khlaboshan

پاکستان میں کلبھوشن یادیو سے پہلے بھی بھارتی جاسوس گرفتار ہوئے ہیں

EjazNews

کلبھوشن سنگھ کا پہلا اعترافی بیان کچھ اس طرح سے تھا”میرا نام کلبھوشن سنگھ یادیو ہے ، میںبھارتی بحریہ کا ایک حاضر سروس افسر ہوں، انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے میرا تعلق ہے اور میرا فرضی نام حسین مبارک پٹیل تھا جو کہ میں نے بھارتی ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کی خاطر اپنایا تھا۔ میں بھارتی ایجنسیوں کے لیے پاکستان میں یہی فرضی نام استعمال کررہا تھا۔ بھارت میں نیشنل ڈیفنس اکیڈیمی 1987ءمیں جوائن کی اوربعد ازاں 1991ءمیں انڈیا نیوی سے منسلک ہوگیا۔ وہاں دسمبر دوہزار ایک تک خدمات سرانجام دیتا رہا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے بعد میں نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کے فرائض سنبھال لیے۔ میں بھارتی شہر ممبئی میں مقیم تھا، میری ریٹائرمنٹ بطور کمیشن آفیسر2022ءمیں ہوگی۔ 2002میں میں نے نیوی میں 14 سالہ سروس مکمل کرنے کے بعد 2004 میں ایرانی بندر گاہ چاہ بہار میں انٹیلی جنس آپریشن شروع کیے۔ اور ایران میں اپنا ایک چھوٹا سے کاروبار قائم کیا۔ 2003-04میں اپنے کوڈ نام کے ساتھ کراچی میں کئی خفیہ دورے کیے۔ جن کا مقصد انڈین را کے لیے فرائض سرانجام دینا تھا۔ میں را کے لیے کچھ مقاصد کے حصول کے لیے کام کررہا تھا۔2013 میں مجھے باقاعدہ طور پر را میں شامل کرلیا گیاتھا۔ تب تک بلوچستان اور کراچی میں مختلف سرگرمیاں کراتا رہا ہوں۔ کراچی کی لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال بھی خراب کراتا رہا ہوں۔ بنیادی طورپر میں راکے جوائنٹ کے سیکرٹری انیل کمار گپتہ کے ماتحت ہوں ۔ یہ کارروائیاں پاکستان کی سالمیت کے منافی تھیں جس کا مقصد پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرنا یا نقصان پہنچانا تھا۔ اس سرگرمی کے دورا ن ہی مجھے پتہ چلا کہ را بلوچستان میں کچھ خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور بلوچ باغیوں کو مدد دے رہی ہے۔ ان کی فنڈنگ کی جاتی ہے۔ را کی سرگرمیاں مجرمانہ ہے قومی سلامتی کے منافی ہیں ۔ یہ سرگرمیاں گوادر، پسنی اور جیونی سمیت بندرگاہ کی بہت ساری دوسری تنصیبات پر ہوتی تھیں۔

کلبھوش یادیو ولد سدہیر یادیو 1987ءمیں بھارتی بحریہ میں بھرتی ہونے کے بعد کمانڈر کے عہدے تک پہنچا، 2003ءسے 2016ءتک کلبھوشن یادیو چاہ بہار سے بلوچستان اور بلوچستان کے راستے کراچی تک خفیہ سرگرمیو ں میں ملوث رہا۔ کلبھوش یادیو پاکستان میں جعلی شناختی کارڈبنا کر حسین مبارک کے نام سے سرگرم رہا۔ جعلی شناختی کارڈ اور پیشانی پر جعلی محراب بنا کر یہ شخص پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلاتا رہا ۔ جس کا مقصد تخریبی کارروائیوں کے ذریعے سے پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانا ،اس کی سالمیت پر اثرانداز ہونا تھا، لیکن کہتے ہیں کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے کوئی نہ کوئی عورت ہوتی ہے ، لیکن کبھی نہ کبھی ہربڑے مکار ایجنٹ کے پیچھے بھی عورت ہی ہوتی ہے۔
سرزمین پاکستان پر سالہا سال سے تخریبی کارروائیوں کا نیٹ ورک بنانے کے بعد یہ ایجنٹ اس قدر پر اعتماد ہوگیا کہ اپنی بیوی سے مراٹھی زبان میں گفتگو کرنے لگا، بس یہ گفتگو پکڑی گئی ، چند گھنٹوں کے اندر اندر یادیو بھی پکڑا گیا اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا۔ حکام نے سب کچھ یادیو کے سامنے رکھا تو وہ فر فرد بولنے لگا۔ بھارتی سورماؤں میں اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔تھوڑی سی پریشانی میںٹوٹ جاتے ہیں۔ کشمیر میں ایک نہیں ہزاروں فوجی نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں ، روزانہ ہی درجنوں سے سینکڑوں درخواستیں کسی اورجگہ پوسٹنگ کے لیے حکام کو ملتی رہتی ہیں۔ کھانا ٹھیک نہ ملنے کے شکوے انٹرنیٹ پر عام ہیں ،بھارتی فوج میں برداشت اس قدر ختم ہوچکی ہے کہ ایسی شکایت کرنے والے کئی فوجی موت کے منہ میں دھکیل دئیے گئے۔
پاکستان سے کلبھوشن یادیو اگر سزا نہ پاتا توشاید اس سے سنگین سزا بھارت میں اس کی منتظرہوتی۔ کھانے میں شکایت کرنے والا سپاہی اگرموت کی منہ میں جاسکتا ہے تو اعتراف جرم کرنے والا ایجنٹ وہاں کیسے بچ سکتا تھا۔ اس لیے ایسی باتو ں سے باخبر کلبھوشن یادیو نے اپنے سارے گناہ قبول کر لیے۔ کراچی سے کوئٹہ تک دہشت گردوں کا نیٹ ورک بنانے اور پیسہ دینے کے الزامات تسلیم کیے، کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنے اعترافی بیانات اور ان تمام گناہوں کی موجودگی میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرتا۔ عدالت نے اسے کہیں زیادہ اچھے مواقع مہیا کیے ۔ دوران سماعت اسے ہرسہولت دی گئی لیکن اس نے کبھی کسی موقع پراپنے جرم سے انکار نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم عروج وزوال میں تعلیم کا کردار
کلبھوشن یادیو کو اس کے گھر والوں سے ملانے کا بھی اہتمام کیا گیاتھا، ایک جاسوس کو پورے انسانی حقوق دئیے گئے تھے

بھارتی میڈیا شاید یہ نہیں جانتا کہ 3مارچ 2016ءپاکستان میں غیر قانونی طور پرداخل ہونے والے کلبھوشن یادیو نے آج تک کبھی اپنے جرم سے انکار نہیں کیا۔ دنیا بھرمیں کسی بھی قیدی کو اپنے خلاف گواہی دینے پرمجبور نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے قوانین اس سلسلے میں ملزم کو ہر ممکن سہولت مہیا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ وکیل کے آنے تک وہ کسی سوال کا جواب نہ دینے کا بھی حق رکھتا ہے۔ لیکن یہ سہولت ان کے اپنے شہریوں کو ملتی ہے، امریکہ میں چھ سات غیر ملکی شخصیات کو ان کی غیر موجودگی میں امریکہ میں ایک ایٹمی کمپنی کے رازچرانے کے الزام میں سزائیں سنا دیں تھیں۔ لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ کلبھوشن یادیو نے ہر موڑ پراپنا گناہ تسلیم کیا۔ اس نے مانا کہ وہ بھارتی بحریہ کا ملازم ہے اس نے مانا کہ وہ ڈیپوٹیشن پررا کے لیے کام کررہا ہے اس نے مانا کہ وہ تخریبی نیٹ ورک کو فنڈنگ کرتا ہے۔
بھارت میں اس قسم کی سہولت کسی پاکستانی شہری کو نہ دی۔ کلبھوشن یادیو عرف حسین مبار ک کے اعترافی بیان کے مطابق وہ حاضر سروس ملازم ہے ۔را نے اسے 2013ء میں بھرتی کیا تھا،اس کی ریٹائرمنٹ 2022ء میں ہونا تھی۔
کلبھوشن یادیو ایسا پہلامجرم نہیں ہے جو پاکستان کے اندرمجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہو۔ قوم ابھی را کے سابق ایجنٹ رویندرا کوشک کو نہیں بھولی، راجھستان کا رہنے والا یہ شخص راکا ایجنٹ تھا۔ ابتدائی طورپروہ ڈرامہ انڈسٹری سے منسلک تھا۔ لیکن طائفوں کی آڑ میں اسے پاکستان میں جاسوسی کے لیے را نے بھرتی کرلیا۔ خود بھارتی رپوٹوں کے مطابق ریوندر کوشک کو دہلی میں دوسال تک تربیت دی گئی۔ مسلمان ثابت کرنے کے لیے اس کے ختنے کیے گئے۔ دو سال تک اس نے اردوسیکھی مذہبی تعلیم حاصل کی۔ پنجابی پر عبور تھا اور پنجابی پاکستان کی عام زبان ہے۔ کلبھوشن کی طرح اس نے اپنا جعلی نام نبی احمد شاکر رکھا اور پاکستان میں رہائش اختیار کرلی۔ پسماندہ لوگوں کے کوٹے پر سول کلرک بھرتی ہو گیا اور پھر اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں چلا گیا۔ امانت نامی لڑکی سے شادی کی اور دوبچوں کا باپ بن گیا۔ ستمبر 1983ءاس کے لیے براسال تھا جب ستمبر میں بھارتی خفیہ ادارے نے اپنے ایک اور ایجنٹ عنایت مسیح کو بشپ سے رابطے کے لیے پاکستان میں داخل کیا۔ عنایت مسیح پکڑا گیااوراپنے ساتھ ساتھ اس نے اس نے پہلے سے موجود بشپ کے راز بھی فاش کر دئیے۔ کوشک کو سیالکوٹ میں کچھ عرصہ تک جیل میں رکھا گیا۔ جہاں اسے سزائے موت سنائی گئی، بعد میں یہ سزاعمر قید میں بدل دی گئی۔ سنٹرل جیل ملتان میں نومبر 2001ءمیں ٹی بی کے موذی مرض میں مبتلا ہوکر یہ ایجنٹ زندگی کی بازی ہار گیا۔
ایک اور بھارتی ایجنٹ سربجیت سنگھ تھا، اس پر پاکستان کے دو گنجان آباد شہروں لاہور اور فیصل آباد میں بم دھماکوں کے الزام تھے۔ دوسرے دو ملزموں کی طرح سر بجیت سنگھ نے اپنے الزامات تسلیم کیے۔ سربجیت سنگھ کا تعلق بھارتی پنجا ب کے ضلع کرن تارن کے بکی ونڈ سے تھا۔ اسے نایاب کبوتروں اور ریسلنگ کا بہت شوق تھا، ثبریت کور اس کی بیوی اور پونم کور اور سون بیت اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ اس کی بہن دلجیت کور اس کی رہائی کے لیے کئی سال تک جدوجہد کرتی رہی بالآخر وہ آپس کی لڑائی میںجیل میں مار ا گیا۔ سربجیت سنگھ کو قصور کے قریبی گاؤں سے رینجرز نے حراست میں لیاتھا۔ وہ پاکستان میں 1990ءمیں ہونے والے دھماکوں میں ملوث تھا، جس کا اس نے خود بھی اعتراف کیا۔ اس مقدمے کے کئی گواہ تھے جن کے انٹرویوز بھی تفتیشی ریکارڈ میں موجود ہیں۔
آصف علی زرداری نے 26جون 2012ءکو بطور صدر اس کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا یہ سزا عموماً چودہ سال ہوتی ہے۔ لیکن رہائی سے پہلے ہی وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ اس سے بھی پہلے کشمیر سنگھ کے نام سے ایک اور جاسوس پاکستان میں پکڑا گیا۔ اسے پاکستان میں جاسوسی کرنے کے عوض چار سو روپے ماہانہ ملتے تھے۔ اس کا جعلی نام ابراہیم تھا۔ بھٹو دور میں پشاور راولپنڈی روڈ پر جاسوسی کرتے ہوئے ایجنسیوں نے اسے دھر لیا۔ گرفتاری کے بعد مختلف عدالتو ں میں تین چارسال اس کے مقدمے کی سماعت ہوئی پاکستان پر اس کی رہائی کے لیے بہت زیادہ دباؤ تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان آئینی بحران سے دوچار تھا۔ اندرون ملک بھٹو حکومت کیخلاف سیاست دان متحد ہو رہے تھے، ایک دباؤ کی سی کیفیت تھی۔ لیکن حکومت نے غیر ملکی دباؤکے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔
1986ءمیں پاکستانی حکومت نے جاسوسی کے الزام میں ہی گرفتار ہونے والے کچھ ملزموں کورہا کر دیا۔ یہ دراصل دونوں ممالک کے درمیان خیر سگالی کی کوشش تھی ۔ پاکستانی حکومت ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی خاہ تھی ، سنگھ بھی پاکستان کی سات جیلوں میں سترہ سال کاٹ چکا تھا۔چنانچہ اس کا معاملہ انصار برنی نے اٹھایا جس پر اسے رہا کردیا گیا۔ واہگہ بارڈر کے راستے سے اسے بھارت بھیج دیا گیا۔ بھارت میں داخل ہوتے ہی اس کا پہلا بیان تھا کہ میں بھارتی ایجنٹ تھا اوربطور ایجنٹ ملک کے لیے بہترین خدمات انجام دینے کا اعتراف کیا۔ لیکن وہ مرکزی حکومت سےناراض تھا جس نے اس کی گرفتاری کے بعد اس کے خاندان کے لیے کچھ نہیں کیا۔
ایسے درجنوں ایجنٹ گھائے بھگائے پاکستان میں گھستے رہے ہیں مختلف طرح کی سزائیں بھی انہیں ملتی رہی ہیں مختلف جیلوں میں قید ہونے کے بعد ان پر مقدمات بھی چلے۔ لیکن عمومی طور پر جاسوسی جیسے الزامات کو ثابت کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ کسی بھی حکومت کے پاس دستیاب معلومات اس کے ملک کے متعلق ہوتی ہیں۔ کلبھوشن یادیو ہو یا سربجیت سنگھ انہوں نے ملک سے جو رابطے کیے اس کا ڈیٹا بھارتی حکومت نے پاکستان کو مہیا نہیں کیااور نہ ہی وہ کبھی ایسا کرے گی۔ اس طرح کڑیاں نہ ملنے سے بہت سے جرائم کو ثابت کرنا عام حالات میں اور عالمی معیار کے مطابق انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان کے بعد کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ اس پر کوئی اورالزام ثابت کرنے کی چندہ ضرورت نہیں۔ اقبالی بیان کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ بالخصوص یورپی ممالک میں تو اقبالی بیان کی موجودگی میں کسی فنی شہادت کی بھی بسا اوقات ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اس لیے کلبھوشن یادیو کی سزا مقامی اور عالمی قانون کے عین مطابق ہے ۔ وہ اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے لیکن حکومت کو خبردار رہنا چاہئے کیونکہ اس طرح کے مزید ایجنٹ بھی داخل کیے جائیں گے۔
کلبھوشن کی پھانسی میں بھارت میں شدید منفی پروپیگنڈہ ہوتا رہاہے۔ بھارتی میڈیا نے روایتی انداز میں تنقید کر تے ہوئے اس بات پر شورمچانا شروع کر دیا ہے کہ کلبھوشن کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ را کے ایک سابق بھارتی افسر نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کلبھوشن سنگھ نے ر امیں ڈیپوٹیشن پرترقی کی تھی وہ چاہ بہار بورڈ پر بزنس کر رہے تھے ،یہ بزنس انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ،پاکستان نے انہیں بندھی بنایا انہیں بلوچستان میں مداخلت کا الزام لگایا۔ بھارت کے سابق فوجی افسر نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کلبھوشن سنگھ بلوچستان میں کیا کررہا تھا۔ انہوں نے اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں دیا کہ کلبھوشن سنگھ بلوچستان میں کیا کررہا تھا۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ کلبھوشن سنگھ چاہ بہار سے نہیں بلوچستان کے علاقوں میں اپنی مراٹھی زبان میں بات چیت کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی ای میل اور ٹیلی فون کالز سے پورے نیٹ ورک کا پتہ چلا تھا۔ عدالت میں پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کا اعتراف کیا اس کے اعترافی بیان کی روشنی میں ہی مزید ایجنڈوں کی گرفتاریا ں کی گئیں ۔ یادیو کے نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کی گرفتاریوں کے لیے بعد میں بھی چھاپے مارے گئے۔
بھارتی نے کلبھوشن سنگھ یادیو کا گھر بھی دکھایا جہاں پر اس وقت تالا لگا ہوا تھا، حیرت انگیز طور پر کلبھوشن سنگھ کے ہمسائے بھی واقف نہیں تھے کہ ان کے ہمسائے میں کون رہتا ہے۔ پاکستان میں گرفتاری کے بعد ہی انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایک جاسوس کے ہمسائے ہیں۔ یعنی کلبھوشن یادیونے اپنی سرگرمیوں اور شخصیت کو صرف پاکستان اور ایران سے ہی نہیں چھپایا بلکہ بھارتی عوام سے بھی چھپایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ کے گھر کی بنیاد پر بت خانہ کی تعمیر ۔ کیا کریں؟