ahram misar

فرعون موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے آگاہ تھے

EjazNews

گیسز، فضائی آلودگی، آبی فراہمی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا دنیا کو آج پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ فرعون مصر کے زمانے میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ فرعون اپنے زمانے میں ڈین اور گیسز کے منفی اثرات سے آگاہ تھے۔ سائنس نے اتنی ترقی تو نہ کی تھی مگر سائنس دان عالمی درجہ حرارت سے بچاﺅ کے لیے کئی محاذوں پر لڑ رہے تھے آج اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کی بجائے اس میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے لیکن 1250قبل از مسیح میں حالات بالکل مختلف تھے مصر کے فرعون موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا زائل کرنے کے لیے سائنس دانوں سے مکمل رابطے میں تھے۔ زمانہ قدیم میں فرعونوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی تھی اس کا ثبوت کاسی کے زمانے میں ملنے والی دریافتوں سے ملا ہے ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق کانسی کے زمانے کی متعدد اشیاءسے پتہ چلا کہ فران مصر کاسی کی چیزوں کو ڈھالنے سے پیدا شدہ آلودگی کے اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے انہیں خشک سالی، قحط، جنگ اور بڑے پیمانے پر ہجرت جیسے مسائل کا سامنا تھا۔قحط سالی اور خشک سالی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ تھی ہجرت بھی لوگوں نے اسی وجہ سے کی۔ غیر ملکی جریدے کے مطابق 12ویں اور 13ویں صدی میں فرعونوں کی نسلوں نے قدیم مصر میں زرعی پیداوار میں اضافے اور خشک سالی کا شکار خطوں میں اضافی اجناب بھجوانے کے لیے خصوصی ہدایات دے رکھی تھیں۔ جس زمین پر آج اسرائیل قائم ہے یہ سرزمین دراصل فرعونوں کی تھی اور تاریخی اور روایتی طور پر مصر کا حصہ تھی۔ اب بھی اسے مصر کی اکائی کا حصہ ہی مانا جاتا ہے۔دنیا نے ایک لکیر کھینچ دی تو کیا ہوا۔مصر کے فرعونوں نے اضافی پیداوار اپنے خشک سالی کا شکار خطوں کو بھجوانے کی ہدایت کی تھی یہ خطے آج لبنان، شام اور اردن کہلاتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف چند سال پہلے ہونے والی ایک تحقیق سے ہوا یونیورسٹی کے محققین اور آثار قدیمہ کے ماہرین نے کچھ ایسے دودھ دینے والے جانوروں کا حساب لگایا جو موسمیاتی سرگرمیوں کو جھیلنے کی وجہ سے ناپید ہو گئے تھے۔ گھائے بھینسوں کی ہڈیوں کے علاوہ بھیڑ بکریوں کی باقیات بھی دریافت ہوئیں۔کچھ گائیوں کی نسلیں انڈیا النسل تھیں۔ پاکستان برصغیر پاک و ہند میں پائے جانے والی گائیں بھینسیں گرمی کی شدت ، موسمی سختی خشک سالی اورکیڑے مکوڑے کیخلاف دوسرے ممالک کی مویشیوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ مزاحمت رکھتے ہیں غالباً فرعونوں نے منگوائے ہوئے ہوں گے ورنہ انہیں ان کے مرنے کا اندیشہ تھا۔لوہے کا زمانہ آیا مگر فرعون مصر کی یہ کوششیں جاری رہیں جس سے ان کی ذہنی فراست اور حکمت کا پتہ چلتا ہے آج ہم اس ترقی یافتہ زمانے میں تھر اور تھل کے مکینوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہیں۔ لیکن اس زمانے میں جب دنیا میں کسی قسم کی سہولتیں موجود نہ تھیں تب بھی مصر کے فرعونوں نے اپنے لوگوں کو بھوک سے بچانے کا کیا خوب انتظام کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  7سوانسانی قیدیوں میں ایک جانور قیدی