Imran khan ahsas prog

30سال تک حکمرانی کرنے والوں نے ایک ہسپتال ایسا نہیں بنایا جہاں ان کا علاج ہو سکے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

اسلام آباد میں ’’احساس ‘‘ کے تحت غربت مٹاؤ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غربت کے خاتمے کا پروگرام لارہے ہیں،اس میں ہر وزارت کا کوئی نہ کوئی کردار ہوگا۔کمزور طبقے کو اوپر آنے کاموقع دیا جائے گا، 60 فیصد پاکستانی 30 برس کی عمر سے کم ہیں،نوجوانوں کو ہنر سکھادیں تو یہی آبادی ہماری طاقت بنے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں 18 برس کا تھا جب پہلی مرتبہ برطانیہ گیا ،اگر میں وہاں نہ جاتا تو مجھے یہ پتہ ہی نہ چلتا کہ فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے،انسانیت کیا ہوتی ہے۔انسانوں کا معاشرہ کیا ہوتا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن جو انسانیت اور انصاف یہاں ہونا چاہیے تو وہ مجھے وہاں نظر آیا۔وہاں انسان کی قدر ہے حتیٰ کہ وہاں کے جانوروں کی قدر بھی ہمارے یہاں انسانو ں سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا جب میں پڑھتا تو اس وقت میں نے زیادہ تر برطانیہ کی تاریخ ہی پڑھی تھی اپنی تاریخ نہیں پڑھی لیکن جب میں نے اپنی تاریخ پڑھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ ریاست مدینہ کی خوبیاں تھیں، جو دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی۔ریاست مدینہ میں غریبوں کا احساس تھا، وسائل نہیں تھے لیکن کمزور طبقے کا احساس تھا، ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ دین کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔وہ بتاتے ہی نہیں ہیں کہ ریاست مدینہ میں انسانوں کے کیا حقوق تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا یہاں جو بھی بیمار ہوتا ہے لندن کا رخ کرتا ہے۔ تیس سال تک حکمرانی کرنے والوں نے ایک ہسپتال ایسا نہیں بنایا جہاں پر ان کا علاج ہو سکے۔ہمارے ملک میں ہیپاٹائٹس خطرناک حد تک بڑھا ہوا ہے اور دوسری طرف حکمران اپنے علا ج باہر کروا رہے ہیں۔ موٹروے بنانے سے قومیں نہیں بنتیں۔ بلکہ قومیں بنتی ہیں ان کی تربیت کرنے سے۔ سابق حکمران صرف ترقی کے دعوے کرتے تھے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم بلا سود قرضے دے رہے ہیں ۔ ہم اس احساس پروگرام میں وہ سارے پیسے دیں گے جو بے نامی جائیدادوں سے حاصل ہوں گے۔ اور مجھے لگ رہا ہے کہ یہ اتنا پیسہ ہوگا جو ہمارے نیشنل بجٹ سے بھی بڑھ جائے گا۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہماری قوم سب سے زیادہ خیرات دیتی ہے لیکن اس کے برعکس سب سے کم ٹیکس دیتی ہے۔ اس کی وجہ ہے ان کو پتہ ہے کہ یہ ٹیکس ان پر نہیں لگتے لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ میں اسی قوم سے سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھے کر کے واپس اپنی قوم پر لگائو گا اور جب قوم کو احساس ہوگا کہ یہ پیسہ ان پر خرچ ہو رہاہے تو وہ اور ٹیکس دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  مولانا فضل الرحمن کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی اب کیا ہوگا؟