abdul-star-edhi

انسانوں کے درمیان فرشتہ ”عبدالستار ایدھی“

EjazNews

عبدالستار ایدھی انسان تھے، فرشتے نہیں، لیکن ان کی بیشتر خوبیاں فرشتوں والی اور کام اللہ کے پسندیدہ بندوں والے تھے اور کام بھی کیسے؟ ان مسخ شدہ لاشوں کی تدفین، جنہیں ان کے اپنے عزیز واقارب اٹھانا تو در کنار چھونے اور قریب آنے سے بھی کتراتے تھے۔ کچرے کے ڈھیروں پر ملنے والے نوزائیدہ بچوں کی پرورش، ذہنی معذور اور جسمانی طور پریشان افراد کی دست گیری، بے سہارا اور غریب بچیوں کا بیاہ شادی وغیرہ۔تب ہی تو آج ایدھی کا نام پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔ ان کے انتقال کو کچھ عرصہ گزرا ہے لیکن اس مختصر عرصے میں ایدھی کی شخصیت اور خدمات پر اتنا زیادہ لکھا گیا ہے کہ اچھی خاصی ایک ضخیم کتابیں مرتب کی جاسکتی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا کیونکہ ایدھی صرف ایک شخص کا نام نہیں، وہ ایک ایسی شخصیت ہے، جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پاکستان کے22 کروڑ افراد میں ایدھی وہ واحد انسان تھا، جس نے اپنے فلاحی کاموں میں ذات ،نسل، مذہب ، علاقے اور زبان کی پروا کیے بغیر صرف انسانیت کو مدنظر رکھا۔ کسے معلوم تھا کہ سکول میں اپنے ہم جماعتوں سے لڑنے جھگڑنے والا دھونس جمانے اور دادا گیری کرنے والا وہ منہ زور لڑکاجس کے اساتذہ نے اس کی خوبی دیکھتے ہوئے اسے کلاس مانیٹر بنا دیا تھا، آگے چل کر دکھیاروں کا غم گسار بنے گا، مصیبت زدوں کے کام آئے گا۔ غریبوں کی مدد اور مظلوموں کی دادرسی کرے گا۔ اپنی ہستی کو مٹا کر دوسروں کے لیے زندہ رہے گا۔
صرف یہی نہیں، اس کا فیض مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ اس کے انتقال پرایدھی سینٹرز کی خدمات کا سلسلہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی منقطع نہیں ہوا۔ ایمبولینسز، زخمیوں، بیماروں اور ہلاک شدگان کی میتیں اٹھاتی ہیں۔ اس کی عطیہ کردہ آنکھوں سے دو افراد کی زندگیاں روشن ہو گئیں۔
برصغیر میں سماجی خدمات کی روایات اگرچہ بہت قدیم ہیں۔ ہزاروں افراد ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے اپنی دولت کو بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے خرچ کیا۔ کنویں کھدوائے ، تالاب بنائے ،سڑکیں تعمیر کیں، شفا خانے بنوائے تعلیمی ادارے قائم کیے ، جانوروں کے پانی پینے کی لیے پیا بھی بنوائے لیکن ان سب میں ایک شخص بھی ایدھی جیسانہیں ہے ، جس نے لوگوں سے چندہ، خیرات ،صدقہ اور عطیات مانگ کر رقوم اکٹھا کیں اور حاصل شدہ رقم کی مدد سے ایک خیراتی شفاخانہ قائم کر دیا۔ 70ءکے عشرے کی ابتدا میں کراچی والے کھارادر کے ایک ایسے شخص کے نام سے آشنا ہوئے ، جو فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے پیارے اور لاوارث افراد کی خبر گیری کرتا تھا۔ ان میں شدید بیمار افراد کو وہ ہاتھ گاڑی یا ٹھیلے پر ڈال کر ہسپتال پہنچاتا۔ کھارادر کے قرب و جوار میں اس کی شہرت بس اس قدر تھی کہ اگر کوئی حادثہ ہو جا تا یاکسی پر کوئی مصیبت آجاتی تو لوگ لپک کر اس کوخبر کر دیتے ،باقی سارا کام وہ خود سنبھال لیتا تھا۔ کھارادر میں واقع اس کا فلاحی مرکز بس اسی قسم کی سرگرمیوں کے لیے وقف تھا۔ وہ اکثر اپنے علاقے کے کپڑے کے تاجروں کمیشن ایجنٹس اور دکانداروں سے چندہ لینے کے لیے نکلتا۔ اہل علاقہ اس کے فلاحی کاموں سے بخوبی واقف تھے وہ دل کھول کر چندہ دیتے۔ لہٰذا جیسے جیسے چندے میں ملنے والی رقوم بڑھتی گئیں، اس کی خدمات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے زخمیوں اور بیماروں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے ایک پرانی کھٹارا قسم کی گاڑی خریدلی اسے ایمبولینس کی شکل دے دی۔ اس طرح ہاتھ گاڑی اور ٹھیلے کا استعمال متروک ہو گیا۔ مگر اس وقت تک ایدھی کی شہرت صرف اسی علاقے تک محدود تھی۔ 1976 ءکا زمانہ تھا غلام مصطفی جتوئی سندھ کے وزیراعلی اور ذوالفقارعلی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ ناقص تعمیر کی وجہ سے لیاری کے علاقے موسیٰ لین میں ایک عمارت، جس کا نام بسم اللہ منزل تھا، اچا نک منہدم ہوگئی۔ شاید رمضان کے دن تھے بے شمار لوگ ملبے تلے دب گئے مگر حکومتی اداروں نے مجرمانہ بے حسی دکھائی۔ کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائی شروع نہ ہوئی ایسے میں عبدالستار ایدھی اپنے ساتھ چند نوجوانوں کو لے کر وہاں پہنچے اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ حادثہ بہت شدید تھا۔ درجنوں افراد ہلاک اور زخمی تھے۔ رضا کاروں نے دن رات کی پرواہ کے بغیر اپنا کام جاری رکھا ایک دو روز بعد وزیراعظم ذولفقارعلی بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ غلام مصطفی جتوئی جائے حادثہ پر پہنچے تو درمیانی عمر کے ایک شخص سے ان کا تعارف کروایا گیا، جو دھول مٹی میں اٹا ہوا تھا، اس نے ملیشیا کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ اخبارات میں وزیر اعظم کے ساتھ اس شخص کی تصاویر شائع ہوئیں تب کراچی کے عوام کو پتا چلا کہ اس شخص کا نام عبدالستار ایدھی ہے۔
چند ہزار روپے سے شروع کیے جانے والے فلاحی کا موں نے عبدالستار ایدھی کو جس مقام اور منزل تک پہنچایا، بساط عالم میں اس کی نظیر شاید کہیں مل سکے گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عبدالستار ایدھی نے کام دیانتداری سے ایک ایک پیسہ اسی مد میں خرچ اور صرف کیا جس کے لیے وہ دیا جاتا تھا۔ اور خودباسی روٹی کھاتے تھے۔ ان کا ایک عزیز ترین نواسہ، جوان کے بہت قریب تھا اور ہر وقت ان کیساتھ رہتا(اس معصوم بچے کو ایدھی ہوم میں داخل ایک ذہنی مریضہ نے گرم پانی سے جلا کر ہلاک کر دیا تھا) ان سے اکثر نہایت معصومیت سے پوچھا کرتا نانا! آپ باسی روٹی کیوں کھاتے ہیں۔ کیا آپ کو تازہ روٹی نہیں ملتی؟ اور درویش صفت ایدھی، ایک ٹرین حادثے کی امدادی کاروائیوں میں مصروف ہونے کے سبب اپنے اس لاڈلے نواسے کی تدفین تک میں شریک نہ ہو سکے۔ وہ فقیرانہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے اور اپنے اہل خانہ کوبھی انہوں نے اس کا خوگر بنایا۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے، جو ساری خدمت کی آڑ میں شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا طریق اہل درس و مدرسہ سے بالکل مختلف تھا۔ اہل مدرس بھی قربانی کی کھالیں، چندہ، زکوٰة، خیرات و صدقات حاصل کرتے ہیں لیکن ان کا طرز زندگی سب کے سامنے ہے۔ بڑی بڑی قیمتی گاڑیوں، ایئر کنڈیشنڈ ،عالی شان رہائش گاہوں مسلح گارڈ،مرغن کھانوں اور دیگر مصارف کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب ان کی ذاتی آمدنی سے پورے ہوتے ہیں لیکن ان کے برعکس ایدھی صاحب کی زندگی شروع سے آخر تک دیکھ لیتے ، روکھی سوکھی روٹی، کھدر کے کپڑے، کینوس کے جوتے ،سادہ ساپلنگ، جس پر کبھی کبھی وہ کھانا بھی تناول کرلیا کرتے تھے، نوکر چاکر، نہ پیر دبانے اور جسم کی مالش کرنے والے خدمت گار نہ ذاتی محافظ نہ ہٹو بچو کی صدائیں، وہ بہت مذہبی آدمی نہیں تھے۔ روزہ نمازکی زیادہ پابندی نہیں کرتے تھے اور ان کے بعض نظریات پر کچھ علماءکی جانب سے اعتراضات بھی کیے گئے ، مگر انہوں نے کبھی کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔ وہ تو بس اللہ کی مخلوق کی خدمت کے قائل تھے اور اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کی پوری زندگی اسوئہ رسول ﷺ کے مطابق ہی تھی۔ اور اس اعتبار سے وہ ان علماءسے لاکھ درجے بہتر تھے، جن کا طرز زندگی ، اسوہ ¿رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ذرا سی بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ یقیناوہ بشری کمزوریوں سے بھی ماور انہیں تھے۔ دنیا جانتی ہے اور وہ خود بھی اعتراف کرتے تھے کہ انہوں نے کئی خواتین کو پسند کیا۔ ایک سے زائد شادیاں بھی رچائیں۔ زندگی سے مایوس ہوئے خودکشی کی بھی کوشش کی۔ اپنے ملک اور نظام سے بھی سخت بددلی کا شکار رہے، انہیں لوگوں نے کئی بار بے وقوف بنایا اور وہ بنے بھی لیکن ان تمام باتوںکے باوجود وہ اپنی سادگی ،صاف گوئی اور قول وفعل میں کسی قسم کا تضاد نہ ہونے کے سبب یقینا ایک کامل انسان اور بہترین مسلمان تھے۔
ایدھی صاحب کی زندگی کا ایک روشن پہلو بھی ہے کہ انہوں نے دوسروں کو بھی فلاحی خدمات کی طرف راغب کیا۔ ایدھی صاحب کی دیکھا دیکھی اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے متعددافراد نے سماجی اور فلاحی خدمات کا راستہ اختیار کیا مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی، ان میں سے کچھ نے خدمت کو کاروبار بنالیا، کچھ نے ذاتی اغراض و مقاصد اور ذاتی تشہیر کے حصول کا ذریعہ بنایا مگر ان میں سے کوئی بھی ایدھی صاحب کی گردتک کونہیں پہنچ سکا۔ وجہ صاف ظاہر ہے، ایدھی صاحب کوعوام کا بھر پور اعتماد حاصل تھا اور اس اعتماد کی واحد وجہ ایدھی صاحب کی ذاتی زندگی تھی ، جس میں تصنع اور بناوٹ کا کوئی دخل نہیں تھا۔ وہ جیسے
تھے ویسے ہی نظرآتے تھے۔ ان کو عطیات دینے والے اچھے اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کادیا ہوا ایک ایک روپیہ صحیح جگہ اور اسی لیے آنکھیں بند کر کے ان پر بھی اعتماد کرتے اور یہ جو آج ہم جگہ جگہ مختلف اداروں کو فلاحی خدمات انجام دیتے ہوئے دیکھتے ہیں، خصوصاً ہسپتالوں کے باہر مختلف غیر سیاسی تنظیموں کو ایمبولینسز کی قطاریں نظر آتی ہیں، تو یہ سب ایدھی صاحب ہی کے فیضان کا کرشمہ ہے کہ جن کا جلایا ہوا ایک چراغ، سو چراغ روشن کرنے کا سبب بنا۔ ایدھی صاحب کو دیکھ کر لوگوں میں شعور پیدا ہوا کہ سماجی خدمت میں عظمت ہے۔ وہ ملک جہاں حادثات کا شکار ہونے والے افراد سسکتے تڑپتے رہتے تھے۔ اب چند منٹ میں کسی کسی ادارے کی ایمبولینس پہنچ جاتی ہے۔
ایدھی صاحب کی زندگی میں ایک کڑواوقت ایسا بھی آیا، جب ایدھی سینٹرز کی عیدالاضحی کے موقع پر ملنے والی قربانی کی کھالوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگئی۔ جس کی وجہ سے کئی رفاحی منصوبے متاثر ہوئے اور مالی بحران پیدا ہو گیا مگر یہ بحران وقتی تھا۔ ایدھی صاحب پر عوام کے اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی اور یہ اعتماد اسی طرح برقرار رہا۔ قربانی کی کھالیں نہ ملنے سے جو خلا پیدا ہوتا تھا، اس سے کہیں زیادہ عطیات موصول ہونے لگے۔
عبدالستار ایدھی، نہ ملا تھے ،نہ مولوی، میڈیا میں انہیں برسوں تک مولانا عبد الستار لکھا جاتا رہا مگر انہوں نے خود کو مولاناکہلوانا پسند کیا۔ وہ تو بس ایک بے لوث خدمت گار تھے، وہ صلہ بھی نہ تھے صلح اور خدمت گار میں فرق یہ ہوتا ہے کہ اپنی قوم اور معاشرے کی اصلاح کوشش میں جتارہتا ہے اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف عملی جدوجہد کرتا ہے، جب کہ خدمت گار برائیوں سے متاثرہ افراد کی خبر گیری اور دل جوئی کو اپنا مقصد بنائے رکھتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں بہت سے مصلح گزرے ہیں لیکن ان میں ایک دوہی ایسے ہیں، جن کی اصلاحی کوششیں رنگ لائیں اور وہ اپنی قوم اور معاشرے کو سدھارنے میں کامیاب رہے، ان میں سب سے نمایاں نام سرسید احمد خان کا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ساری پستی سے نکالنے کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔ اگر وہ مسلمانوں میں جدید تعلیم کے حصول کا شعور بیدار نہ کرتے تو خدا جانے آج برصغیر کے مسلمانوں کی کیا حالت ہوتی؟ ان ہی کی کوششوں کے نتیجے میں مسلمان اس قابل ہوئے کہ ہندووں اور انگریزوں کا مقابلہ کر سکیں۔ سرسید نے ایک ایک پیسہ جمع کرنے کے لیے سوسو جتن کیے تا کہ ان مشن مکمل کر سکیں۔ دورئہ پنجاب کے موقع پر لاہور میں جب وہ چندہ مانگنے کی مہم پر نکلے تو ایک زندہ دل لاہوری نے فرمائش کی کہ پہلے ناچ کر دکھاو¿، پھر چندہ دوں گا، مولانا الطاف حسین حالی نے لکھا ہے کہ سفید داڑھی والے بوڑھے کو سب کے سامنے ناچنے میں کوئی شرم نہ آئی، وہ بلا تکلف ناچا اور چندہ لے کر ہی ٹلا۔ عبدالستار ایدھی کا حال بھی ایسا ہی تھاوہ کراچی کی سڑکوں پر دامن پھیلاکر چندہ جمع کرتے ، فٹ پاتھوں پر بلا تکلف چادر بچھا کر بیٹھ جاتے۔ لوگ ان کے قدموں میں نوٹوں کے ڈھیر لگا دیتے۔ وہ سرسید ہی کی طرح دھن کے پکے تھے۔ خدمت کے کاموں میں انہیں نہ کوئی شرم تھی، اور نہ کوئی دوسراجذبہ مانع تھا۔ کچھ حلقوں کی مخالف کے باوجود وہ اپنے کاموں میں لگے ر ہے۔ البتہ ایک موقع ایسا بھی آیا، جب ان پر ملک کے خلاف کام کرنے کے لیے دباو¿ ڈالا گیا تو وہ چپ چاپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لندن چلے گئے اور جب سازشی عناصر کی سازش ناکام ہوگئی تو مقتدر حلقوں کی ضمانت پرعزت اور سرخ روئی کے ساتھ وطن واپس آگئے۔
عبدالستار ایدھی پوری عزت، آبرو اور احترام کے ساتھ جیئے اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو اس شان سے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان ان کے جنازے کو سلامی دے رہے تھے۔ گوگل نے ان کے لیے خصوصی آئی کون تخلیق کیا ۔مشہور امریکی جریدے ”نیوز ویک“ نے اپنے مڈل ایسٹ ایڈیشن کے سرورق پران کی تصور دنیا کا عظیم ترین انسانیت نواز کے عنوان کے ساتھ شائع کی۔ فیس بک پر بے شمار افراد نے اپنی پروفائل تصویر کی جگہ عبدالستار ایدھی کے تصور آویزاں کر لی۔ پروفیسر کرار حسین نے ایک مربتہ لکھا تھا۔ سب سے اچھی موت وہ ہے کہ جب آئے تو انسان زندہ ہو جائے ، دیکھئے تو سہی، موت نے عبدالستار ایدھی کو کس طرح زندہ کر دیا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ایدھی فاو¿نڈیشن کے رفاحی کام انہیں زندہ رکھیں گے۔ ان کی یادیں کبھی مٹنے نہیں پائیں گی۔ ان لا تعداد لاوارث بچوں اور بچیوں کی شکل میں باقی رہیں گی، جنہیں انہوں نے پالا پوسا اور معاشرے کا کار آمد فرد بنایا۔ ان بے سہارا اور بے گھر لڑکیوں کی نسل درنسل میں ان کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے گا جن کی انہوں نے شادیاں کیں اور گھر بسایا۔
کون کہتا ہے ایدھی صاحب کا انتقال ہوگیا اور وہ اس دنیا سے چلے گئے !۔
طاہر حبیب

یہ بھی پڑھیں:  کرتار پور راہدی ایک سنگ میل ہے