FATF

فنانشن ایکشن ٹاسک فورس کیا ہے؟

EjazNews

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا قیام جی 7ممالک نے 1989ءمیں کیا ،اس کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی منی لانڈرنگ پر قابو پانا تھا۔ 2001ءمیں نائن الیون کے بعد منی لانڈرنگ کے ساتھ دہشت گردی کی شقیں بھی شامل کر دی گئیں۔ ابتدائی طور پر اس ٹاسک فورس کی تشکیل نے جی 7ممالک ممالک میں کلیدی کردار ادا کیا،اس کی بنیادی پالیسیاں منی لانڈرنگ سے جی 7کی پالیسیاں ہی ہیں۔ بعد ازاں اس میں انسداد دہشت گردی کا مینڈیٹ بھی شامل ہوگیا۔ اس کا صدر مقام پیرس میں ہے، آپ اسے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے بین الحکومتی تنظیم بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کی 2سرکاری زبانیں ہیں فرانسیسی اور انگریزی ۔ اس کے علاوہ کئی تنظیموں نے بھی اس سے الحاق کر رکھا ہے جس میں ایشیاءپیسفک گروپ برائے انسداد منی لانڈرنگ، کیربین فنانشن ایکشن ٹاسک فورس، کونسل آف یورپ ، کمیٹی آف ایکسپرٹس آن دی ایویوالیشن آف منی لانڈرنگ اور اس کے علاوہ ایک دو تنظیمیں شامل ہیں۔ اس ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ کی سزا کے لیے 40سفارشات مرتب کیں جس کی رو ح سے جائیدادوں اور منی لانڈرنگ کے اکاﺅنٹس کی ضبطگی بھی شامل ہے۔ تنظیم نے اپنا ایک فنانشن انٹیلی جنس یونٹ قائم کر رکھا ہے جو اسی حوالے سے تمام معلومات اکٹھی کرتا ہے اور جب اس کے پاس مناسب اور ٹھوس مواد جمع ہو جائے تو وہ کسی بھی ملک کو بلیک لسٹ بھی کر سکتا ہے اور اسے گرے فہرست میں بھی شامل کر سکتا ہے۔ یہ ٹاسک فورس گاہے بگاہے ان ممالک کے بارے میں اپنی اپ ڈیٹس جاری کرتی رہتی ہے جنہیں بلیک لسٹ کیا گیا ہو یا جو گرے فہرست میں شامل ہوں یا جو تعاون نہ کریں۔ تاہم یہ ٹاسک فورس معیار پر پورا اترنے والے ممالک کو بلیک لسٹ یا گرے فہرست سے خارج کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ پانامہ پیپرز میں جن جن لوگوں کے نام آئے ان میں سے اکثر ممالک انسداد منی لانڈرنگ کے لیے بنائی گئی اس تنظیم کے ممبر ہیں ۔دوسرے ممالک سے اپنے ملک میں خفیہ طو رپر سرمایہ کاری کروانے والے بھی اس تنظیم کے ممبر ہیں۔
فنانشن ایکشن ٹاسک فورس کے اہم رکن ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا ، چین ، خلیجی تعاون کی کونسل، فرانس ، جرمنی ، یورپی یونین، بلیجیم، بھارت، اٹلی، جاپان، روس، جنوبی افریقہ، ترکی، سویڈن ، ناروے، ملائیشیا، لکسمبرگ ،ارجنٹائن، برازیل ، آسٹریا، فن لینڈ، یونان ،آئس لینڈ، آئر لینڈ، کنگڈم آف دی نیدر لینڈز، میکسیکو، نیوزی لینڈ، سپین اور سوئزرلینڈ ہیں۔ ان کے علاوہ 8ایسوسی ایٹ ممبر بھی ہیںجبکہ 2015ءمیں آئی ایم ایف، اقوام متحدہ، عالمی بینک اور سعودی عرب سمیت 25عالمی ممالک اور اداروں نے بھی بطور مبصر شرکت کی تھی ۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے بڑھتے ہوئے مسائل وجہ کیا ہے؟
تنظیم کے ارکان ایک گھول میز کانفرنس میں اس بات کا فیصلہ کرتی ہےکہ آیا کس ملک کو کیا حیشیت دینی ہے

2000ءمیں اس ادارے نے اپنی پہلی رپورٹ میں کے مین آئر لینڈ کو انسداد منی لانڈرنگ کے لیے بنائے جانے والے قوانین کا چیمپیئن قرار دے دیا۔ یہی نہیں بلکہ کیربین فنانشن ایکشن ٹاسک فورس کے صدر کا عہدہ بھی چیئرمین آئر لینڈ کے پاس ہے۔ جن جزائر میں اربوں ڈالر چھپے ہوئے ہیں وہ سب کے سب اس کے ممبر ہیں۔ 2006ءمیں جاری کر دہ فہرست میں صرف میانمار کو عدم تعاون کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا اور اس فہرست کے اجراءسے پہلے ہی میانمار اور نائیجریا سمیت کئی ممالک کو نکال دیا گیا۔ آخر کار ازبکستان، ایران اور قبرص جون 2008ءکی فہرست میں شامل ہوئے جبکہ 2012ءکی فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں تھا اور اس وقت کوئی 19ممالک کی فہرست جاری کی گئی جس میں بنگلہ دیش، الجزائر ، انگولا، ارجنٹائن، برونائی، کمبوڈیا، منگولیا، مراکش، نیپال، نیپرا گوا، زمبابوے، وینزویلا، مراکش اور تاجکستان بھی شامل تھے۔ دیگر 4ممالک میں قوانین بہتر بنائے مگر معیار پر پھر بھی پورے نہ اترے۔ہائی رسک ممالک میں ایران اور شمالی کوریا بھی شامل ہیں۔ بعدازاں شام، ترکی ،تنزانیا، سری لنکا ،میانمار ، کینیا، گھانا، ایتھوپیا، کیوبا، بولیویا، اور تھائی لینڈ کے نام بھی شامل کیے گئے۔ پاکستان کا نام اس فہرست سے 2014ءمیں خارج ہوا اور پچھلی فہرست میں ایران، شمالی کوریا کے نام ہی شامل رہ گئے۔
قانونی طور پر ان ممالک پر کوئی پابندی نہیں کہ وہ ان دیگر ممالک کے ساتھ کاروبار بند کر دیں لیکن اس کی اہمیت اخلاقی ہے۔ خود یورپی یونین سمیت کئی ممالک گرے اور بلیک لسٹ میں شامل رہے ہیں۔ ترکی اب اس کا ممبر بن چکا ہے، کسی زمانے میں یہ خود اس ٹاسک فورس کے ضابطوں کا شکار تھا۔ اسی طرح رشین فیڈریشن، پرتگال، ناروے، ملائیشیا، سپین آج اس کے رکن ہیں پچھلے سالوں میں یہی ممالک اس کی منفی فہرست میں شامل تھے۔
یہاں میں اس بات کا ذکر بھی کر دوں کہ پاکستان سمیت کئی ممالک پر پہلے بھی اسی فہرست میں شامل کیا گیا، میانمار تو پاکستان سے بھی زیادہ اس تنظیم کا نشانہ بنامگر عالمی برادری میانمار کی منی لانڈرنگ ،اینتھنک کلنگ ہر قسم کے معاملے پر خاموش ہے ،حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی بھی میانمار کیخلاف رپورٹ دے چکی ہے۔
یہ دیکھا جانا چاہیے کہ امریکہ نے کن وجوہات کی بنا پر پاکستان کا نام اس فہرست میں شامل کیا۔ بنیادی طور پر پاکستان سے کسی صورت میں کوئی سرمایہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی کوئی سرمایہ کسی دہشت گرد کے ہاتھ میں لگا۔ ہاں منی لانڈرنگ ہوئی اربوں ڈالروں کی ہوئی۔ ان میں کئی ارب ڈالر خلیجی ممالک کے رئیل سٹیٹ انڈسٹری میں خرچ ہوئے تو اربوں ڈالر سے لندن اور برطانیہ کے دوسرے شہروں میں جائیدادیں خریدیں گئیں پاکستانیوں نے منی لانڈرنگ کر کے اربوں ڈالر امریکہ کی کئی ریاستوں میں صرف کیے۔ اس سے بھی کہیں زیادہ پیسہ سوئزرلینڈ اور پانامہ پہنچا۔ خود ٹرمپ کا ڈالر پانامہ پیپرز جیسے کئی اداروں میں محفوظ ہے اور سینکڑوں دفعہ یہ نام ان فہرستوں میں شامل ہے۔ ٹیکس چوری سے لے کر سرمائے کی لانڈرنگ تک کے معاملات امریکی، یورپی ، روسی اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کیے۔ پاکستان سے سرمایہ چوری چھپے سمگل ہوا، برطانوی ادارے اس سرمائے کو تحفظ دے رہے ہیں تو کیا برطانیہ کا نام فہرست میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی ایک تفتیشی ٹیم نے برطانیہ کے زیر کنٹرول برٹش ورژن آئر لینڈ سمیت بعض جزائر کو خطوط ارسال کیے جہاں سے خاطر خواہ جواب نہ ملا۔ بہت توقع تھی کہ برطانیہ جیسے جمہوری ملک پاکستان جیسے کمزور ملک کو اس کا حق دلوانے کے لیے عوام کا ساتھ دیں گے۔ لیکن وہاں سے بھی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو ٹھینگا دکھا دیا گیا۔ جہاں تک دہشت گردی سے فنانس کا تعلق ہے تو پاکستان سے دہشت گردی کی فنانسنگ کا اب تک کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی پاکستانیوں نے دہشت گردی کے لیے سرمایہ باہر سمگل کیا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، پاکستان میں کئی بموں کے دھماکے اتنے خوفناک اور ہائی ٹیک تھے کہ یہ کسی ملک کے ملوث ہوئے بغیر ممکن ہی نہ تھے۔ یہ پاکستان کے سرد برفانی پہاڑوں میں رہنے والے طالبان نام کے لوگ بنا ہی نہیں سکتے۔ اسی طرح کا بم ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں پٹھا تھا۔ اسے آر ڈی ایکس کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے کئی دھماکوں میں استعمال ہوئے اس کے پیچھے کون سی طاقتیں تھیں کس ملک کا سرمایہ تھا کلبھوشن کو تو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا لیکن بھارت عالمی اداروں میں چیخ چیخ کر اس کی بے گناہی کے راگ الاپتا ہے۔ اسی طرح افغانستان سے آنے والی فون کالز پکڑیں گئیں جن میں دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی کر نے کے لیے کام کی ہدایات دے رہے تھے۔ ان دہشت گردوں کو پیسہ دینے والے خفیہ ہاتھ پاکستان سے باہر موجود تھے۔ ان ممالک پر کیوں پابندی عائد نہیں کی گئی ۔ کئی ممالک ایسے ہیں جن کا نام گر ے اور سیاہ فہرست سے بھی کسی بدتر لسٹ میں شامل ہونا چاہیے یہ علاقہ بدترین انتشار کا شکار ہیں۔ ان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان ممالک کو کیوں چھوٹ ملی۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا سوال پوچھنا جرم ہے؟