hajj2019

رسول اللہﷺ کا حج

EjazNews

حج کا دستور قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ فرشتوں اور سب نبیوں اور رسولوں نے حج کیا۔ جاہلیت کے زمانہ میں کفار و مشرکین اپنے دستور کے مطابق حج کیا کرتے تھے۔ترمذی کی حدیث غریب سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین حج کئے ہیں۔ دو ہجرت سے پہلے اور ایک ہجرت کے بعد (زادالمعاد) اور چارعمرہ ادا فرمائے ہیں۔ (۱)پہلا عمرہ 6ہجری عمرہ حدیبیہ ہے۔ جس کے ادا کرنے سے مشرکین مکہ نے روک دیا تھا اورآئندہ کے لئے صلح کر لی تھی۔ آپ حلال ہو گئے تھے۔ (۲) دوسرا عمرہ عمرہ قضا ہے جو حدیبیہ کی صلح کے بعد 7ہجری میں ادا فرمایا۔(۳)تیسرا عمرہ عمرہ جعرانہ ہے جو طائف سے واپسی کے بعد غزوئہ حنین کے مال غنیمت کے تقسیم کے بعد 8ہجری میں ادا فرمایا تھا۔ (۴)چوتھا عمرہ حجة الوداع کے ساتھ ادا فرمایا۔ وداع کے معنی رخصت کے ہیں اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کا یہ آخری حج تھا اور اس حج میں آپ سے بعض ایسے واقعات ظاہر ہو گئے تھے جیسے کسی رخصت کرنے والے کے ہوتے ہیں اس لئے اس حج کو حجة الوداع کہتے ہیں یعنی رخصت کا حج آپ نے اس حج میں سب کو رخصت فرما دیا۔ ہجرت کے بعد آپ نے ایک حج کیا ہے اور اس میں حج کے پورے مناسک کی تعلیم فرمائی ہے اور بار بار فرماتے رہے خخذو اعنی مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو۔ ممکن ہے آئندہ ملاقات نہ ہو سکے۔ اس لئے اس حج کی بڑی اہمیت ہے۔ ذیل میں زادالمعاد اور حدیث کی دیگر معتبر کتابوں سے حج نبوی کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے 9ہجری میں حضرت ابوبکر ؓ کو امیر الحج بنا کر مکہ مکرمہ روانہ فرمایا تھا اور انہوں نے سب حاجیوں کو حج کرایا اور اعلان کرادیا کہ آئندہ سے کوئی مشرک نہ حج کر سکتا ہے اور نہ کوئی برہنہ طواف کر سکتا ہے۔
10ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے حج کا ارادہ فرمایا اور مدینہ منورہ کے اطراف و جوانب میں اس کی اطلاع فرمائی گئی کہ رسول اللہ ﷺ اس سال حج کو تشریف لے جائیں گے۔ اس خبر پر صحابہ کرام ؓ کی بڑی جماعت مدینہ منورہ میں آپ کی رفاقت کی غرض سے جمع ہو گئی اور ایک بڑی تعداد راستہ میں ہمرکاب ہوئی اورکچھ صحابہ کرام ؓ سیدھے مکہ مکرمہ پہنچ گئے ان سب کی مجموعی تعداد حسب بیان لمعات حاشیہ ابو داﺅد ایک لاکھ چوبیس ہزارتھی۔
رسول اللہ ﷺ نے روانگی سے پہلے مدینہ منورہ میں ایک خطبہ دیا جس میں صحابہ کرام ؓ کو حج کی اہمیت اور حج کے طریقے بتائے۔ (زاد المعاد)
25ذوالقعد 10ہجری کو مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر جو مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے اور مدینہ والوں کی میقات ہے عصر کی نماز قصر ادا فرمائی اور رات کو یہیں قیام فرمایا۔ ازدواج مطہرات سے جو آپ کی رفاقت میں تھیں ، ہمبستر ہو کر غسل فرمایا۔ دوسرے دن ذوالحلیفہ میں ظہر کے وقت احرام کے لئے غسل فرمایا اور سر مبارک کو خطمی سے دھویا اور تیل لگا کر خوشبو لگائی اور احرام کا لباس زیب تن فرمایا۔ ظہر کی دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد حج و عمرہ کا احرام باندھا اور یہ تلبیہ پڑھا۔
ترجمہ: میں حاضر ہوں، خدایا ، میں حاضر ہوں، الٰہی میں تیری خدمت کے لئے حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں سب تعریف تیرے لئے ہے اور انعام تیرا ہی ہے اور سارا ملک بلا شرکت غیرے تیرا ہی ہے۔
پھر آپ نے صحابہ کرام ؓ کو اختیار دیا کہ جس کادل چاہے افراد کا احرام باندھے جس کا دل چاہے تمتع کرے جس کا دل چاہے قِران کا احرام باندھے ۔ آپ نے قِران کا احرام باندھا تھا جیسا کہ زادالمعاد سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رات ہی کو تشریف لا کر یہ فرما دیا تھا کہ یہ وادی عقیق مبارک وادی ہے۔ آپ اس میں نماز پڑھیں اور حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھیں ۔ اس کے بعد مسجد سے باہر تشریف لائے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور زور زور سے ”لبیک لبیک “ پڑھا۔ چونکہ مسجد کی آواز قریب کے آدمیوں نے سنی تھی اوری ہاں مسجد سے باہر اونٹنی پر تشریف رکھنے کے بعد دور تک آواز گئی۔ اس لئے بہت سے حضرات نے یہ سمجھا کہ اسی وقت آپ نے احرام باندھا اس کے بعد آپ بیداءپہاڑی پرپہنچے اور وہاں زور سے ”لبیک“ پڑھا جس کی آواز پہاڑی کے بلند ہونے کی وجہ سے دور تک گئی۔ بعض دیگر صحابہ کرام ؓ نے یہ خیال کیا کہ آپ نے یہیں سے احرام باندھا ہے آپ تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے اور تلبیہ زور زورپڑھتے ہوئے تشریف لے چلے اور صحابہ کرام ؓ سے فرمایا: تم بھی تلبیہ زور زور سے پڑھتے چلو۔ مجھے حضرت جبریل علیہ السلام نے حکم دیا ہے کہ میں خود زور سے پڑھوں اور تم کوب ھی زور سے پڑھنے کا حکم دوں۔ جب روحاءوادی پر پہنچے تو وہاں نماز پڑھی اور فرمایا : اس جگہ ستر نبیوں نے نماز پڑھی ہے۔ آپ کا اور حضرت ابوبکر ؓ کا سامان ایک ہی اونٹ پر لدا ہوا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس اونٹ کو اپنے غلام کے حوالہ کر دیا تھا ۔ وادی عرج میں بہت دیر تک اس اونٹ کا انتظار کرتے رہے دیر کے بعد غلام آیا اور کہا اونٹ گم ہوگیا ہے حضرت ابوبکر ؓ نے اس غلام کو تادیباً مارا آپ نے تبسم فرماکر فرمایا: دیکھو محرم کیا کام کر رہا ہے۔ بعد میں وہ اونٹ مل گیا۔ ابو امین حضرت صعب بن جثامہ ؓ نے حمار وحشی کا گوشت ہدیہ پیش کیا جسے محرم ہونے کی وجہ سے واپس فرمادیا۔
وادی عفان میں حضرت سراقہ نے حج کا طریقہ دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا اور حضرت صالح وغیرہ کے حج کو یاد فرمایا مقام سرف میں حضرت عائشہ ؓ کو حیض آگیا۔ یہ بہت پریشان ہوئیں۔ رونے لگیں۔ آپ نے ان کوت سلی دی اور صحابہ کرام کو حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی کے جانور نہ ہوں حلال ہو کر عمرہ کا احرام باندھیں جب وادی ازرق میں پہنچے تو آپ نے فرمایا: اس وقت میرے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حج کا وہ منظر ہے کہ وہ اس راستہ سے گزر رہے تھے اور دونوں کانوں میں انگلیاں دے کر زور زور سے لبیک پکار رہے تھے۔ اس کے بعد جب آپ مقام ذی طوی میں پہنچے جو مکہ مکرمہ کے بالکل قریب ہے تو حرم محترم کے احترام میں وہاں شب کو قیام فرمایا۔ صبح کو نماز فجر ادا فرمائی اور دخول مکہ کے لئے غسل فرمایا۔ سوار پر سوار ہو کر حرم کعبہ کی جانب روانہ ہوئے اور ذوالحجہ یکشنبہ کو چاشت کے وقت کدا اور معلات سے گزر کر حرم محترم پر پہنچے ۔ باب بنی شیبہ سے حرم میں داخل ہوئے۔ جب بیت اللہ پر نظر پڑی تو یہ دعا پڑھی:
ترجمہ: خدایا تو اس گھر کی شرافت و عزت و عظمت و کرامت و ہیبت میں زیادتی عطا فرما اور جو حج و عمرہ کرنے والوں میں سے ہوں اس گھر کی تعظیم و عزت کرے اس کی شرافت و بزرگی اور عزت و عظمت کو بڑھا دے۔
پھر بغیر تحیة المسجد پڑھے سیدھے بیت اللہ کے پاس تشریف لائے اور حجر اسود کا استلام بسم اللہ کہہ کر کیا اور طواف شروع کیا۔ اور دونوں رُکنوں کے درمیان ”ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة و قنا عذاب النار (البقرہ) ۔ پڑھا ۔ پہلے تین شوط میں رمل کیا اور باقی پھیروں میں نہیں۔ ہر شوط میں دونو ں رکن یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کیا۔ جب پورے سات پھیرے ہو چکے تو مقام ابراہیم پر تشریف لائے اور آیت تلاوت فرمائی اور مقام ابراہیم کے پیچھے طواف کی دو رکعت نماز پڑھی۔ پہلی رکعت میں سورئہ فاتحہ اور قل یا ایھا الکفرون اور دوسر ی رکعت میں سورئہ فاتحہ اورقل ھو اللہ پڑھی ۔ نماز سے فارغ ہو کرپھر حجر اسود کے پاس آکر اس کا استلام کیا اور کوہ صفا کی جانب روانہ ہوئے جب صفا کےق ریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی:
ترجمہ: یقینا صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (البقرہ)
پھر آپ نے فرمایا ”ابدابما بد ءاللہ “ جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے میں بھی اسی سے شروع کرتا ہوں۔ صفا سے ابتدا کی اور اس پر اس قدر چڑھے کہ بیت اللہ شریف نظر آنے لگا۔ بہت دیر تک تکبیر و تحمید اور دُعا کرتے رہے اور قبلہ رخ ہو کر یہ دعا پڑھی:
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اسی کے لئے تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس نے اپناوعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا کافروں کے لشکر کو شکست دی۔
اسی طرح سے تین دفعہ کہا، پھر صفا سے اتر کر مروہ کی جانب تشریف لے چلے اور ذکر و اذکار اور دعا میں مصروف رہے اور یہ دعا پڑھتے تھے:
ترجمہ: اے میرے رب تو مغفرت فرما دے اور رحم کر تو بڑی عزت والا اوربڑا کرم والا ہے۔
جب وادی میں پہنچے تو رمل فرمائی یعنی دوڑ کر چلے۔ پھر وادی سے نکل کر آہستہ چلے اور مروہ پہنچے۔ مروہ پر اس قدر چڑھے کہ بیت اللہ نظر آنے لگا جو دُعا صفا پر پڑھی تھی مروہ پر بھی پڑھی۔ اسی طرح سات پھیرے کئے اور ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہوا۔
سعی سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ احرام نہ کھولیں اور جن کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو ہ حلال ہو جائیں۔
آپ اور دیگر صحابہ کرام ؓ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے اپنے احرام پر قائم رہے اس کے بعد اپنے رفقاءکے ساتھ مقام البطح میں قیام گاہ پر تشریف لے گئے اور اتوار کا بقیہ دن اور پیر ، منگل، بدھ مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا۔
8ذوالحجہ جمعرات کے دن آپ نے نماز فجر ادا فرمائی اور خطبہ دیا جس میں حج کے مناسک کی تعلیم فرمائی۔ پھر سوار ہو کر منیٰ کی جانب روانہ ہوئے اور صحابہ کرام ؓ بھی آپ کے ساتھ چلے۔ منیٰ میں پہنچ کر ظہر کی نماز ادا فرمائی اور رات کو یہیں قیام فرمایا۔ پانچ نمازیں یہیں منیٰ میں پڑھی اور سورئہ والمرسلات اسی رات میں نازل ہوئی تو ذوالحجہ یوم جمعہ فجر کی نماز منی میں پڑھی اور جب آفتاب اچھی طرح نکل آیا تو عرفات کی جانب روانہ ہوئے اور مقام نمرہ میں اپناخیمہ میں تھوڑی دیر قیام کیا۔ زوال کے بعد قصوا اونٹنی پر سوار ہوکر بطن عرنہ میں جو وہیں قریب ہے تشریف لے گئے اور اونٹنی پر قیام فرمایا۔ ایک فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا۔ جس میں اسلام کے اصول اور قواعد کو تلقین فرمایا اور کفرو شرک اور تمام رسومات جاہلیت کو ملیا میٹ اور ہمیشہ کے لئے ختم فرما دیا اور تمام ذمہ داریوں کی جانب مخلوق کو متوجہ فرمایا۔ اس خطبہ کو آگے چل کر ہم انشاءاللہ بیان کریں گے۔
حضرت بلا لؓ کو اذان دینے کو فرمایا۔ حضرت بلال ؓ نے اذا دی اور اقامت کہی آپ نے دونوں نمازیں ظہر و عصر کی ظہر کے وقت میں ایک ساتھ پڑھیں نماز کے بعد اونٹنی پر سوار ہو کر عرفات کے میدان میں تشریف لے گئے۔ جو حج کا موقف ہے اور جبل رحمت کے دامن میں جہاں بڑے بڑے سیاہ پتھر پڑے ہیں۔ قبلہ رخ کھڑے ہو کر ذکر الٰہی میں مشغول رہے اور برابر غروب آفتاب تک یاد خدا میں مصروف رہے۔ اسی دوران میں حضرت ام فضل رضی اللہعنہا نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آپ کا روزہ ہے یا نہیں ایک دودھ کا پیالہ بھیجا جس کو آپ نے اونٹنی پر سارے مجمع کے سامنے الئے نوش فرمایا تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ روزہ نہیں ہے۔ اسی دوران میں ایک صحابی اونٹ سے گر کر مرگ ئے تھے آپ نے فرمایا ان کو ان کے احرام کے کپڑوں میں ہی کفن دو۔ یہ قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اٹھیں گے۔ بعض نجدیوں نے حج کا مسئلہ دریافت کیا کہ حج کیا ہے؟ آپ نے فرمایا حج وقوف عرفہ ہی ہے اور اسی عرفات کے میدان میں آیت کریمہ:
ترجمہ: آج ہم نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا۔
نازل ہوئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کے لئے مغفرت کی یہاں دعا مانگی سوائے مظالم کے سب کی مغفرت کا وعدہ کیا گیا جس کی تفصیل آئندہ آئے گی۔
جب آفتاب غروب ہو گیا تو نہایت سکون اور وقار کے ساتھ سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ کی جانب روانہ ہو گئے۔ راستہ میں کشادہ جگہ اونٹنی کو ذرا تیز کر دیتے اور تنگ جگہ میں لگام کھینچ کر رفتار کم کر دیتے ۔ راستہ میں حضرت اسامہ بن زید کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیا۔ راستہ میں ایک جگہ آپ کو پیشاب کی ضرورت پیش آگئی اتر کر پیشاب کیا اور وضوت کیا اور مغرب و عشاءدونوں نمازیں ایک اذان اور اقامت کے ساتھ ادا فرمائیں اور اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر الحرام تشریف لے گئے اور بہت دیر تک ذکر اور دعا کرتے رہے اور امت کے حق میں بھی دعا کرتے رہے یہاں مظالم کی مغفرت کا بھی وعدہ کیا گیا۔
ہجوم میں تکلیف کے خوف سے رات کو بچوں ، عورتوں، کمزوروں کو مزدلفہ سے منیٰ روانہ فرما دیا تھا اور خوب اسفار ہونے کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہوئے۔ فضل بن عباسؓ کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیا۔ راستہ میں ایک نوجوان لڑکی نے اپنے باپ کے حج بدل کا مسئلہ دریافت کیا ۔ حضرت فضل اپنی نوعمری کی وجہ سے اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگے۔ آپ نے ان کے چہرے کو دوسری طرف پھیر دیا تاکہ نامحرم کو نہ دیکھیں۔ اس لڑکی کو جواب دیا کہ تم اپنے باپ کی طرف سے حج بدل کر سکتی ہو۔ راستہ میں حضرت فضلؓ نے آپ کیلئے کنکریاں چنیں اور لوگ آپ سے ضروری مسائل دریافت کرتے رہے۔ آپ تسلی بخش جواب دیتے ۔ جب وادی محسر میں پہنچے جہاں اللہ تعالیٰ نے ابرہہ بادشاہ کو لشکر سمیت ہلاک کر دیا تو اپنی سوار ی کی رفتار کو تیز کر دیا تاکہ جلدی سے اس عذاب کی جگہ سے آگے بڑھ جائیں۔ آپ جلدی سے اس امیدان سے آگے نکل آئے اور زوال سے پہلے منیٰ میں پہنچے۔ یہاں پہنچ کر سب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی فرمائی اور نشیب کی جانب کھڑے ہو کر اس پر سات کنکریاں یکے بعد دیگرے ماریں اور ہرایک کنکری پر ”اللہ اکبر “ فرمتاے رہتے تھے۔ اب لبیک پڑھنا موقوف کر دیا ۔ اس کے بعد منی میں قیام گاہ پر تشریف لائے اور ایک بسیط جامع مانع خطبہ پڑھا جس میں بہت سے دینی اہم امور کو بیان فرمایا ۔ اس خطبہ کو انشاءاللہ ہم آگے بیان کریںگے۔
اس کے بعد قربانی کے تریسٹھ اونٹ ذبح فرمائے۔ اس وقت آپ کی عمر شریف 63سال کی تھی۔ تو گویا اپنی عمر کے ہر سال کے مقابلہ میں ایک ایک اونٹ ذبح کیا۔ یہ اونٹ ذبح ہونے میں ایک دوسرے سے جلدی چاہتے تھے۔ قربانی کے کل سو اونٹ تھے ۔ 63کو خود اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اور باقی کو حضرت علیؓ نے ذبح کیا ۔ قربانی کرنے کے بعد آپ نے اعلان کرادیا جس کا جی چاہے ان میں گوشت کاٹ کاٹ کر لے جائے۔ آپ نے اظہار شکر اور ضیافت اللہ کی قدر دانی کی غرض سے ہر جانور میں تھوڑا تھوڑا گوشت منگوایا اور اس کو ایک دیگچی میں پکوایا اوران کا شوربا نوش فرمایا تاکہ ہر ایک اونٹ کو آپ کے نوش فرمانے کی سعادت حاصل ہو جائے۔ اپنی ازدواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی ۔ قربانی سے فارغ ہونے کے بعد حجامت کرائی ان بالوں کو صحابہ کرام میں تبرکاً تقسیم فرمادیا۔ اس کے بعد احرام کے کپڑے اتار کر سلے ہوئے کپڑے زیب تن فرمائے اور خوشبو لگائی اس اثنا میں بعض صحابہ کرام ؓ نے یوم النحر کے افعال مرتبہ کے تقدیم و تاخیر کی بات دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا: کوئی گناہ و حرج نہیں۔ ظہر کے وقت طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور سوار ی پر بیت اللہ شریف کا طواف کیا آپ کے دست مبارک میں ایک چھوٹی لکڑی تھی۔ اس سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے۔ طواف سے فراغت کے بعد حضرت عباس ؓ نے آپ کو نبیذ پلایا پھر آپ زمزم پر تشریف لے گئے اور زمزم نوش فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ اگرمجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ میری اتباع کی وجہ سے لوگ تمہیں پریشان کریں گے اور تم پر غالب آجائیں گے تو میں خود اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچ کر زمزم پیتا۔ اس کے بعد منی واپس تشریف لے گئے اور تین روز تک وہاں قیام فرمایا روزانہ زوال آفتاب کے بعد تینوں جمرات کی رمی کیاکرتے تھے۔ ہر جمرہ پر سات کنکریاں پھینکتے اور ہر ایک کنکری پر اللہ اکبر کہتے۔ جمرہ اولیٰ اور ثانیہ کی رمی کے بعد ذرا ہٹ کر صاف جگہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کرتے اور بہت دیر تک ذکر الٰہی اور تسبیح و دعا میں مشغول رہتے۔ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد نہ وہاں کھڑے ہوتے اور نہ دعا کرتے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ سورئہ اذا جاءنصر اللہ الخ ایام تشریف میں منی میں نازل ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔
13ذوالحجہ سہ شنبہ کو زوال کے بعد آخری رمی سے فارغ ہو کر منیٰ سے روانہ ہوئے اور مکہ مکرمہ کے باہر محصب میں جس کو بطحی اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں ایک خیمہ میں قیام فرمایا اور چار نمازیں ظہر سے عشاءتک وہاں ادا فرمائیں۔ عشاءکے بعد تھوڑی دیر اس میں آرام فرمایا اور حضرت عائشہ ؓ کو عمرہ کے لئے ان کے بھائی کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے تنعیم بھیج دیا۔ حضرت عائشہ ؓ عمرہ سے فارغ ہو کر آپ کے پاس پہنچیں۔ آپ نے طواف و داع کیا۔ صبح کی نماز مکہ مکرمہ میں پڑھائی۔
14ذوالحجہ چہار شنبہ کی صبح کو صحابہ کرام ؓکے ساتھ مدینہ طیبہ روانہ ہو گئے۔ 18ذوالحجہ غدیر خم پر اہل بیت کے احترام کے بارے میں ایک بلیغ خطبہ دیا۔ ذوالحلیفہ میں پہنچ کر شب کو وہاں قیام فرمایا اور صبح کے وقت معرس کے راستہ سے مدینہ منورہ میں” اٰئبون عابد ون لربنا حامدون “پڑھتے ہوئے رونق افروز ہوئے ۔ صلی اللہ علیہ وسلم
یہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک حج کے مختصر واقعات ہیں آئندہ انشاءاللہ حج کی ترتیب میں مفصل بیان آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  حج کے دوران جن کاموں کے کرنے کی محرم کو رخصت ہے