ahram

احرام کے معنی و حکمت

EjazNews

حج کی پختہ نیت کرنا اور میقات پرپہنچ کرتمام زیب و زینت کو دور کر کے ایک فقیرانہ لباس پہن کر تلبیہ کرنے کو احرام کہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے بہت سی مباح چیزیں اس احرام کی حالت میں حرام ہو جاتی ہیں۔ اس فعل سے حج میں داخل ہوگ ئے جیسے تکبیر تحریمہ سے نماز میں داخل ہو جاتے ہو اور اس تکبیر کے بعد سلام پھیرنے تک منافی صلوٰة افعال حرام ہوجاتے ہیں اسی طرح احرام سے منافی افعال حج بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اس کو احرام کہتے ہیں۔
حج کا احرام باندھنے کے تین مہینے ہیں: شوال المکرم، ذوالقعدہ، ذوالحجہ کا اول عشرہ ان میں حج کا احرام باندھنا سنت ہے۔
احرام کی حکمت
شاہی دربار کے آداب میں سے ایک خاص ادب یہی ہے کہ جو لباس شاہی آداب کے لئے موزوں ومناسب ہو وہی لباس پہن کرشاہی دربار میں حاضر ہونا چاہئے اور شاہی دربار کے غیر مناسب لباس پہن کر جانا گستاخی ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کے دربار عام اور دربار خاص میں شرکت کرنے والوں کے لئے خاص خاص وردیاں ہوتی ہیں جس کو زیب تن کر کے شریک ہوتے ہیں تاکہ خاص اس وردی سے دوسروں سے ممتاز نظر آئیں۔ حج سالانہ جشن ہے، اللہ تعالیٰ نے جشن منانے والوں کو یہ حکم دے رکھا ہے اس جشن اور اجتماع میں شریک ہونے والے، اس قسم کی وردی پہن کر ہمارے دربار میں حاضر ہوں اس لئے اس شاہی دربار میں شریک ہونے کے لئے وہی خاص لباس احرام پہن کر جانا لائق ہے اور وہی حالت بنا کر جانا جو شہنشاہ کی مرضی کے مطابق ہو نہایت موزوں ہے پس میقات ہی سے اس دربار کے حضوری کی تیاری شروع کرو اور اپنی وہی حالت بنالو ۔ جس سے وہ خوش ہو یعنی خاکساری، تواضع، سادگی کا لباس پہن لو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے احرام کا لباس سادہ رکھا ہے جو دنیا کے بادشاہوں کے شاہی دربار میں شرکت کرنے والوں کے بالکل خلاف ہے۔دنیا کے بادشاہوں کے دربار میں شریک ہونے والے خوب بن ٹھن کر اور لبا س فاخرہ زیب تن کر کے شریک ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو چونکہ سادگی پسند ہے اس لئے سادہ لباس پہن کر اور زینت کی چیزوں کو چھوڑ کر شریک اجلاس ہوتے ہیں اور اسی میں اسلامی مساوات بھی ہے کہ امیر، فقیر ، غریب اوربادشاہ سب ایک لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں اور اس لباس میں کفن کی مشابہت بھی ہتوی ہے۔ جس سے انسان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ دنیا سے جاتے وقت صرف اتنا ہی لباس ملے گا۔ نیز اس سے انسان کو اپنی ابتدائی حالت یاد آتی ہے۔ کیونکہ اس کا پہلے ہی ایسا لباس تھا۔
احرام باندھنے کا طریقہ
احرام باندھنے کا طریقہ ہے۔ (۱)اول حجامت بنوالو۔ (۲) زیر ناف کے بال صاف کر ڈالو اس کے بعد (۳) غسل کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے سے پہلے غسل فرماتا تھا۔ (ترمذی)اور آپ نے حضرت عائشہ ؓ اور اسمائؓ کو احرام کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا تھا۔ (ابوداﺅد)۔
(۴) اور وضو کر لو ۔ اس کے بعد سلے ہوئے کپڑے اتار دو اور ایک لنگی باندھ لو اور ایک چادر اوڑھ لو ۔
احرام کے صرف یہی دو کپڑے ہیں۔ اس کے بعد خوشبو لگا لو۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت میں خوشبو لگاتی تھی احرام باندھنے سے پہلے اور طواف سے پہلے حلال ہونے کے وقت خوشبو لگاتی تھی۔
اس کے بعد اگر فرض نماز کا وقت ہے تو فرض نماز کے پڑھنے کے بعد تلبیہ پڑھ تلو اور اگر فرض نماز کا وقت نہیں ہے تو احرام کی نیت سے دو نفل پڑھو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کرنے کے لئے نکلے مسجد ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کر نے کے بعد حج کا احرام باندھا (ابوداﺅ )
بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد قل یا ایھا الکفرو ن اور دوسری میں فاتحہ کے بعد قل ھو اللہ احد پڑھو سلام پھیرنے کے بعد سر کھول ڈالو اور اپنے دل میں حج یا عمرہ یا قرِان یا تمتع کی نیت کرو۔ یعنی اگر عمرہ کرناہے تو عمرہ کی نیت دل میں کرلو۔ کہ خدایا میں عمرہ کرو ں گا تو اس کو قبول فرما اورآسان کر دے۔ اور اگر حج کرنا ہے تو صرف حج کا ارادہ کرو۔ اور اگر قِران یعنی حج و عمرہ دونوں ساتھ ساتھ اداکرنا مقصود ہے تو دونوں کا ارادہ کر و۔ الحج والعمرہ ۔ فرض حج ادا کرنا ہے تو فرض کی نیت کرو۔ نفل ادا کرنا ہے تو نفل کی نیت کرو ۔ نیت کرنا فرض ہے۔ بغیر نیت کے کسی عمل کا اعتبار نہیں ہے اگر مرد ہے تو احرام کے وقت سے قربانی تک سر کھول رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: مرد کا احرام سر میں ہے (یعنی احرام کی حالت میں سر کھلا رہنا چاہئے) اور عورت کا احرام چہرے میں ہے یعنی احرام کی حالت میں چہرہ کھلا رہنا چاہئے۔
اس کے بعد زور زور سے تلبیہ پڑھو جس کے الفاظ یہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس تلیہ کو پڑھا کرتے تھے:
ترجمہ: الٰہی میں تیری خدمت اورتیری عبادت کے لئے حاضر ہوا ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں تیری خدمت کے لئے حاضر ہوا ہوں یقینا تعریف اور نعتم صرف تیرے لئے اورب ادشاہت صرف تیرے لئے خاص ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اے میرے سچے معبود میں تیری خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  آب زمزم