world population day

بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی کہیں زحمت نہ بن جائے

EjazNews

اس وقت پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے،22کروڑ کے اس ملک کی محض 20برس قبل کل آبادی 13سے 14کروڑ کے درمیان تھی۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح نہ صرف خطے کے دیگر تمام ممالک بلکہ بیش تر اسلامی ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ آبادی میں کمی کے لیے کی جانے والی تمام تر کاوشوں کے باوجود یہ شرح 2.1فیصد سالانہ ہے، جبکہ ایران میں آبادی میں اضافے کی شرح 1.15فیصد اور بنگلہ دیش میں 1.08فیصد سالانہ ہے، جس کا سبب ان ممالک کی کامیاب پالیسی ہے جبکہ دیگر اسلامی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں مانع حمل ذرائع کا استعمال نصف ہے۔یہاں یہ اَمر بھی قابل ذکر ہے کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کی آبادی مغربی پاکستان سے 20لاکھ زیادہ تھی، جبکہ 2017ء میں پاکستان کی آبادی بنگلہ دیش سے 4کروڑ30لاکھ زیادہ ہو چکی تھی۔ آبادی میں کمی کی مؤثر اور کامیاب منصوبہ بندی کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں فی خاندان بچّوں کی اوسط تعداد 2تک محدود ہو چُکی ہے، جبکہ پاکستان میں یہ 4ہے۔ا گرچہ پاکستان میں اب والدین عام طور پر 3بچّوں کے خواہش مند ہوتے ہیں، لیکن اوسط تعداد بہر حال 4ہے۔
خاندانی منصوبہ بندی محض ملکی معیشت کے استحکام اور ترقّی ہی کے لیے ضروری نہیں، بلکہ اس کے ذریعے شہریوں کا معیار زندگی بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے آبادی میں بڑھتے ہوئے اضافے سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے تھے کہ کیا ہمارا مُلک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں7 بچّے پیدا ہوں؟ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور آبادی پر کنٹرول کے لیے چلائی جانے والی آگہی مہم کا نتیجہ صفر ہے۔آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے۔ آبادی میں اضافے کا مسئلہ اُتنا ہی اہم ہے، جتنا کہ ڈیمز بنانے اور قرض اُتارنے کا۔

آبادی میں بے ہنگم اضافہ پاکستانیوں کو تعلیم،صحت ،ٹرانسپورٹ اور پانی جیسے سنگین مسائل کی طرف لے جارہا ہے

آبادی میں تیزی سے اضافے کے سبب مُلک میں پانی کی قلّت تشویشناک حد تک پہنچ چُکی ہے۔ اس وقت کم و بیش 6کروڑ شہریوں کو پینے کا صاف پانی تک میسّر نہیں ۔ حکام کی اس اہم مسئلے سے چشم پوشی کی وجہ سے مُلک میں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور پانی کے علاوہ تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، دُنیا کے بے شمار مسائل آبادی میں بے ہنگم اضافے ہی کے سبب ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا مسئلہ خوراک کی کمی بھی ہے، جبکہ اسی وجہ سے جنگلات اور جنگلی حیات میں کمی اور فضائی آلودگی میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں تباہ کن موسمیاتی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔
عوام الناس کو خاندانی منصوبہ بندی کے دیگر ثمرات مثلاً بہتر ماحول اور بہتر معیشت وغیرہ سے متعلق آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں حکومت، فیصلہ ساز شخصیات اور سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر آبادی میں ہوش رُبا اضافے جیسے سنگین مسئلے پر فوری توجہ دینا ہو گی ۔ پھر خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرامز کو بھی زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ پیدائش میںوقفہ کم ہونے سےمائوں کی صحت پر جومنفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں ، انہیں اس حوالے سے آگہی دی جانی چاہیے، تا کہ ہماری آئندہ نسلوں کو صحت و تعلیم کی بہتر سہولتیں حاصل ہوں، جواُن کا بنیادی حق ہے۔
بلاشبہ نئی حکومت کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہو گا، لیکن اسے آبادی میں تیز تر اور بے ہنگم اضافے کے تدارک کو اپنی ترجیحات میں سرِ فہرست رکھنا ہو گا۔ تاہم، اس اہم ترین قومی مسئلے کا حل روایتی طرزفکر اور طرز عمل سے ممکن نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے فوری طور پر نیا اور مؤثر قومی بیانیہ سامنے لانا ہو گا۔ مُلک کی آبادی میں بے ہنگم اضافہ ترقّی کی ہر کاوش نگل رہا ہے اور اس کے سبب ملکی وسائل کو جن خطرات کا سامنا ہے، اُن کا مقابلہ اجتماعی قومی شعور اور اٹل سیاسی ارادے ہی سے ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اورآئی ایم ایف کی آخر ڈیل ہو ہی گئی