recodeck

ریکوڈک ہے کیا؟

EjazNews

ریکو ڈک کا مطلب اگر ہم بلوچی زبان میں ‘دیکھیں تو یہ ریت کا ٹیلہ ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک یہ چھوٹا سا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔جولائی 1993میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا تھا۔آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
ریکو ڈک میں کم درجے کا تانبے کے کل ذخائر 5.9 ارب ٹن ہیں جبکہ درمیانے درجے کا تانبہ اس کا 0.41 فیصد ہے اور سونے کے درجے کا 0.22 گرام فی ٹن موجود ہے۔
اس ذخیرے میں کان کنی کرنے کے لائق حصے کا تخمینہ 2.2 ارب ٹن لگایا گیا ہے جہاں درمیانے درجے کا تانبہ 0.53 فیصد اور سونا 0.30 گرام فی ٹن ہے جس کی سالانہ پیداوار 2 لاکھ ٹن تانبہ اور 2.5 لاکھ اونس سونا ہے۔
پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7سال تک جاری رہا تھا۔کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کا کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد آئی سی ایس آئی ڈی میں 2012 میں دائر کیا گیا تھا۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی انتظامیہ نے 11 ارب 43 کروڑ روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے لیے ٹربیونل 12 جولائی 2012 کو قائم کیا تھا۔جرمنی کے کلوز ساکس نے ٹربیونل کی سربراہی کی جہاں بلغاریہ کے اسٹانیمیر اے الیگزینڈوو نے کمپنی کی نمائندگی کی اور برطانیہ کے لیونارڈ ہوف مین نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔
اپنے فیصلے میں آئی سی ایس آئی ڈی نے 4 ارب 8 کروڑ ڈالر ہرجانہ اور ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود ادا کرنے کا حکم سنایا، کیس کی مزید تفصیلات ٹربیونل کی جانب سے جاری کیا جانا ابھی باقی ہے۔
سمجھوتے کے لیے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے سی ای او کے بیان کو حکومت پاکستان نے خوش آمدید کہاہے، حکومت پاکستان کمپنی سے باہمی فائدے کے لیے بات چیت پر تیار ہے۔
جبکہ وزیراعظم نے ریکوڈک کیس کے ناخوشگوار انجام کی چھان بین کے لیے کمیشن بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔اٹارنی جنرل آفس کے مطابق کمیشن ناکامی کی وجوہات اور ذمے داروں کا تعین کرے گا ۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ ہمیں پھنساتے ہوئے خود پھنس گئے ہیں:وزیراطلاعات