bilwal-1

آج ملک میں جو ہو رہا ہے وہ جمہوریت نہیں ہے: بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

5جولائی کوضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کر کے ملک میں مارشل لاء لگا دیا تھا۔اس مارشل لاء کی مناسبت سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے ضیاء اور مشرف کی آمریت کا مقابلہ کیا، پھر کسی آمر کا مقابلہ کرنا ہوا تو آج وہ سیاہ دن ہے، جب جنرل ضیاء نے پہلے منتخب وزیراعظم کو حکومت سے نکال کر گرفتار کیا اور اپنی آمریت قائم کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم سلیکٹ بننے کے لیے کیا کیا قربانیاں دینی پڑی ہیں، پالیسیوں کی بجائے ذاتیات پر فوکس کیا ،لیکن اس حکومت سے جو امیدیں تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں، جو آج ملک میں جو ہورہا ہے وہ جمہوریت نہیں ہے اور ہم آگے نہیں بلکہ پیچھے جارہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری پشاور میں

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا 1973 کے آئین اور 18ویں ترمیم پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں، اس ترمیم کو ختم کرنے کے لیے سازشیں کی جارہی ہیں لیکن ہم اپنے نظریاتی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کا حل مضبوط جمہوریت میں ہے لیکن وزیراعظم میں اہلیت اور صلاحیت نہیں ہے کہ یہ ملک چلاسکیں اور سیاست کرسکیں اور نئی نسل کے لیے ماڈل بنیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبائلی اضلاع کا بجٹ 500 گنا بڑھایا تھا، سی پیک کو پختونخوا اور قبائلی اضلاع سے گزارنا تھا وہ قدم اب نہیں اٹھایا جارہا۔قبل ازیں پشاور میں کارکنوں سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کارکن میرے کان، میری آنکھ اور میرے بازو بنیں اور سازش ناکام بنائیں۔انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو شہید کا مشن مکمل کریں گے، پاکستان کو قائد عوام اور شہید رانی کا جمہوری پاکستان بنا کر رہیں گے، 1973کے آئین پر آنچ آنے نہیں دیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی جب اقتدار میں ہوتی ہے تو جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حکومت متاثرین کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی:وزیراعظم