ahram

احرام کی قسمیں، احرام کے کپڑے و مردوں کو احرام کی حالت میں کیا کام منع ہے

EjazNews

احرام کی چار قسمیں ہیں:
(۱) افراد یعنی صرف حج کا احرام باندھنا اور صرف حج کے احرام بندھنے والے کو مفروکہتے ہیں۔
(۲) تمتع یعنی پہلے حج کے مہینے میں عمر ہ کا احرام باندھ کر طواف و سعی ادا کرنے کے بعد حلال ہو جائے پھر حج کا احرام باندھ کر حج کے افعال کو ادا کیا جائے ایسا کرنے والے کو متمتع کہتے ہیں
(۳) قِران یعنی حج و عمرہ دونوں کا ساتھ احرام باندھنا ایسا کرن ے والے کو قارِن کہتے ہیں۔
(۴) حج کے مہینے کے علاوہ دوسرے مہینے میں ۔ عمرہ کا احرام باندھنا ایسا کرنے والے کو معتمر کہتے ہیں۔ یہ سب جائز ہے ۔ نبی ﷺ اورصحابہ کرام ؓ نے ان کو ادا کیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
ترجمہ: (جحۃ الوداع) میں ہم لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ حج میں نکلے تو آپ نے فرمایا: جس کا جی چاہے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھے تو وہ ایسا ہی کر سکتا ہے اور جو صرف حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے تو حج کا احرام باندھے اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہتا ہے وہ عمرہ کا احرام باندھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، اور بعض لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور بعض لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا میں نے بھی عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ (بخاری)
احرام کے کپڑے
مرد کے احرام کے کپڑے ایسے ہونے چاہئیں کہ نیا یا دھلا ہوا تہبند و چادر و جوتی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: ایک لنگی اور چادر اور جوتی میں احرام باندھو۔ اگر تہبند نہ پائو تو پائجامہ پہن سکتے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ جب لنگی نہ پائے تو پائجامہ پہن لے اور جب جوتی نہ پائے تو موزے پہن لے۔
اور احرام کے کپڑوں کا سفید ہونا افضل ہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: سفید کپڑے سب کپڑوں سے اچھے ہیں۔ زندوں کو پہنائو اور اپنے مردوں کو سفید ہی کپڑوں میں کفن دو۔
اگر ایک ہی کپڑے میں احرام باندھا جائے ، جس سے بدن ڈھک جائے اور لنگی کا بھی کام دے دے تو جائز ہے اور مجبوری کی حالت میں تو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔
مرد کو احرام کی حالت میں ان کپڑوں کا پہننا منع ہے کہ کرتہ، پائجامہ، پگڑی، کوٹ ، صدری جانگیا، بنڈی، نیم آستین، ٹوپی، دستانے، جراب ، موزے اور زعرفان اور درس کی رنگی ہو چادر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کرتہ ، پائجامہ نہ پہنے اور صافہ نہ باندھے اور نہ باران کوٹ اور نہ موزوں کو پہنے اگر جوتے میسر نہ ہوتوں موزوں کو ٹخنو ں سے نیچے تک کاٹ کر پہن سکتے ہیں اور نہ ایسا کپڑا پہنو جو زعفران اور ورس گھاس کا رنگا ہوا ہو۔ (بخاری ، مسلم)ضرورت کے وقت ہمیانی کا باندھنا جائز ہے۔ (مغنی)
عورتوں کے احرام کے یہ کپڑے ہیں: 
کرتہ ، پائجامہ، دوپٹا، صدری ، جانگیا ، موزے ، جراب، لنگی، چادر، زیوروغیرہ کا پہننا جائز ہے ار زعفران اور درس کے رنگے ہوئے کپڑے کو نہ پہنے اور ہونٹ اور چہرہ نہ چھپائے۔
حضرت جابرؓ نے فرمایا کہ میں کسم کو خوشبو نہیں سمجھتا ہوں اور حضرت عائشہ ؓ نے عورت کو احرام کی حالت میں زیور اور کالا کپڑا اور گلابی کپڑا اور موزے کےے پہننے میں کوئی حرج نہیں دیکھاا ور ابراہیم نے کہا: محرم احرام کی حالت میں کپڑے بدل سکتا ہے۔(بخاری)
احرام کی حالت میں عورت کو منہ چھپانے کی ممانعت ہے لیکن جب اجنبی مردوں ک سامنا ہو تو گھونگھٹ سے پردہ کر لے اور جب وہ گزر جائیں تو گھونگھٹ ہٹالے۔
حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ قافلہ کے لوگ ہمارے پاس سے ہو کر گزرتے ،ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتیں تو جب اجنبی مرد ہمارے سامنے آجاتے تو ہم گھونگھٹ سے پردہ کر لیتیں۔ جب وہ چلے جاتے تب چہرہ کھول لیتیں۔ (ابودائود)
حیض و نفاس والی عورتیں غسل کر کے بغیر نماز پڑھے لبیک لبیک پکارتی رہیں اور جو کام حاجی کرتا ہے وہ بھی کریں۔ البتہ بیت اللہ شریف کا طواف اس حالت میں نہ کریں بلکہ پاک ہوجانے کے بعد کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: نفاس اور حیض والیاں جب میقات پر پہنچیں تو غسل کر کے احرام باندھ لیں اور سوائے طواف کے سب افعال حج ادا کریں۔
اور حضرت عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما کو آپ نے یہی حکم دیا تھا۔ (مسلم)
عورتیں احرام میں (۱) دستانوں اور موزوں کو نہ پہنیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو دستانے اور موزوں کو احرام کی حالت میں پہننے سے منع فرمایا ہے ۔ (ابودائود)
(۲) منہ کا ڈھانکنا منع ہے، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ احرام کی حالت میں عورت اپنے چہرے کو کھلا رکھے (مغنی)
(۳) برفغہ نہ اوڑھیں ۔ (۴) درس اور زعفران کا رنگا ہوا کپڑا نہ پہنیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو احرام کی حالت میں دستانوں کو پہننے اور نقاب و برقعہ اوڑھنے اور درس اور زعفران کے رنگے ہوئے کپڑوں کو پہننے سے منع فرمایا اور اس کے علاوہ ریشیمیں ، اونی، سوتی کرتہ ، پائجامہ وغیرہ جو چاہیں پہن سکتی ہیں۔ (ابودائود)
(۵) با ل و ناخن کا تراشنا (۶) جنگلی شکار کرنا (۷) نکاح کرنا کرانا (۸) جماع اور اسباب جماع اور دیگر لڑائی جھگڑے کی باتیں ناجائز ہیں۔ (۹) زور زور سے لبیک نہ پڑھیں بلکہ آہستہ آہستہ پڑھیں۔ (نیل، مغنی) ۔ (۱۰)خوشبو و سُرمہ کا استعمال نہ کریں (۱۱) طواف میں اضطباع اور رمل نہ کریں(۲۱) جوئیں نہ ماریں۔
مردوں کو احرام کی حالت میں کیا کام منع ہے:
احرام کی حالت میں مردوں کو یہ کام کرنا جائز نہیں ہے ۔(۱) جماع کرنا بوسہ لینا جھگڑا کرنا حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: حج کے چند گنتی کے مہینے معلوم ہیں جو ان مہینوں میں حج کا احرام باندھے اور اپنی بیوی سے ہمبستر نہ ہو اور فحش و بکواس نہ بکے اور لڑائی جھگڑا نہ کرے۔(البقرہ )
(۲) اپنا یا دوسرے کا نکاح نہ کرے اور نہ نکاح کا پیغام دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: محرم نہ کسی دوسرے کا نکاح اور نہ اپنا نکاح کر اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے۔
(۳) نہ جنگلی جانور کا شکار کرے اور نہ شکار کرن ے والے کی امداد کرے اور نہ اس کی طرف اشارہ کرے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کرنے اور اعانت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخار ی و مسلم )
کیونکہ یہ بھی شکار کرنے کے حکم میں داخل ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ جب حماد و حشی شکار کر کے لائے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تھا کہ تم نے ابو قتادہ ؓ کو شکار پر حملہ کرنے کا حکم دیا یا اشارہ کیا تھا۔ (مسلم)
اگر حلال غیر محرم حاجی کو کھلانے کی غرض سے شکار کرے تو محرم کو اس شکار کا گوشت کھانا ناجائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صعب بن جثامہ ؓ کے شکار کے ہدیہ کو اسی وجہ سے واپس فرما دیا تھا کہ آپ محرم تھے۔ (بخاری)
(۴) احرام کی حالت میں خوشبو لگانا جائز نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محرم کی بابت فرمایاتھا جو احرام کی حالت میں مرگیا تھا اس کو خوشبو نہ لگانا ۔ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا (مسلم)۔
(۵) درس اورزعفران اور خوشبو دار کپڑے کا استعمال کرا جائز نہیں ہے۔ (مغنی)
(۶) بالوں کا کٹانا ، منڈانا اور ناخن کا ترشوانا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: اپنے سر کے بالوں کو نہ منڈائو جب تک کہ قربانی نہ کر لو۔
مجبوری کی حالت میں اگر کوئی منڈالے تو جرمانہ دینا پڑے گا جیسا کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ کے سر میں جوئیں بہت پڑ گئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بالوں کو منڈا ڈالو اور اس کے بدلے میں تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو یا ایک بکری ذبح کر ڈالو ۔ قرآن مجید میں یہی حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حلق و تقصیر کی حکمت