madad tamayo museum

جس نے مادام تسائو میوزیم نہیں دیکھا، اُس نے لندن نہیں دیکھا

EjazNews

برطانیہ اپنے زرمبادلہ کا کثیر حصّہ تعلیمی اداروں اور سیاحت سے حاصل کرتا ہے ، اس کا دار الحکومت، لندن دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ سیاحوں کو لندن میں واقع ماربل آرچ، ہائیڈ پارک، لندن میوزیم، بگ بین، لندن آئی، لندن بِرج، پارلیمنٹ ہائوس، ٹرافیلگر اسکوائر اور بکنگھم پیلس جیسے اہم مراکز کی سیر ڈبل ڈیکر بسز میں کروائی جاتی ہے، جس کے دوران گائیڈز مختلف زبانوں میں ان مقامات کی تاریخی حیثیت سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی سیاح کسی تاریخی مقام کا تفصیلی وزٹ کرنا چاہے، تو وہ بس سے اُتر بھی سکتا ہے اور پھر دوبارہ اُسی ٹکٹ پر سیاحوں کے لیے وقف بس کے ذریعے اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ لندن میں واقع ان تاریخی مقامات میں’’ مادام تسائو میوزیم‘‘ سیاحوں کے لیے بے حد کشش کا باعث ہے کہ اس کے باہر اُن کی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں۔ اس میوزیم میں ہر رنگ و نسل اور ملک سے تعلق رکھنے والے چھے سو سے زائد نامور سیاست دانوں، اداکاروں، کھلاڑیوں اور دیگر افراد کے مومی مجسمے رکھے گئے ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں، جنہوں نے اپنے دور میں بُرے یا اچھے کردار ادا کیے۔ اس میوزیم میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، نئی شخصیات کے مجسمے بنتے اور بعض پرانے مجسمے ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ مومی میوزیم میں سب سے پُرکشش خوف کا وہ کمرا ہے، جس میں انقلاب فرانس سے متاثرہ افراد، بدنام قاتلوں اور مجرموں کے مجسمے اور مختلف جرائم میں استعمال ہونے والی اشیا کے ماڈل رکھے گئے ہیں۔ اس گیلری میں پہلے تقریباً 400 مجسمے تھے، لیکن 1925 ء کی آتشزدگی اور1941ء میں ہونے والی جرمن بمباری کی وجہ سے میوزیم کو شدید نقصان پہنچا، تو بیش تر مجسمے ختم ہو گئے، تاہم مجسموں کے سانچے محفوظ رہے اور تساؤ کے ہاتھ سے بنے کچھ مجسمے بھی بچ گئے۔ بعد میں ان تاریخی فن پاروں کو دوبارہ تخلیق کیا گیا۔1842 ء میں تساؤ نے اپنا مجسمہ بھی بنایا جو میوزیم کے داخلی دروازے پر نصب ہے۔ وہ 16 اپریل 1850 ء میں 88سال کی عُمر میں نیند کی حالت میں وفات پا گئیں، مادام تسائو کی وفات کے بعد مومی مجسمے کا فن مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے۔ جو شخص پہلی بار اس عجائب گھر میں جاتا ہے، خود حیرت کا مجسمہ بن جاتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ’’ جس نے مادام تسائو میوزیم نہیں دیکھا، اُس نے لندن نہیں دیکھا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ کے خوبصورت مقامات میں شامل ہنہ جھیل

مجسمہ سازی کا فن اس قدر قدیم ہے کہ اس کے آغاز کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ تاہم،اس فن میں میری تسائو نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ تسائو نے یہ فن، ڈاکٹر فیلپ کرٹیئس سے سیکھا اور پھر بدلتے وقت کے ساتھ اس میں جدت پیدا کی۔ اینا ماریہ (مادام تسائو) کے والد، جرمن فوج کے سپاہی تھے اور جنگ کے دَوران اُن کی ہلاکت کے 2ماہ بعد یکم دسمبر 1761ء کو اینا ماریہ، اسٹراس برگ، فرانس میں پیدا ہوئیں۔ والدہ اُنھیں لے کر سوئٹزر لینڈ کے شہر، برن میں ڈاکٹر فیلپ کرٹیئس کے گھر چلی گئیں، جہاں اُنھیں ملازمت ملی تھی۔ ڈاکٹر فیلپ 1765ء میں اپنے مومی مجسموں کی نمائش کے سلسلے میں پیرس گئے، تو تسائو کی والدہ بھی بیٹی کے ساتھ دوبارہ پیرس منتقل ہو گئیں۔ ڈاکٹر فیلپ نے، جو ایک ماہر موم تراش تھے، تساؤ کو مومی مجسمہ سازی کا فن سکھایا۔ تسائو بچپن میں اُنھیں مجسمہ بناتے دیکھتیں اور بچّوں کی طرح نقل کرتے ہوئے اپنے انداز سے کھلونے وغیرہ بناتی رہتیں۔ پھر عُمر کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے اس فن میں مہارت حاصل کر لی اور 1777ء میں پہلا مجسمہ فرانسیسی مصنّف، والٹیئرکا بنایا۔ بعدازاں، روسو، بنجمن فرینکلن سمیت اُس وقت کے کئی معروف افراد اور انقلاب فرانس کی بھینٹ چڑھنے والے نمایاں لوگوں کے مجسمے بھی بنائے۔ ڈاکٹر فیلپ کرٹیئس 1794ء میں وفات پا گئے، تو اُن کے بنائے ہوئے مجسمے بھی تسائو کو وراثت میں ملے، جنہیں لے کر وہ اگلے 33برس تک یورپ میں سفر کرتی رہیں۔ 1795ء میں اُن کی شادی، فرینکو تسائو سے، جو پیشے کے اعتبار سے سِول انجینئر تھےسےہوئی۔ مادام تسائو کی پہلی بیٹی پیدائش کے بعد وفات پا گئی، بعد میں اُن کے ہاں دو بیٹوں، جوزف اور فرانسس کی پیدائش ہوئی۔ 1800ء میں خاوند وفات پا گئے، تو وہ بچّوں کو لے کر فرانس سے لندن چلی گئیں اور پھر جنگ کے باعث واپس نہ آ سکیں۔ وہاں اُنھوں نے مختلف شہروں میں اپنے بنائے ہوئے مومی مجسموں کی نمائش کی۔ بعدازاں، لندن میں پہلی مرتبہ مومی مجسموں کی مستقل نمائش کے لیے بیکر اسٹریٹ کو، جہاں ان دنوں مادام تسائو میوزیم ہے منتخب کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ نے کویت دیکھا ہے، نہیں تو، ہم دکھاتے ہیں
اس وقت دنیا کے8مختلف شہروں میں اس میوزیم کی شاخیں کھل چکی ہیں

1883 ء میں اُن کے پوتے،جوزف رینڈل نے میوزیم کی موجودہ عمارت خرید لی اور نمائش کے لیے نئی گیلریاں بھی کھولیں۔ اس وقت دنیا کے 8مختلف شہروں میں مادام تسائو میوزیم کی شاخی کُھل چُکی ہیں، مگر جو مقام لندن کے’’ مادام تسائو میوزیم‘‘ کو حاصل ہے، وہ کسی اور کو نہیں۔ وراثت کے دعوے داروں کے باہمی لڑائی جھگڑوں کے باعث مادام تساؤ میوزیم تنازعات کا بھی شکار رہا۔ آخر کار 1889ء میں اسے ایڈون پوائزر اور دیگر کاروباری لوگوں کے ایک گروپ کو بیچ دیا گیا۔ مادام تساؤ عجائب گھر اب ایک تفریحی کمپنی ’’مرلن انٹرٹینمنٹ‘‘ کی ملکیت ہے،جس نے اسے مئی 2007ء میں خریدا تھا۔تسائو کے مرنے کے بعد جن مجسمہ سازوں نے اپنے فن کا سکّہ جمایا، اُنہوں نے تسائو کے کام کی بے حد تعریف کی۔ اُن کے بقول اُس دَور میں موم کے مجسمے انتہائی مہارت کے ساتھ تیار کرنا ناقابلِ یقین بات لگتی ہے، لیکن تسائو نے خداداد صلاحیتوں کے باعث اپنا نام ہمیشہ کے لیے اَمر کر دیا۔ تسائو کا تعلق اگرچہ فرانس سے تھا، لیکن برطانوی عوام آج بھی اُن پر فخر کرتے ہیں کہ اُنھوں نے برطانیہ ہی میں اپنے فن کے چراغ جلائے۔
این مرزا

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا، دنیا میں انسان کا پہلا مسکن