world cup 2019

ورلڈ کپ 2019ء کی جیت پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں

EjazNews

کھیلوں کی زبان میں جب حرکت کرتی ہوئی گیند حادثاتی طور پر کسی بیرونی قوت سے ٹکرا کر رخ تبدیل کر لے یا رک جائے تو اسے رَب آف گرین کہا جاتا ہے ۔یہ لفظ عموماً ان کھیلوں میں استعمال ہوتا ہے جو کہ گرین یعنی ہرے رنگ کی سطح پر کھیلے جاتے ہیں مثلاً گالف، کرکٹ، فٹبال اور سنوکر وغیرہ مگر اس کا سب سے زیادہ استعمال سنوکر میں کیا جاتا ہے۔اور کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے عالمی چیمیپئن کی جیت کا سبب بھی یہی رَب آف گرین بنی جس سے ایمپائر نے انہیں اضافی 6رنز دئیے ۔
اب ایمپائر کے دئیے گئے رنز پر ہر طرف سے انگلیاں اٹھنی شروع ہو چکی ہیں کہ یہاں پر 6رنز دینے نہیں بنتے تھے یہ غلط دئیے گئے ہیں۔آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایمپائر سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ فیلڈ امپائر نے یہاں پر انگلینڈ کو چھ رنز دے کر واضح غلطی کی حالانکہ یہاں پانچ رنز ملنے چاہیے تھے کیونکہ جب گیند پھینکی کی گئی تو بیٹسمین نے ابھی اپنا دوسرا رنز مکمل نہیں کیا تھا۔اس غلطی کی وجہ سے ہی بین اسٹوکس کو اسٹرائیک ملی۔انہوں نے کہا کہ یہاں مشکل یہ ہے کہ ایمپائرز کو دیکھنا ہوتا ہے کہ بیٹسمین نے رنز مکمل کیا ہے یا نہیں کیونکہ انہیں دیکھنا ہوتا ہے کہ کب گیند پکڑی گئی اور کپ پھینکی گئی۔انہوں نے کہا کہ امپائرز کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس موقع پر بیٹسمین کہاں تھے۔
سائمن ٹافل کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے بہترین ایمپائرز میں ہوتا ہے اور انہوں نے 2004 سے 2008 کے دوران لگاتار 5 سال تک آئی سی سی امپائر آف دی ائیر کا ایوارڈ حاصل کیا۔
اس ساری صورتحال میں مورگن کا کہنا تھا کہ آخری اوور میں رَب آف گرین ان کے حق میں ہوا۔اب یہ بال دنیائے کرکٹ میں زیر بحث ہے اور ہونا ہونی بھی چاہئے۔ مورگن کا کہنا تھا کہ انہیں میچ کے دوران عادل رشید نے بتایا تھا کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔مورگن نے کہا کہ اللہ بھی ہمارے ساتھ تھا۔۔۔میں نے عادل رشید سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اللہ یقینی طور پر ہمارے ساتھ ہے۔۔میں نے کہا کہ ہمیں رَب آف گرین ملا۔مورگن کا کہنا تھا کہ یہی دراصل انگلینڈ ٹیم کی بہترین مثال ہے کہ ہم سب مختلف پس منظر، ثقافت اور ممالک میں پروان چڑھے ہیں۔رَب آف گرین زیادہ تر برطانیہ میں محاورتاً استعمال ہوتا ہے اور اسے خوش قسمتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ انگلینڈ کی موجودہ ٹیم میں کپتان اوئن مورگن آئرلینڈ کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں اور فائنل کے ہیرو بین اسٹوکس نیوزی لینڈ میں پیدا ہوئے جبکہ سپنر معین علی اور عادل رشید پاکستانی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح فاسٹ بولر جوفرا آرچر کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تعلیمی ادارے 31مئی تک بند رہیں گے