Chirman seant

چیئرمین سینٹ کیخلاف قرار داد جمع، تحریک انصاف کا نیا امتحان شروع

EjazNews

سینٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی قانون سینٹ کی مرضی کے بغیر قانون نہیں بن سکتا ۔ اس لیے برسر اقتدار آنے والی پارٹی کی یہ حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ چیئرمین سینٹ ان ہی کا ہو۔ قومی اسمبلی کے اراکین مل کر سینٹ کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں اور سینٹ اپنے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کرتا ہے۔موجودہ چیئرمین سینٹ میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اور ق لیگ نے مل کر بنوایا تھا ۔ ان کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین رضا ربانی کی جگہ چیئرمین سینٹ بنوایا گیا تھا۔ اس وقت ن لیگ چاہتی تھی کہ رضا ربانی ہی چیئرمین سینٹ بنیں اور ان کے حق میں ووٹ بھی دے رہی تھی نواز شریف کے بیانات بھی خبروں کی زینت بنے جس میں وہ رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ بنانا چاہتے تھے لیک ن لیگ کی مخالفت میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ق لیگ نے مل کر موجودہ چیئرمین سینٹ کو مل کر اس منصب پر فائز کروایا۔چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد اپوزیشن اراکین نے سیکرٹری سینٹ کے آفس میں جمع کرائی ہے۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ایوان کے ممبران کا اعتماد کھو چکے ہیں۔چیئرمین سینیٹ ایوان کے کسٹوڈین کے طور پر اعتماد نہیں رکھتے۔اپوزیشن کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کیلئے ریکوزیشن بھی جمع کرادی گئی ہے

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش:ٹیسٹ سیریز دلچسپ ہوگی

اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کس پارٹی کے کتنے سینیٹرز ہیں تو ن یگ کے سینٹ میں 17،پاکستان پیپلز پارٹی کے 21،پاکستان تحریک انصاف 20،آزاد امیدوار 13، بلوچستان عوامی پارٹی 8، ایم کیو ایم 5، جمعیت علمائے اسلام (ف) 4، عوامی نیشنل پارٹی 1، نیشنل پارٹی5، پختونخوا ملی عوامی پارٹی4، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل1، مسلمل یگ فنکشنل کے پاس ایک سینیٹر ہے۔ یوں ان سینٹ کی سیٹوں میں بظاہراً اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہے۔ ذرائع کے مطابق آزاد امیدواروں میں سے بھی زیادہ تر مسلم لیگ ن کے ہی ہیں۔