frog naseem

جج ارشد ملک کو مزید کام کرنے سے روک دیا گیا:وفاقی وزیر فروغ نسیم

EjazNews

اسلام آباد میں وزیر قانون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے موصول خط میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی اور پریس ریلیز کے تناظر میں جج ارشد ملک کواحتساب عدالت نمبر 2 کے جج کے عہدے سے سبکدوش کردیا جائے اور اپنے پیرنٹ ڈپارٹمنٹ لاہور ہائی کورٹ کو رپورٹ کریں۔
ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھا گیا اور فوری طور پر جج ارشد ملک کو مزید کام کرنے سے روک دیا ہے اور انہیں محکمہ قانون کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پریس ریلیز اور بیان حلفی دیکھنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارشد ملک کہتے ہیں کہ انہیں کسی سیاہ سفید کو دیکھے بغیر فیصلہ کیا، مجھے رشوت دینے اور دھمکیاں دینے کی کوشش کی گئی اور اگر اس بیان کو دیکھیں تو پھر تو جج ارشد ملک نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔
بیان حلفی کے بارے میں وزیر قانون نے بتایا کہ اس کے مطابق جج ارشد ملک پر ہر قسم کا دباؤ تھا لیکن پاکستان اور نیب کے قانون کے تحت کوئی بھی شخص کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کی سزا الگ ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 31 اے کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص انصاف کی راہ، تحقیقات، عدالتی فیصلے میں رکاوٹ بنتا ہے تو اس پر 10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ یہ کیس اس حکومت نے تو نہیں بنایا اور نہ ہی اس کی تحقیقات اس حکومت نے نہیں کی، نواز شریف کے کیس میں اگر اتنا دباؤ تھا تو پھر تو انہیں دونوں کیسز میں سزا ہوجاتی لیکن جج نے انہیں ایک کیس میں بری کردیا جبکہ ایک میں سزا سنائی۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف اپیل کو اسلام آباد ہائی کورٹ دیکھ رہا ہے اور جب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک وزارت قانون، نیب یا کوئی بھی کیس کے بارے میں مزید کارروائی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرنا ہے، اس دوران کوئی سزا بڑھائی یا کم نہیں کی جاسکتی، لہٰذا یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا احتساب عدالت کے جج نے فیصلہ کسی دباؤ میں دیا۔
پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کے مطابق انہوں نے کوئی دباؤ میں فیصلہ نہیں دیا لیکن ویڈیوز کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے گا، تاہم کسی کو عدالتوں پر دباؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے حکومت کا برطانوی حکومت کو خط