maryam

ویڈیو ثبوتوں کے بعد نواز شریف کو جیل میں رکھنا سرسرا زیادتی ہو:مریم نواز

EjazNews

یہ پریس کانفرنس انہوں نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پارٹی کی اعلیٰ قیاد کے ہمراہ کی ۔ مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف کو مفروضوں پر مبنی الزامات کی روشنی میں نشانہ بنایا گیا، میاں صاحب نے اپنے خلاف عائد تمام مقدمات کی رسیدیں بھی دیں، ثبوت بھی دیئے، بار بار عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا لیکن ہر بار ایک نئے کیس میں تین بار کے منتخب وزیراعظم کو سزا سنا دی گئی۔ان کا کہنا تھا سزا دینے والا خود بول اٹھا کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، یہ احتساب نہیں انتقام تھا اور نواز شریف اسے جانتے تھے لیکن اس کے باوجود اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر وطن واپس آگئے۔
مریم نواز نے نواز شریف کے مبینہ ثبوت کی ویڈیو چلاتے ہوئے بتایا کہ العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ سنانے والے احتساب عدالت کے جج نے ن لیگ کے ناصر بٹ نامی کارکن کو گھر بلا کر نواز شریف کے خلاف کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ان کا کہناتھا نواز شریف نے اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا اور پھر غیبی امداد آئی، احتساب عدالت کے جج نے تسلیم کیا کہ انہوں نے فیصلہ خود نہیں کیا بلکہ ان سے فیصلہ کروایا گیا ہے۔ ناقابل تردید ثبوت نے سچ سے پردہ اٹھا دیا ہے، یہ وہی جج ہے جس نے نواز شریف کو سزا سنائی تھی اور جس کے فیصلے کی روشنی میں عوام کے منتخب وزیراعظم آج کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ثبوتوں کے بعد نواز شریف کو ایک منٹ بھی جیل میں رکھنا سراسر زیادتی ہو گی۔ اگر کسی نے بھی کسی قسم کی شرارت کرنے کی کوشش کی تو میرے پاس اس سے بھی بڑے ثبوت موجود ہیں، میری کسی ادارے سے کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن میں اس وقت کسی کا بھی نام نہیں لینا چاہتی۔
ان کا مزید کہنا تھا آج پوری دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ امپائر کے ساتھ مل کر کون کھیلتا رہا، سب کچھ پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا مگر سلیکٹڈ اور نااہل ہونے کی وجہ سے نالائق اعظم سے ملک نہیں چل رہا۔ انہیں سلیکٹڈ نہ کہا جائے، اگر سلیکٹڈ کو سلیکٹڈ نہ کہیں تو پھر کیا کہیں، نالائق اعظم کو تاریخ ہمیشہ سلیکٹڈ اور سازشی کے طور پر یاد رکھے گی۔ عمران خان بڑے زعم سے کہتا ہے کہ ادارے اس کے پیچھے کھڑے ہیں، سلیکٹڈ وزیراعظم اداروں کی بیساکھیاں چھوڑ کر عوام کے میدان میں آئیں تو ایک دن کیا ایک منٹ کھڑے نہیں رہ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  کابینہ نے زیادتی کیس کی تحقیقات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانے کا فیصلہ کیا