robotes

مستقبل آرٹیفشل ٹیکنالوجی (مصنوعی ذہانت) کا ہے

EjazNews

منصوعی ذہانت آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا چرچا دنیا بھر میں ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس کی تعلیم کا بھی ابھی تک آغاز نہیں ہوا۔ ہم سائنسی علوم اور تحقیق میں دنیا سے شاید ہزاروں سال پیچھے ہیں۔ ابھی تک ہم نے سفر کا آغاز بھی نہیں کیا کہ سائنسی تعلیم ہوتی کیا ہے۔یہ صدی ٹیکنالوجی کی ہے اور دنیا میں رول اور مضبوط معیشت کی حامل وہی ممالک رہیں گے جو ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی سے آنے والی تبدیلیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہوں گے۔ زیر نظر مضمون میں ہم اس ٹیکنالوجی کے بارے میں آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح دنیا اس مصنوعی ذہانت سے ہونے والی تبدیلیوں اور اس میں تحقیق کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ان دنوں دنیا بھر میں روبورٹس اور مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفشل انٹیلی جنس کا چر چا ہے۔ برطانیہ میں مصنوعی ذہانت سے ایک کروڑ افراد کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایک رپورٹ میں ماہرین نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ 2030ءسے کم از کم 30فیصد ملازمین روبورٹس اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے بے روزگار ہو جائیں گے۔ سب سے زیادہ خطرہ ہول سیل اور ریٹیل کے بزنس سے منسلک ورکروں کو ہوگا۔ پیزا ڈلیوری کا پورا سسٹم مصنوعی ذہانت اور روبورٹس سنبھال لیں گے۔ فیکٹریوں میں پہلے ہی بہت سے کام روبورٹس نے سنبھال رکھے ہیں۔ کئی شعبوں میں اب صرف روبورٹس کام کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اس وقت ہزاروں ماہرین روبورٹس کو ذہین روبورٹس میں بدل دینا چاہتے ہیں۔ پروفیشنل سروسز سے منسلک ایک کمپنی نے ا س سلسلے میں برطانیہ کو متبادل انتظامات کرنے کی وارننگ دی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے معاشرے میں نئی نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ اپنے آپ کو اپ گریڈ نہ کرنے والے لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ اس کی مثال ایک ٹیلی کون کمپنی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہے۔ برطانیہ کی یہ بڑی ٹیلی کام کمپنی اگلے سال کسٹمرز کے شعبے سے منسلک تمام افراد کو بے روزگار کر دے گی۔ ان کی جگہ صرف ربورٹس کا م کریں گے۔ گزشتہ سال فروری میں ریفارم نامی ایک تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پندرہ سالوں میں برطانیہ میں پبلک سیکٹر کی ڈھائی لاکھ ملازمتوں پر روبورٹس کام کریں گے اور 2030ءتک ا س سے ڈھائی ارب پاﺅنڈ سالانہ کی بچت ہوگی۔ اس کے بعد نیشنل ہیلتھ سروسز کے 90ہزار عہدے اور ریسپشنسٹ کی 24ہزار سیٹیں مصنوعی ذہانت والے روبورٹس سنبھال لیں گے۔ اس سے پونے دو ارب پاﺅنڈ کی بچت ہوگی، روبورٹس اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی طرف اشارے کرتے ہوئے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے منسلک شعبے نے دوسرے شعبوں سے دگنی تنخواہیں وصول کی ہیں اور فی کس ٹیکس بھی دگنا دیاہے۔ برطانیہ میں دوسرے شعبوں سے منسلک افراد کی تنخواہ 26ہزار سالانہ ہے۔ مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ماہرین 55ہزار پاﺅنڈ تک وصول کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں چانسلر فلپس ہیمڈ نے بھی سائنسدانوں اور محققین کو ہائی ٹیک چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے اربوں روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس سبسڈی کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت ، روبورٹس ، نیکسٹ جرنیشن بیٹریز اور میڈیسن میں نئی تحقیق پر دئیے جائیں گے۔ چانسلر نے نیشنل پراڈکٹیوٹی فنڈ میں بھی مزید 50کروڑ پاﺅنڈ دینے کا اعلان کیا تھا جس میں سے 27کروڑ پاﺅنڈ بزنس کمیونٹی اور یونیورسٹیوں کو دئیے جائیں گے تا کہ وہ روبورٹیک ٹیکنالوجی میں تحقیق کو پروان چڑھا سکیں۔ آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اس ٹیکنالوجی پر تحقیق وقت کا تقاضا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ کیا حالات تھے جو ملک میں مارشل لاء پر منتج ہوئے
جہاں یہ ٹیکنالوجی فعال ہوگی سب سے پہلے وہاں کی ریسپشنسٹ کی سیٹیں سنبھالے گی، ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ریسپشنسٹ کی 24ہزار سیٹیں مصنوعی ذہانت والے روبورٹس سنبھال لیں گے

فیس بک انتظامیہ بھی مصنوعی ذہانت کو سماجی بہبود کے لیے استعمال کرر ہی ہے، فیس بک نے اس سلسلے میں کیا آپ ٹھیک ہیں ،میں آپ کے بارے میں پریشان ہوں ،اس طرح کے جملے روبورٹ میں فیڈ کر دئیے ہیں جو روبورٹس کی یہ ٹیم مختلف یوزر کی نفسیاتی کیفیات کا جائزہ لیتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ کسی میں خودکشی کے جراثیم نہیں پائے جاتے۔ جیسے ہی کسی میں خودکشی کے جراثیم کا پتہ لگنے پر یہ انتظامیہ حرکت میں آجاتی ہے، اگرچہ فی الحال یہ پتہ نہیں چل سکا کہ مصنوعی ذہانت نے کتنے افراد کو مرنے سے بچایا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انسانی نفسیاتی اور ذہنی کیفیات کا پتہ چلاکر اسے اپنی زندگی کے خاتمے سے روکا جاسکتا ہے۔
ایک اور رپورٹ سے پتہ چلا کہ مصنوعی ذہانت برطانیہ کی معیشت میں 624ارب پاﺅنڈ کی خدمات مہیا کر سکتی ہیں۔ محققین نے 2030ءکے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 6لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ڈینی وولن ٹیکنالوجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دی روم ٹی زینٹی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں بہت سے غیر ضروری منفی خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے مگر یہ برطانوی معاشی ترقی کا انجن ثابت ہو گی۔ نت نئے عہدے پید ا ہوں گے، نئی مہارتیں اور صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مد دملے گی۔ اسی کے پیش نظر حکومت نے ”ڈیجیٹل سٹرٹیجی“ کے نام سے ایک نئی پالیسی مرتب کی ہے۔ آپ کے لیے یہ بات حیران کن ہو گی کہ برطانیہ میں ڈیجیٹل منسٹر کا عہدہ بھی قائم کیا گیا۔ ایڈوائزے 2015ءمیں ڈیجیٹل منسٹر ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے 2015ءمیں رپورٹ مرتب کی جس کی اشاعت میں ایک سال کی تاخیر ہوئی۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹی کے چیئرمین نے اس سلسلے میں ڈیجیٹل منسٹر میٹ ہین کاک کو ایک خط میں اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ چیئرمین میٹ کیلفے نے اس طویل تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا ہے تاہم برطانیہ ، امریکہ اور بعض دوسرے ممالک نے ان خدشات کا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 50سے 100سال تک اس طرح کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔ مصنوعی ذہانت کم از کم اگلے 50سال تک اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو ان کے روزگار سے محروم نہیں کر سکتی ۔ اس انڈسٹری میں اتنی صلاحیت موجود نہیں۔ سابق امریکی وزیر خزانہ سٹیف منو چن نے اسے مزحقہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ مصنوعی ذہانت ہمارے ریڈار سسٹم پر بھی موجود نہیں۔ کم از کم اگلے 50سے 100سال تک، مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں کہ روبورٹس مستقبل قریب میں انسانوں کو بے روزگار کر دیں گے۔ در حقیقت میں مثبت سوچ رکھتا ہوں“۔ دوسری طرف امریکی میڈیا میں وزیر خزانہ کے اس بیان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حیرت ہے امریکی وزیر خزانہ اتنی اہم تحقیق اور اس کے اثرات سے بے خبر ہیں اور اس پر کوئی توجہ نہیں دینا چاہتے۔ صورتحال خواہ کچھ بھی ہو روبورٹس اور مصنوعی ذہانت یا مصنوعی ذہانت کے حامل روبورٹس اپنے ہی بنانے والوں سے ان کا روزگار چھین رہے ہیں۔ لیکن یہ ابھی اتنے طاقتور نہیں ہوئے کہ انسان ہی کو بے روزگار کر دیں۔
دنیابھرمیں اس ٹیکنالوجی سے بے روزگاری ہونے والے افراد کے بارے میں سوچا جارہا ہے اور مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں پرتحقیقات کی جارہی ہیں لیکن ہمارے ہاں معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ہمارے ہاں ابھی تک مصنوعی ذہانت کے بارے میں تعلیمی آگاہی تک نہیں ہے۔ گزشتہ روز ایک شنید سننے میں آئی ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس میں بننے والی یونیورسٹی میں آرٹی فیشل انٹیلی (مصنوعی ذہانت) کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ چلو دیر آید درست آید۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کو وقت دیں اس سے پہلے کہ وقت نکل جائے