imf-islamabad

آئی ایم ایف پیکج سے معیشت میں استحکام آئے گا:مشیر خزانہ

EjazNews

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر اور ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پیکج سے معیشت میں استحکام آئے گا، آئی ایم ایف بورڈ کے کسی رکن نے پاکستان کے لیے امداد کی مخالفت نہیں۔ ان کا کہنا تھا اس کے بعد دیگر مالیاتی ادارے بھی پاکستان کو فنڈز دیں گے ، ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی جولائی سے شروع ہو رہی ہے۔
مشر خزانہ کا کہنا تھا کہکاروباری طبقے کے لیے گیس، بجلی اور قرضوں پر سسڈی دی ہے، اقدامات کاروباری لاگت میں کمی کے لیے کیے گئے ہیں۔ ہمارا مقصد ہے کاروباری پہیہ چلے اور برآمدات بڑھیں۔ چاہتے ہیں کہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہو جہاں آمدنی میں اضافے کو بڑھایا جائے۔کوشش ہو گی ڈالر کمانے کی اہلیت بڑھائی جائے جو برآمدات سے بڑھے گی۔ اخراجات میں اضافہ غریب طبقے اور ترقیاتی کاموں کیلئے ہوگا۔ان کا کہنا تھا3سو یونٹ استعمال کرنے والوں پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگے گا۔ پہلے مرحلے میں انڈسٹریل کنزیومر کی نشاندہی کر کے نوٹس دیا جائے گا۔3لاکھ سے زائد کنزیومر کو نان فائلر ز ہونے پر نوٹس دیا جائے گا۔
پراپرٹی ٹیکس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سندھ اور پنجاب کا ڈیٹا ہمارے پاس آگیا ہے ایک کنال سے زائد جس کے پاس گھر ہے اسے ٹیکس دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ 8جولائی تک آئی ایم ایف ایک ارب ڈالر جاری کرے گا اس کے بعد سالانہ 2ارب ڈالر ہر سال آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہوں گے۔ اس پر شرح سود 3فیصد سے کم ہوگی۔۔
اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ37ہزار لوگوں نے خود کو رجسٹرڈ کی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ۔ سکیم سے 70ارب روپے کے ٹیکس حاصل ہوئے ہیں۔ ایمنسٹی سکیم میں 3ہزار ارب روپے کے اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سال 2019ءمیں پاکستان میں رونما ہونے والے اہم واقعات