behkari

بھکاریوں کی بجائے حقداروں کو ڈھونڈیں

EjazNews

ہمارے معاشرے میں ایسی ان گنت برائیاں ہیں، جن کےخاتمے کی کوششیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود، اُنہیں آج تک ختم نہیں کیا جا سکا۔ گداگری بھی ایسا ہی ایک ناسور ہے، ایک زمانہ تھا، جب شاید واقعی ضرورت مند افراد بھیک مانگتے تھے، لیکن آج کے دور میں تو ’’گداگری‘‘ ایک منظّم پیشہ بن چکاہے۔کتنےہی ہٹے کَٹے لوگ بھیک مانگتے دِکھائی دیتے ہیں۔ اپنے گِردونواح میں نظر دَوڑائی جائے،تو اندازہ ہوگا کہ بھکاریوں کے علاقےبھی مخصوص ہوتے ہیں۔ ٹریفک سگنلز،بس سٹینڈ ز، ریلوے اسٹیشنز، درگاہوں، چوراہوں اوربالخصوص بازاروں میں بے شمار افراد، بچّے کبھی معذوری کا بہانہ بنا کر ، تو کبھی مختلف قسم کی صدائیں جیسے ’’اللہ کے نام پہ بابا‘‘ ’’کوئی اللہ دا پیارا‘‘ ’’دے جا سخیا‘‘ ’’ میں غریب محتاج آں‘‘ ’’بھائی صاحب روٹی کھانی اے‘‘، ’’او پُتر اِک پنج روپے تے دے ،میں صبح دی بھکی آں‘‘، ’’ پاجی میں وزیر آباد جانا ایں ،تے میرے کول کرایہ کوئی نئیں‘‘ وغیرہ وغیرہ لگاتے نظر آتے ہیں بلکہ اب تو گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر یا گھنٹیاں بجا کربھی بھیک مانگی جاتی ہے۔
پیشہ ور بھکاریوں کی مدد کرکے ،تو گویا ہم اُن کی پُشت پناہی کرتے ہیں۔ ذرا سوچیں، اگر کسی شخص کو بِنا محنت کھانا، پیسے وغیرہ مل جائیں، تو وہ بھلا محنت کیوں کر کرے گا؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب گدا گری ،پیشے کی صورت اختیار کر لیتی ہے، تو معاشرے کے صحت مند افراد کوبھی بے کار بنا دیتی ہے، انسان کی خوبیاں، عزت نفس اورخود داری ختم ہو جاتی ہے۔ چونکہ گدا گر کی تمام ضرورتیںبغیرمحنت اور کوشش کے پوری ہو جاتی ہیں، اس لیے ، نتیجتاً لاتعداد اخلاقی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ کتنے دُکھ اور شرم کی بات ہے کہ جو ہاتھ اللہ تعالیٰ نے محنت مزدوری کے لیے بنائے ہیں ،وہ بھیک کے لیےدوسروں کے آگے پھیلائے جاتے ہیں۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سے جرائم پیشہ افراد نے گداگری کو تجارتی شکل دے رکھی ہے، وہ معصوم بچوں کو اغواء اورمعذور کر کےاُن سے بھیک منگواتے ہیں ۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ گداگروں کی اکثریت دیہات یا کچی بستیوں سے شہروں کی طرف صرف بھیک مانگنے کے لیےآتی ہے۔ علی الصباح پک اَپ وَینز، رکشے یا گاڑیاں ، پیشہ وَر بھکاریوں کو اُن کے مخصوص چوکوں،چوراہوں، سگنلز، بازاروں وغیرہ کے باہر چھوڑ کر جاتی اور شام میں مقررہ وقت پر واپس لے جاتی ہیںاور ان لوگوں کی روزانہ کی آمدنی ہزاروں میں ہوتی ہے۔ شہروں میں اب توگداگری کا یہ قابل مذمّت سلسلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کا کوئی سدّ ِباب ہی نظرنہیں آ رہا ۔ اقتدار چاہے کسی کے بھی ہاتھ میں ہو، کوئی بھی اس مسئلے کا حل نکال سکا اور نہ ہی اس مضبوط ترین نیٹ ورک کو توڑ سکا ہےاور یہی بات ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
بھارت کے پپو نے تو بہت شہرت پائی۔ پٹنہ کا یہ 33 سالہ بھکاری، سوا کروڑ سے زائد مالیت کی جائیداد کا مالک ہے اور اُس نے اب تاجروں کو سود پر قرض بھی دینا شروع کردیا ہے، مگر اس کے باوجود اُس نے اپنا ٹھیہ نہیں چھوڑا اور اب بھی روز جھولی پھیلا کر بیٹھتا ہے۔ گزرے دنو ں میں دبئی پولیس نے چھاپہ مار مہم کے دَوران ایک ایسے بھکاری کو بھی پکڑا، جس کے پاس تین لاکھ درہم تھے اور لبنان کی خاتون بھکاری کی خبر تو زبان زد عام ہوئی جو بیروت کی ایک سڑک پر دل کا دورہ پڑنے سے چل بسی،اس کے مرنے کے بعد پتہ چلا کہ اُس خاتون کا تو ایک بینک اکاؤنٹ بھی ہے، جس میں پاکستانی کرنسی کے مطابق کروڑوں روپے موجود تھے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں گداگری نے ایک انتہائی منافع بخش کاروبار کی صورت اختیار کر لی ہے۔ بھکاری گروہوں کے درمیان اہم مقامات پر قبضے کے لیے باقاعدہ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ پیشہ وربھکاری، بچّے بھی کرائے پر لیتے ہیں اور ایسے بچّوں کاجو جسمانی طور پر معذور ہوں، کرایہ زیادہ دیا جاتا ہے، کیونکہ لوگ اُن پر ترس کھا کر زیادہ امداد دیتے ہیں۔
کچھ مقامی بھکاری ہوتے ہیں لیکن کچھ بھکاری بھی ہوتے ہیں اور عالمی بھکاریوں کے لیے سب سے پُرکشش مقام، دبئی ہے، جہاں عرب میڈیا کے مطابق ایک ماہ میں ستر لاکھ روپے تک بھیک جمع کی جا سکتی ہے۔ پاکستانی بھکاریوں کی بھی ایک بڑی تعداد دبئی اور دیگر عرب ممالک کا چکر لگاتی رہتی ہے۔ ان لوگوں نے وہاں باقاعدہ ڈیرے بنا رکھے ہیں، جہاں مناسب کرائے پر رہائش فراہم کی جاتی ہے، جبکہ کھانا تو مفت ہی مل جاتا ہے۔ یہ لوگ اس مقصد کے لیے ویزٹ ویزے کو استعمال کرتے ہیں، چونکہ یہ ایک منظّم نیٹ ورک کے ذریعے وہاں جاتے ہیں، اس لیے اُنھیں حکومتی مشینری سے بچانے کا بھی پورا انتظام کیا جاتا ہے اور اگر کوئی پولیس کے ہتھے چڑھ بھی جائے، تو اُس کی رہائی کے لیے مقامی سپوٹرز مدد کو دوڑ پڑتے ہیں۔
یہ پیشہ ور بھکاری اکثر بسز، ہسپتالوں، مساجد کے باہر، معروف تجارتی مراکز اور دیگر عوامی مقامات پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ کوئی چیز بیچنے کے بہانے بھیک مانگنا، اپنی مظلومیت کا رونا رونا، کسی جسمانی نقص کو کیش کروانا تو پرانا طریقۂ واردات ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے مختلف مساجد اور مدارس کی جعلی اسناد بھی بنوا رکھی ہیں، جن کے ذریعے عوام کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔لیکن اب انھوں نے بدلتے دَور کے ساتھ، بھیک کے انداز بھی بدل ڈالے ہیں اور ان میں جدّت بلکہ زیادہ’’ فنکاری‘‘ لے آئے ہیں۔ مثلاً لوگ اس طرح کے بھکاریوں کو نقد رقم دیتے ہوئے جھجکتے ہیں کہ معلوم نہیں یہ اس کے حقدار بھی ہیں یا نہیں، تو اس کا توڑ یہ نکالا گیا ہے کہ اب یہ پیشہ ور بھکاری نقد رقم کی بجائے راشن دلوانے پر اصرار کرتے ہیں، جو اُنھیں خوشی خوشی دے دیا جاتا ہے اور پھر وہ اس راشن کو مختلف دُکانوں پر فروخت کرکے دام کھرے کر لیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھکاری ڈاکٹری نسخے دِکھا کر ادویہ لے لیتے ہیں، جنھیں بعدازاں مخصوص میڈیکل سٹورز پر فروخت کردیا جاتا ہے۔
برے وقت سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ دولت کسی کی نہیں ہوتی۔ آج کے سیٹھ، کل کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر مدد کے طالب کو پیشہ وَر یا ڈرامے باز قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مالی مدد کے طالب بیش تر افراد پیشہ ور ہی ہوتے ہیں۔ خواہ اس کی وجہ اُن کی زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس ہو، یا خاندانی روایت۔ نشے کی لت پوری کرنے کے لیے ہاتھ پھیلا رہے ہوں یا پھر اس کا سبب ہڈ حرامی ہو، بہرحال اس طرح کے لوگوں نے حق داروں کو اُن کے حق سے محروم کردیا ہے۔چونکہ یہ سفید پوش ضرورت مند، اپنے گھروں میں ٹکے رہتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اشاروں، کنایوں ہی میں اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتے ہیں، اس لیے عموماً انھیں نظرانداز کردیا جاتا ہے، جبکہ پیشہ ور بھکاری اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر مال لے اُڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  صفائی نصف ایمان ہے