burhan wani

15سالہ برہان وانی کی شہادت کے بعد 2ماہ تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا رہا

EjazNews

برہان وانی 19ستمبر 1994ءکو مقبوضہ کشمیر کے ایک گاﺅں شریف آباد میں پیدا ہوا ۔ 15سال کی عمر میں قابض فوج کیخلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔ برہان وانی قابض فوج کیخلاف اپنی جدوجہد کا آغاز اس وقت کیا جب اس کے بڑے بھائی کو ایک شہید کر دیا جو کہ اپنے تین دوستوں کے ہمراہ تھا۔ اپنے بے گناہ بھائی کی شہادت کے بعد اس 15سالہ بچے نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مظلوم کشمیریوں کی آواز بن گیا۔ سوشل میڈیا کو برہان وانی نے اپنی آواز بنایا اور اپنی آواز کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی کوشش کی ۔
2016ءمیں اس نوجوان کو شہید کر دیا گیا ۔ اس نوجوان کی شہادت نے نوجوانوں میں بیداری کو جنم دیا کہ قابض فوج سے کوئی محفوظ نہیں اس کے بعد اور بہت سے پڑھے لکھے کشمیریوں کو شہید کیا گیا جو کہ آزادی کی آواز بلند کر رہے تھے۔اس 15سالہ لڑکے کو شہید کرنے کے بعد قابض فوج نے 2ماہ تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا کر رکھا۔ انہی نوجوانوں اور دیگر شہداءکو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔
مزاحمتی قیادت کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق بھارت نے مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کر کے کشمیری نوجوانوں کو طاقت کا جواب دینے پر مجبور کیا ہے۔قیادت کا کہنا ہے کہ تنازعہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں لیکن ہمیشہ کشمیریوں کی آواز کو دبا کر انہیں پشت بہ دیوار کرتا رہا ہے بھارت اور اس کے نتیجے میں یہاں روز نوجوانوں کا لہو بہہ رہا ہے جس کا عالمی برادری کوسنجیدہ نوٹس لینا چاہیے۔
کشمیر کی تاریخ ہے کہ کشمیری پر امن لوگ ہیں ۔ اسی لیے انہیں اپنے نوجوانوں کے مستقبل کی فکر ہے جو سیاسی ماحول کا دائرہ تنگ پاکر میدانوں اور بیابانوں کا رخ کر رہے ہیں جس سے ان کے اہل خانہ کے سمیت پوری قوم رنج و الم کے عالم میں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مکمل طورپر ہڑتال ہے۔ چار اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے جبکہ شاہراہوں پر فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔
۔۔۔
موٹاپے کا شکار نور الحسن لاہور میں انتقال کر گیا
صادق آباد کا رہائشی نور الحسن موٹاپے کا شکار تھا ۔ آرمی چیف کی ذاتی دلچسپی سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے دیوار توڑ کر صادق آباد سے لاہور کے شالیمار ہسپتال میں لایا گیا۔ نور الحسن کا وزن 330کلو تھا اور وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا۔ جہاں پر 3ہفتے تک وہ زیر علاج رہا۔ ڈاکٹر میڈیا کو انٹرویو دیتے رہے اور نور الحسن بیماری سے لڑتا رہا۔ 10روز قبل نور الحسن کا آپریشن کیا گیا ، ڈاکٹرز نے آپریشن کے بعد اس کے معدے کا سائز چھوٹا کر کے آپریشن کوکامیاب قرار دیا تھا۔ آپریشن کے بعد اسے آئی سی یو میں داخل کیا گیا جہاں وہ انتقال کرگیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک خردبینی وائرس گھر میں قید کر کے ساری اکڑ نکال دیتا ہے