ الندیہ میں دیکھو۔
اگر کوئی ا حرام کے وقت سلے ہوئے خوشبو دار کپڑے میں احرام باندھے تو وہ خوشبو دھو ڈالے اور سلے ہوئے کپڑے اتار کر غیر سلا ہوا پہن لے ایک صحابی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا آپ ؐکیا فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عمرہ کا احرام باندھا اس کے کپڑوں میں خوشبو لگی تھی تو وحی کے بعد آپؐ نے فرمایا خوشبو کو تین بار دھو ڈالو ’’انزع عنک الجبۃ ‘‘ تم چوغہ کو اتار دو۔
اس سے معوم ہوا کہ اگر کوئی لا علمی سے خاف شرع احرام باندھےے تو معلوم ہو جانے کے بعد اس کی اصلاح کر کے شریعت کے مطابق کر لے اس میں کوئی فدیہ غیرہ نہیں ہے۔
اگر کوئی شخص بھول چوک سے خلاف ترتیب کوئی کام کرے جیسے یوم النحر میں پہلے رمی پھر ذبح پھر حلق پھر طواف ہے ۔ اس نے پہلے ذبح یا پھر رمی کی یا طواف کیا، پھر حلق کیا تو ترتیب مذکورہ کے خلاف کرنے میں کوئی فدیہ نہیں ہے۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ حضرت لا علمی سے ذبح سے پہلے حلق کر لیا آپ نے فرمایا : ’’اذ بح ولا حرج‘‘ ذبح کر ڈالو کوئی حرج نہیں۔
دوسرے نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمی سے پہلے نحر کر لیا ہے۔ آ پﷺ نے فرمایا: رمی کر ڈالو کوئی حرج نہیں۔ (بخاری و مسلم)

یہ بھی پڑھیں:  احرام کن پر فرض نہیں ہے، حکمت احرام