hajj-2019

لبیک کی فضیلت

EjazNews

لبیک کی بڑی فضیلت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان حاجی کی لبیک کی آواز سن کر اس کے دائیں بائیں کے درخت، پتھر وغیرہ تمام چیزیں لبیک پکارتی ہیں ۔ (ترمذی) اور لبیک کو نمازوں کے بعد اور رات دن اوپر نیچے چڑھتے اترتے اور قافلہ کے چلتے وقت بار بار زور سے پڑھتے رہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس حضرتجبرئیل علیہ السلام تشریف لائے۔ مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے اصحاب کو حکم دوں کہ لال الہ الا اللہ اور لبیک کو زور زور سے پڑھیں ۔ (ترمذی)
اور فرمایا:
ترجمہ: سب سے افضل وہ حج ہے جس میں زور زور سے لبیک کہا جائے اور کثرت سے قربانی کی جائے۔(ترمذی )
اس تلبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھو (دار قطنی) اور اپنے حق میں جو دعا مناسب سمجھو مانگ لو۔
حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تلبیہ سے فارغ ہو جاتے تو اللہ سے اس کی رضا مندی اور جنت کی درخواست کرتے اور دوزخ سے پناہ مانگتے ۔ (دار قطنی، منتقی، نیل الاوطار) ۔
لبیک کے معنی ، تیری خدمت میں حاضر ہونے کے ہیں “ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ”ندا واذن فی الناس (الخ)“کے جواب میں ہے جو نصیب والا انسان دربار خداوندی میں حاضر ہونے کے لئے کہتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے تو اس کے ساتھ سب سننے والی چیزیں یہی کہتی ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: جب کوئی مسلمان لبیک کہتاہ ے تو اس کے ساتھ دائیں اورب ائیں جو پتھر درخت ڈھیلے وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی لبیک پکارنے لگتے ہیں۔ اسی طرح زمین کے انتہا تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ (ترمذی)
یہ حج کا شعار ہے اس سے حج کی شان دوبالا ہو جاتی ہے فرشتے بھی اس لبیک کا جواب دیتے ہیںاور اللہ تعالیٰ بھی چنانچہ کنز العمال میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام لبیک جب کہتے تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں لبیک فرماتا ۔ (کنز العمال)
ایک حدیث حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لبیک کے بارے میں فرمایا:
ترجمہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے کان میں انگلی ڈالے لبیک پکارتے ہوئے اس میدان سے گزررہے ہیں۔
اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا سُرخ اونٹنی پرس وار ہو کر کمبل کا چوغہ پہنے ہوئے اس میدان سے لبیک پکارتے ہوئے تشریف لے جارہے ہیں۔ (ابن خزیمہ)
اس لبیک کی بڑی فضیلت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: جو حاجی دن بھر غروب آفتا تک لبیک پکارتا ہے تو اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیںاور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ سا کی ماںنے جس دن جنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسجد الحرام کی فضیلت