haji-uper- photo

حج اور عمرہ میں فرق

EjazNews

عمرہ کو حج اصغر چھوٹا حج کہتے ہیں جو شرطین حج کے لئے ہیں وہی عمرہ کے لئے بھی ہیں اور جو احکام حج کے ہیں وہی عمرے کے بھی ہیں صرف فرق یہ ہے کہ حج کے لئے خاص وقت ہے کہ صرف انھیں وقتوں میں حج ہو سکتا ہے دوسرے وقتوں میں نہیں ہوسکتا اور عمرہ تمام سال ہو سکتا ہے حج میں وقوف عرفہ وقوف مزدلفہ قیام و تبیبت منی و رمی اور نحر ضروری ہے۔ عمرے میں یہ نہیں ہے ۔ عمرے میں طواف شروع کرنے کے وقت لبیک کو موقوف کیا جاتا ہے اور حج میں جمرہ اخری کی رمی شروع کرتے وقت موقوف کیا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم)
عمرہ کے فرائض یہ ہیں
احرام، تلبیہ اور طواف ، سعی اور حلق ضروریا اور فرائض میں سے ہیں۔ یہی افعال عمرہ بھی ہیں۔
رمضان شریف میں عمرہ کرنا بھی افضل ہے۔ کیونکہ رمضان شریف میں عمرہ کرنے سے حج کے برابر ثواب ملتا ہے۔
اقسام حج
حج کی تین قسمیں ہیں۔ (۱)افراد ، (۲) قِران (۳)تمتع
(۱)افراد کے معنی اکیلے کے ہیں اور محاورہ میں اکیلے حج کے احرام باندھنے اور اس کے مناسک ادا کرنے کو افراد کہتے ہیں۔ جس کی یہ صورت ہے کہ تم میقات پر پہنچ کر اکیلے حج کی نیت سے احرام باندھو یعنی عمرہ کی نیت نہ کرو اور مکہ پہنچ کر بیت اللہ شریف کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو۔ آٹھویں ذوالحجہ کو منی جاﺅ اور نویں تاریخ کو عرفان پہنچ کر وقوف عرفہ کرو اور اس کی شام کو مزدلفہ میں آکر رات بھر قیام کرو اور مزدلفہ کے وظیفہ کو ادا کرو اور دسویں کی صبح کو چل کر منیٰ آﺅ اور منیٰ میں قیام کر کے منیٰ کے وظیفہ کو ادا کرو پھر مکہ مکرمہ میں واپس آکر طواف و داع کر کے واپس گھر آجاﺅ۔
(۲)حج قِران کے لغوی معنی دو چیزوں کے ملانے کے ہیں اور اصطلاح میں حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ کر ایک ساتھ حج و عمرہ کرنے کو قِران کہتے ہیں کیونکہ حج اور عمرہ دونوں کو ملا کر ایک ساتھ ادا کیا جاتا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ میقات پر پہنچ کر تم حج اور عمرہ دونوں کی نیت کرکے احرام باندھو اور مکہ میں پہنچ کر طواف اور سعی کرو اور احرام نہ کھولو بلکہ باندھے رہو اورآٹھویں تاریخ کو منیٰ جاﺅ اور باقی کام مثل افراد حج کے ادا کرو۔
وہی قِران کے بھی احکام ہیں۔ حج افراد میں صرف افراد کی نیت ہوتی ہے اور قِران میں عمرہ اور حج دونوں کی نیت ہوتی ہے افراد میں قربانی ضروری نہیں ہے اور قِران میں قربانی ضروی ہے۔ حج قِران اور تمتع مکہ والوں کے لئے جائز نہیں۔
قِران میں ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ قارن تھے ۔ اور آپﷺ نے ایک ہی طواف کیا اور فرمایا:
ترجمہ: جس نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اس کو دونوں طرف سے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے۔
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے قِران کیا اور ایک ہی طواف کیا۔ (ترمذی)
صحابہ کرام اور تابعین عظام قِران میں ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کیا کرتے تھے۔ (المغنی)
حضرت عائشہ ؓ ایک حدیث طویل میں فرماتی ہیں:
ترجمہ: جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو اکٹھا کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
حضرت عائشہ ؓ حجة الوداع میں آپ کے ساتھ۔ قارن تھیں آپ نے انھیں فرمایا تھا:
ترجمہ: تیرا طواف تیرے حج و عمرہ کے لئے کافی ہوگیا۔(مسلم)
حضرت امام احمد بن حنبل ؓ فرماتے ہیں کہ قِران کرنے والے کے لئے وہی احکام لازم ہیں جو مفروکے لئے لازم ہیں او ر قارن کو حج و عمرہ کا ایک ہی طواف و سعی کافی ہے۔ (المغنی)
قارِن پر دم قربانی ضروری ہے اور یہ قربانی شکریہ کے طور پر نہیں ۔ قارن اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے اور منیٰ میں دسویں تاریخ کو ذبح کر دے اور جو قربانی کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ دس روزے رکھے تین حج سے پہلے اور سات حج کے بعد۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
ترجمہ: جس نے حج و عمرہ کے ساتھ فائدہ اٹھایا تو جو قربانی اس کے لئے آسان ہو وہ کر ڈالے اور جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتا ہے تو وہ تین روزے حج سے پہلے اور سات حج کے بعد رکھے یہ پورے دس ہو گئے۔(البقرہ )
قِران سب کےلئے نہیںبلکہ صرف آفاقی غیر مکی کے لئے ہے مکہ کے باشندوں کے لئے نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ، یہ قِران و تمتع مسجد حرام کے باشندوں (مکہ والوں) کے لئے نہیں ہے۔
(۳) تمتع کے معنی نفع اٹھانے کے ہیں اور اس کے شرعی معنی یہ ہیں کہ تم میقات پر پہنچ کرصرف عمرے کا احرام باندھو اور مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرے کے افعال ادا کرکے حلال ہو جاﺅ پھرآٹھویں تاریخ کو حج کااحرام باندھو اور حج افراد کی طرح سب مناسک حج ادا کرو ۔ تمتع کے معنی چونکہ فائدہ اٹھانے کے ہیں۔ عمرہ اور حج کے درمیان حلال ہو کر تم وہ فائدہ اٹھا سکتے ہو جو قارِن نہیں اٹھا سکتا کیونکہ قارِن عمرہ ادا کرنے کے بعد محرم ہی رہتا ہے اور متمتع عمرہ کے بعد حلال ہو جاتا ہے اور احرام کی حالت میں جن حلال چیزوں کے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ گیا تھا اب عمرہ کے بعد وہ سب چیزوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تمتع میں پہلے عمرہ ادا کیا جاتا ہے ۔ بعد میں حج کیاجاتا ہے تمتع کرنے والے پر قربانی ضروری ہے۔ عدم استطاعت میں دس روزے قارِن کی طرح رکھے

یہ بھی پڑھیں:  سعی کے مسائل