bilawal

پارلیمان کو چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ ہمیں کام کرنے سے روک رہے ہیں جس سے عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں، آپ کمیٹیوں کوختم کر کے اخراجات بچانے کی کیسی لاجک پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر لندن یا جہاں بھی بیٹھیں ہیں وہاں بیٹھ کر نوٹیفکیشن جاری کر رہے ہیں۔قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس منسوخ کرنا پارلیمنٹ پر حملہ ہے، پارلیمان کو چلانے کے لئے قائمہ کمیٹیوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔ پارلیمان کو چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں ہے۔ ٹوٹی پھوٹی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے لیکن یہ حکومت خود پارلیمان کو تالا لگا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم صحافت کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور پیپلز پارٹی ہمیشہ سے صحافت کو آزاد دیکھنا چاہتی ہے لیکن اس حکومت میں تو صحافت پر اس قدر سینسر شپ لگی ہوئی ہے کہ 3چینلز کو پتہ ہی نہیںکہ ان کی نشریات کیوں اور کس نے بند کی ہے۔ اگر کالم نگار اپنی رائے کا سوشل میڈیا پر اظہار کرتے ہیں تو ان کا اکائونٹ بند کر دیا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا ٹیکس ہر حکومت کا مسئلہ رہا ہے ،لیکن اس حکومت نے بڑے وعدے کیے ہیں۔ ان کی نالائقی یہ ہے کہ انہوں نے اس ملک کا سب کم ٹیکس جمع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کی سمت درست نہیں ہے۔ جب آپ کا گرائوتھ کم ہو رہا ہوتا ہے تب ٹیکس بڑھانا ٹھیک نہیں ہوتا لیکن یہ حکومت اس کے بالکل الٹ چل رہی ہے۔ حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں تھا بس نعرے تھے خودکشی کر لو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا طریقہ سب سے بہتر تھا ہم نے سالہا سال ٹیکس بڑھایا۔ ٹیکس بھی سب سے زیادہ جمع کیا۔ہم نے سندھ میں ٹیکس بڑھایا باقی صوبے اور وفاق ہمیں فالو کر سکتے ہیں ، ہماراٹیکس کولیکشن زیادہ ہے ہم نے کسی کو ڈنڈا نہیں دیا ،ہم نے اچھی نیت کے ساتھ صحیح کام کیا ۔ سندھ واحد صوبہ ہے جو اچھی پرفارمنس دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کی وفاقی وزیر زرتاج گل کو خط واپس لینے کی ہدایت